یہودی حضرت عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا کیوں کہتے ہیں

حضرت عزیر علیہ السلام ، حضرت ہارون ؑ کی اولاد اور بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کو حضرت سلیمان ؑ کے بعد اور حضرت زکر یا ؑ سے پہلے مبعوث فر ما یا یہ چھٹی صدی قبلِ مسیح کی بات ہے۔ جب بنی اسرائیل کی سر کشی ، نا فر ما نیاں اور مشر کا نہ حر کتیں سے تجاوز کر چکی تھیں ہر طرف ظلم و جبر فساد اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے پیغمبروں کے ذریعے بنی اسرائیل کو متنبہ فر ما یا کہ اپنی ان قبیح حر کتوں سے با ز آ جا ئیں ورنہ گزشتہ قوموں کی طرح انہیں بھی عذاب الٰہی کا سا منا کر نا ہو گا با ر بار کی تنبیہہ کے باوجود، جب ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور ان کی بد اعما لیاں روز بروز بڑھتی چلی گئیں تو قو مِ عما لقہ کا ایک ظالم و سفا ک بادشاہ جس کا نام ” بخت نصر ” تھا۔

بابل سے ایک بڑی فوج کے ساتھ آندھی و طوفان کی طرح راستے کی حکو متوں کو پا ما ل کر تا فلسطین کی طرف بڑھا اور تھوڑے ہی عرصے میں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو رات کے مطا بق چالیس ہزار سے زائد علماءمار ڈالے ۔یہاں تک کہ وہاں رو رات کا ایک بھی عالم زندہ نہ بچا اس کے ساتھ ہی بخت نصر نے بنی اسرائیل کے اَسی ہزار افراد کو قیدی بنا یا اور انہیں بھیڑ بکر یوں کی طرح ہنکا کر با بل لے گیا جن میں حضرت عزیر ؑ بھی شامل تھے جو اس وقت نو عمر تھے بخت نصر کے حکم پر اس کی خون خوار فوج نے بیت المقدس میں حضرت سلیمان ؑ کی تمام با قیات کو تباہ و بر باد کر دیا عظیم الشان محلات کھنڈرات میں تبد یل کر دئیے گئے۔ ہیکل ِ سلیمانی میں موجود وسیع و عریض اور نادر و نا یا ب کتب سے مز ین کتب خانہ جلا کر راکھ کر دیا جس میں تورات کے اصل نسخے بھی تھے نیز تا بوتِ سکینہ بھی کہیں غائب کر دیا گیا۔

تو رات کے مطا بق اللہ تعالیٰ نے اس ظالم و جا بر بادشاہ پر عذاب نازل کیا اور اس کی شکل مسخ کر دی حضرت عزیر ؑ ایک طویل عرصے تک دیگر اسرائیلیوں کی طرح با بل میں قید رہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے چالیس سال کی عمر میں آپ ؑ کی منصب نبوت پر سر فراز فر ما یا یہودی حضرت عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا کہنے لگے حضرت عزیرؑ کو جب با بل کی اسیر ی سے نجات ملی، تو بحکم خداوندی دو بارہ بیت المقدس تشریف لے آ ئے اس وقت تورات کا کوئی حافظ زندہ تھا اور نہ ہی تورات کا کوئی نسخہ موجود تھا آپ ؑ کو فکر لا حق ہو ئی کہ اب اللہ کے کلام کو عام لوگوں تک کیسے پہنچا یا جا ئے؟ چنانچہ انھوں نے اسرائیلیوں کو جمع کیا اور چوں کہ آپ ؑ نے بچپن ہی میں تورات حفظ کر لی تھی لہٰذا اسے ان سب کے سامنے پڑھ کر تحریر کر وا یا بعض اسرائیلی روایات میں ہے۔

کہ جس وقت انہوں نے بنی اسرائیل کو جمع کیا، سوائے حضرت عز یر ؑ کے اور بخت نصر نے تورات کے سارے نسخے جلا دئیے تھے۔ لہٰذا آپ ؑ ہمارے لیے تورات کو لکھ کر دکھا ئیے؟ حضرت عزیرؑ کے والد نے بخت نصر کے ایام میں تورات کے ایک اصل نسخے کو د ف ن کر دیا تھا اور آپ ؑ کے علا وہ کسی کو اس جگہ کا علم نہیں تھا چناں چہ حضرت عزیر ؑ ان کو لے کر اس جگہ پہنچے اور گڑھا کھود کر تورات نکالی جس کے اوراق بہت بوسیدہ ہو چکے تھے اور لکھائی بھی مٹ چکی تھی پھر آپ ؑ سب کو لے کر ایک درخت کے سارئے میں تشریف فر ما ہو ئے اتنے میں اللہ کے حکم سے آ سمان سے دو ش ع لے اترے اور آپ ؑ کے سینہ مبارک میں داخل ہو گئے او رآپ ؑ کو پوری تورات خوب یاد آ گئی۔

آپ ؑ نے نئے سرے سے تورات لکھ کر بنی اسرائیل کے حوالے کر دی ایک تو آپ ؑ نے تورات لکھی اور دوسرے آ پ ؑ کے ساتھ دو ش ع ل و ں والا معجزہ پیش آ یا جس کی وجہ سے بنی اسرائیل انھیں اللہ کا بیٹا کہنے لگے۔ حضرت ابنؐ عباس ؓ فر ما تے ہیں کہ حضرت عزیر ؑ اس آ یت کی حقیقت کے مصداق بن گئے اور ہم آپ کو لوگوں کے لیے نشانی بنا دیں یعنی بنی اسرائیل کے لیے اوریہ نشانی اس طرح تھی کہ آپ ؑ جب اپنے بیٹوں اور پوتوں کے ساتھ بیٹھتے تو وہ بوڑھے لگتے اور آپ ؑ با لکل جوان ، کیوں کہ آپ ؑ کی وفات چالیس برس کی عمر میں ہوئی اور ایک سو سال بعد جب اٹھے تو پھر وہی عمر تھی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *