خدا بخش گاؤں کی مسجد میں اما م تھا۔ اس کے چار بچے اور بیوی تھی ۔ بیوی ہر رات اس کو باتیں سناتی کہ تم منحوس ہو۔

خدا بخش گاؤں کی مسجد میں امام تھا وہیں اس نے ایک مدرسہ بھی کھول رکھا تھا۔ جہاں دن میں چھوٹے چھوٹے بچے اس سے قرآن پاک پڑھنے آتے تھے اور رات کو لوگ دین کی با تیں سیکھنے آتے تھے اسی طرح وہ اپنے رزق روزی سے بے نیاز قنا عت کی زندگی گزار رہا تھا۔ وہ مالدار نہیں تھا مگر اس کے چاروں بچے اور بیوی اچھی زندگی گزار رہے تگے اس کی زندگی میں روزانہ کچھ ایسی تلخ گھڑیاں بھی آتی تھیں کہ وہ زندگی سے بیزار سا ہو جا تا تھا جب بچے سو جا تے اور آنے جانے والوں کا سلسلہ ختم ہو جا تا تو وہ اور اس کی بیوی آپس میں با تیں کیا کرتے

کچھ دیر نہ گزری تھی کہ اس کی بیوی غربت کا رونا رونے لگتی خدا بخش سے روز کہتی گاؤں میں آپ سے کم علم رکھنے والے اچھی زندگی گزار رہے ہیں اور عزت سے زندگی بسر کر رہے ہیں غربت کے اسیر ہیں خدا بخش سوچنے لگتا کہ کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ میں مسجد مدرسہ کو چھوڑ کر ذمہ داری کرنے لگوں اور ذمہ داروں کی طرح عیش کی زندگی بسر کرنے لگوں وہ اکثر بیوی سے ایسی باتیں کر تا مگر پھر کچھ دیر بعد خاموش ہو جا تا تارہ وہ اکثر اس سے کہتا اللہ تعالیٰ نے اچھی خاصی آمدنی دی ہوئی ہے میرا پیشہ شریفانہ ہے اور اپنے علم کی وجہ سے گاؤں میں بڑی عزت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سب کچھ تو دے رکھا ہے کس چیز کی کمی ہے اس کے باوجود بیوی کے رات دن کے تعنوں نے اسے زندگی سے کچھ مایوس کر دیا تھا تعنوں نے اسے زندگی سے کچھ ما یوس کر دیا تھا

وہ تمنا کرنے لگتا کاش اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسمان سے سو نا بر سا دے تا کہ وہ بھی زمینوں اور باغات کا ما لک بن جا ئے۔ وہ سوچنے لگی آج مجھے سب سے پہلے شہر جا کر اپنے لیے اچھے سے کپڑے لانے چاہییں جو کچھ روپیہ تھا وہ لے کر شہر کی طرف چل پڑی۔ جب خدا بخش سو کر اٹھا تو دیکھا کہ بیوی کا کچھ پتہ نہیں ہے گھر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر وہ نہ ملیں وہ سوچنے لگا کہ بیوی تو ہاتھ سے گئی وہ سمجھ گیا کہ رات کی دعا کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی بیوی بڑی پاکدامن ہے کبھی غلط قدم نہیں اٹھا سکتی۔ پھر بھی وہ سخت حیران تھا کہ یہ ہوا کیا بیوی کہا گئی او رکیوں گئی۔ خدا بخش کا دل بڑا بے چین تھا وہ سب کچھ چھوڑ کر ایک کتاب اٹھا کر پڑھنے لگا آنسوؤں کی بارش میں اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔

اگر وہ دعانہ کر تا تو یہ دنیا کی عام عورتوں کی طرح ہوتی اور اس سے کوئی بھی نہ جا نتا کیا آپ متقی پر ہیز گار ہزاروں نوابوں سے بہتر نہیں ہوتا؟ اس کی سوچوں کو توڑ کر بولی: اوبد صورت پڈھے میرے حسن و جمال کو تیری خدمت گزاری کھا گئی ہے روٹیاں پکاتے پکاتے میری ساری خوبصورتی ختم ہو گئی ہے ۔ ہا ئے میں م ر جاؤں میرے ماں باپ نے کس بد نصیب کے ہاتھ میں میرا ہاتھ دیا۔ خدا بخش نے دیکھا کہ بیوی کے حسن و جمال کے ساتھ زبان بھی تیز ہو گئی ہے جو کبھی نہ تھی میں جب اپنے ماں باپ کے گھر سے آئی تھی تو کتنی حسین تھی یہ ساری زندگی میں بر کت نہیں ما نجتی رہوں گی اسے بھی تو شرم نہیں آتی ایسی حسین عورت سے یہ بات کہتے ہوئے کیا ایسے حسین ہاتھ بر تن مانجنے کے لیے ہیں نہ با با نہ اب تو کام مجھ سے نہیں ہوتے کبھی تو سوچ سمجھ کر بات کر لیا

کر یا ساری عمر بے وقوف رہے گا ساری زندگی میں ایک دن خوشی کا آیا تو وہ بھی تم نے چین سے نہیں جینے دیا اسی طرح کی باتیں کرنے کا کچھ تو خیال کر لیا میرا ہر وقت بک بک کر تا رہتا ہے خدا بخش میں جب بیوی کی یہ با تیں سنیں تو وہ بو لا کہ بی بی تو ہاتھ سے گئی کسی نے سچ کہا ہے کہ عورت کی ذات بے وفا ہوتی ہے خدا بخش کے سوا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ د ریا کے کنارے جنگل کی طرف جا ئے اور دوسری گولی آسمان کی طرف اچھا لے اور یہ دعا کر یں کہ اس کی سر کش بیوی گائے بن جا ئے دوسرے دن اس نے شیشے کی گولی آسمان کی طرف اچھال کر دعا کی کہ میری بیوی گائے بن جا ئے دعا کر کے جب وہ گر واپس آیا تو گھر میں سکون تھا بیوی خاموشی سے بستر پر لیٹی تھی کہ اچا نک اسے نیندآ گئی صبح ہوئی تو وہ سب سے پہلے اٹھا۔ بیوی کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ گائے کہ جیسے بنا تھا۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *