۔ حاجی صاحب طوائف کی وجہ سے بڑے پریشان تھے کیونکہ اس کے گھر میں ہر وقت اوباش اور آوارہ قسم کے آدمیوں کی بھیڑ لگی رہتی

یک حاجی صاحب کے پڑوس میں ایک طوائف کا گھر تھا ۔ حاجی صاحب طوائف کی وجہ سے بڑے پریشان تھے کیونکہ اس کے گھر میں ہر وقت اوباش اور آوارہ قسم کے آدمیوں کی بھیڑ لگی رہتی ۔ طوائف ان کے سامنے رقص کرتی اور وہ اپنے باپ کی کمائی اس پر لٹاتے تھے ۔ حاجی صاحب بہت مجبور تھے اور اپنا گھر بدل بھی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی ان اوباش نوجوانوں کو منع کر سکتے تھے کیونکہ وہ بہت شر پسند لوگ تھے ۔

ایک رات طوفانی بارش ہوئی اور حاجی صاحب کے گھر کی دیوار ہی گر گئی ۔ وہ بہت پریشان ہوۓ اور صبح ہوتے ہی ایک مستری کی تلاش میں نکل پڑے ، کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ دوپہر کے وقت وہ اوباش لڑکے طوائف کے گھر ضرور آئیںگے اور دیوار نہ ہونے کی وجہ سے حاجی صاحب کے گھر جھانکیں گے ۔ حاجی صاحب مستری اور مزدور کی تلاش میں شہر کے چوک میں جا پہنچے اور دیکھا کہ وہاں بہت سارے مزدور ایک قطار میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک مزدور نے اپنے ساتھ تھیلا بھی رکھا ہوا تھا ۔ حاجی صاحب نے اس سے کہا کہ میرے گھر کی دیوار گر گئی ہے ، گارے اور مٹی کا کام ہے ۔ کیا تم مزدوری کرنا پسند کرو گے ! مزدور نے کہا کہ میں تین شرائط پر آپ کے ہاں مزدوری کروں گا ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ تم مجھ سے میری صحت کے حساب سے کام لو گے , دوسری شرط یہ ہے کہ تم میری مزدوری کا پورا پورا معاوضہ ادا کرو گے اور مجھے اس معاملے میں مایوس نہیں کروگے تیسری اور آخری شرط یہ ہے کہ جب مسجد میں اذان ہو گی اس وقت نماز پڑھنے کا مجھے وقت دو گے ۔

حاجی صاحب نے اس کی تینوں شرائط مان لیں اور اسے اپنے ساتھ گھر لے آۓ ۔ مزدور نے دیوار کی تعمیر کا کام شروع کیا اور شام سے پہلے ہی دیوار مکمل کر لی ۔ حاجی صاحب عصر کی نماز ادا کر کے گھر واپس آۓ تو مزدور وہاں موجود نہیں تھا ۔ وہ جا چکا تھا ۔ حاجی صاحب حیران تھے کہ اس نے تین دنوں کا کام ایک ہی دن میں کر لیا اور بغیر معاوضہ لیے گھر سے روانہ ہو گیا ۔ دوسری صبح ہوتے ہی حاجی صاحب نے ہاتھ میں کچھ درہم لئے اور مزدور کی تلاش میں ای چوک پر جا پہنچے مگر انہیں وہ مزدور نظر نہ آیا ۔ اچانک مزدوروں کیقطار کے آخر میں ان کی نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنے اوپر چادر ڈال کر لیٹا ہوا ہے ۔ جب انہوں نے چادر ہٹائی تو وہی مزدور تھا اسے بہت تیز بخار تھا اور وہ تڑپ رہا تھا ۔ حاجی صاحب نے اس کے ہاتھ میں درہم دیتے ہوۓ کہا کہ یہ تمہارا معاوضہ ہے جو تم نے میرے گھر کا کام کیا ہے ۔ مزدور نے کہا کہ میری وہ بات یاد کرو جب میں نے تم سے کہا تھا کہ میرا پورا پورا معاوضہ ادا کرنا پڑے گا ۔ پھر اس مزدور نے ایک انگوٹھی اور خط حاجی صاحب کے حوالے کیا اور کہا کہ فلاں ریاست کے حکمران کو یہ دے دینا ۔ یہ بات منہ سے نکالتے ہی اس کی روحپرواز کر گئی ۔ حاجی صاحب کو بہت افسوس ہوا اور اس نے اپنے خرچے پر ہی اس کے کفن دفن کا بندوبست کیا اور پاس ہی قبرستان میں دفن کر دیا ۔

اس نے حاجی صاحب کو جو ذمہ داری سونپی تھی اس کی ان کو فکر ہونے لگی ۔ پھر وہ انگوٹھی اور خط لے کر اس ریاست کی جانب روانہ ہوۓ ۔ دو دن کے سفر کے بعد وہ اس ریاست میں جا پہنچے اور اس حاکم کی حویلی میں داخل ہوۓ ۔ جب انہوں نے حاکم کو انگوٹھی اور خط دیا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ جب حاکم نے خط پڑھا تو اسے چومتا ہوا حاجی صاحب سے پوچھنے لگا کہ یہنوجوان تجھے کہاں ملا تھا اور اب یہ کہا ہے ۔ اس نے حاکم کو بتایا کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے ، یہ سنتے ہی حاکم غش کھا کر گر پڑا ۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ حاجی صاحب کی منتیں کرنے لگا کہ مجھے اس کی قبر پر لے چلو , وہ میرے جگر کا گوشا تھا ۔ میرا اکلوتا بیٹا تھا ۔ جوانی کے نشے میں وہ ہر رات شراب اور مستی میں گزار دیتا تھا ۔ میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی اس نے اپنے اوباش دوستوں کی محفل نہ مچوڑی اور گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا گیا ۔ لیکنوہ ایک بار مسجد کے پاس سے گزرا تو امام مسجد خطبہ پڑھنے میں مصروف تھا اس خطبے میں امام صاحب قرآنی آیات کی تفسیر بیان کر رہے تھے ، وہ تفسیر سنتے ہی خدا کے خوف سے میرا بیٹا کانپنے لگا اور پھر وہ گھر سے بھاگ گیا ۔ میں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا مگر افسوس کہ وہ مجھے نہ مل سکا ،

جب ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو میں مایوس ہو گیا اور اس کو تلاش کرنا چھوڑ دیا ۔ آج دو سال کے بعد تم اس کی خبر لے کر آئے ہو مگر افسوس کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *