اسرائیل کا بادشاہ ” عخیب” اور ا س کی ملکہ ایزابل نے عالیشان مندر تعمیر کیے جن کو لوگ دیکھ کر بال دیوتا کی عبادت کر نے لگے

حضرت سلیمان ؑ کے دور میں بنی اسرائیل کی سلطنت اپنے عروج پر تھی حضرت سلیمان ؑ کی و ف ا ت کے بعد ان کے بیٹے “احبام ” کے دور میں سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی جنو بی فلسطین میں یہود یا نام کی ایک ریاست قائم ہوئی جب کہ شمالی فلسطین میں اسرائیل کے نام سے ایک الگ ریاست قائم ہو ئی ان دنوں ایزا یعنی موجود ہ لبنان کی شہزادی ایز ابل کی خوبصورت کے چر چے چار و اطراف میں عام تھے چنانچہ اسرائیل کا بادشاہ جس کا نام عخیب تھا اس سے شادی کر کے اس کو اسرائیل لے آیا ان دنوں لبنان اور شام میں بال کی عبادت کی جا تی تھی بال ایک قدیم دیوتا تھا اسرائیل کا بادشاہ عخیب اول درجے کا ذن مرید ثابت ہوا۔ اور اپنی ملکہ اور بیوی ایزابل کی باتوں میں آکر بال کی عبادت شروع کر دی

عخیب نے اسرائیل کے صدر مقام سا مر یا میں با ل کا بہت بڑا اور عالی شان مندر تعمیر کیا۔ اس واقعے کے بعد اہل ایمان کے حوصلے کا فی پست ہو چکے تھے وہ دیکھ چکے تھے کہ ب ت پرست ملکہ ایزابل کا بادشاہ پر کتنا اثر ہے وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھے انتہائی مغرور تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس کو بنی اسرائیل پر اپنا نبی مبعوث کیا حضرت الیاس جلات شہر کے رہنے والے تھے بائبل میں آپ کا تذکرہ ایلیا کے نام سے موجود ہے۔ بال کے مندر میں خوب چڑھا وے چڑھا ئے گئے اس کے نام پر خوب قربا نیاں کی گئی مگر اس کا نتیجہ بے سود نکلا قحط اتنا بڑھ گیا

کہ لوگ لوٹ مار پر اتر آ ئے یہاں تک کہ بادشاہ کے محل کا گھراؤ کر لیا اور اس کے کچھ حصوں کا آ گ لگا دی گئی اب ابدشاہ فکر مند ہوا اور اس نے حضرت الیاس کو تلاش کر کے آپ سے بارش کی دعا کی درخواست کی لیکن یہ بات ملکہ ایزابل اور بال کے پجاریوں کو نہا یت ہی نا گوار گزری۔ اور یوں یہورام اور اس کے ساتھ ساتھ سارا فلسطین بال پ ر ست بن گیا حضرت الیاس نے ان کو سمجھانے کی آخری کو شش کی مگر یہورام اور عخیب دونوں نے آپ کی بات نہایت حقارت کے ساتھ تھکر ا دی اب عذاب کی باری تھی اسرائیل اور یہو دیا کی سرحدوں پر وحشی قبائل آباد تھے جو کبھی کبھار سرحدوں پر لوٹ مار کیا کرتے تھے لیکن اب وہ اتنے زیادہ طاقت ور ہو چکے تھے

کہ انہوں نے یہو دیا پر چڑہائی کر دی سارے شہر کو لوٹ مار کر کے آ گ لگا دی گئی سارے شہر کو تخت و تاراج کر دیا عخیب اور اس کے بیٹے کو ق ت ل کر دیا گیا جبکہ ملکہ ایزابل جس کو اپنی طاقت اور حسن پر بہت غرور تھا جب وہ مری تو اس کے جسم میں ایک نیزا پیوست تھا پھر لوگوں نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بہت سارے جنگلی کتے اس کی ل ا ش ن و چ ن و چ کر کھا رہے تھے یہ وہی بد عا تھی عزیز دوستو جو بزرگ یر میا نے اپنی شہادت کے وقت دی تھی اس کی م و ت کے وقت نہ تو اس کا دیوتا بال اس کے کام آیا اور نہ ہی اس کا لا حو لشکر اور نہ ہی اس کا حسن ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *