یونیورسٹی میں آنے والی لڑکیاں جب گھر سے نکلتی ہیں

یونیورسٹی میں آنے والی لڑکیاں جب گھر سے نکلتی ہیں تب مکمل پردے میں نکلتی ہیں جیسے ہی کلاس روم میں داخل ہوتی ہیں اپنا پردہ کھول دیتی ہیں یعنی عبایا اتار کر آس پاس کے ماحول سے بےنیاز ہو کر اپنے ڈسک پر براجمان ہو جاتی ہیں انہیں لگتا ہے کہ جو لڑکے ہمارے کلاس میٹ ہیں وہ ہمارے بھائیوں جیسے ہیں۔

ہمیں بہنوں کی نظر سے دیکھیں گے لیکن وہ یہ بھول جاتی ہیں بھائی تو وہ ہوتا ہے جو آپ کی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے جس سے خون کا رشتہ ہوتا ہے ایک نا محرم بندا آپ کو بہن کی نظر سے تب دیکھے گا جب آپ اسے بہن جی لگیں گی اگر آپ اسکو کسی فلم کی ہیروئن نظر آئیں گی وہ آپ کو بہن کی نظر سے نہیں بلکہ ایک معشوقہ کی نظر سے دیکھے گا۔ اور آپ بھی اسی کو بھائی کی نظر سے دیکھیں گی جو آپ کو بھائی جان لگے گا جو آپ کو کسی فلمی ہیرو جیسا لگے گا آپ اسے بھائی کی نہیں بلکہ ایک عاشق کی نظر سے ہی دیکھیں گی لفظ سخت ہیں لیکن سچ ہیں آپ جتنا مرضی نا محرم کی قربت سے بچ لیں شیطان آپ کو گمراہ کر کے ہی دم لیتا ہے یہ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا رواج آپ کو کیا لگتا ہے یہ گھروں سے یا دینی مدارس سے نکلا ہے ہرگز نہیں یہ لڑکیوں اور لڑکوں کی اکھٹی کلاسس سے نکلا ہے اور انتہائی شرم کی بات ہے پاکستان کی اکثریت اس گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کے چکر میں پڑ کر اپنے آپ کو تہذیب یافتہ بتا رہی ہے یہ میرا جسم میری مرضی یہ کافر کی سازش نہیں ہے یہ گندگی یونیورسٹیز کی پیداوار ہے لیکن ہمیں اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں ہے ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں اپنے آپ کو یا اپنے ماں باپ اپنے رب کو تو یاد رکھنا آپ جس کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں غلط کر رہیں اور اپکا انجام بہت درد ناک ہوگا جہنم کے جلاد شرم گاہوں سے گھسیٹ گھسیٹ کر آپ کو آگ میں پھینکیں گے اور اس وقت اپکا کوئی مددگار نہیں ہوگا پڑھائی کے نام پر بےحیائی کو بڑھاوا دینا بند کر دو ورنہ بربادی اپکا مقدار بن جاۓ گی۔

Categories

Comments are closed.