ہمارے دماغ کوتیزی سے

آج آپ کو بتائیں گے۔ پانچ ایسی عادتیں جو آپ کے دماغ اور آپ کی ذہنی صحت کو ش دید نق صان پہنچاتی ہیں۔ سب سے پہلی عادت جو کہ آج کل  کے لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔کہ وہ ایک روٹین نہیں بناتے۔ ان کی زندگی میں کوئی نظم وضبط نہیں ہے۔ ان کے سونےکا  وقت ایک مقرر نہیں ہے۔ ان کاجاگنے کا ایک وقت مقرر نہیں ہے۔ رات کو وہ سوتے ہیں کبھی گیارہ بجے تو اگلے دن وہ دو بجے سوئیں گے۔ اسی طرح صبح اٹھ کر  کسی دن جاگیں گے نو بجے تو کبھی ایک بجے۔ تو اس سے آپ کی ذہنی صحت او رآپ کے دماغ کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ پھر ایسے لوگ ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں۔

ڈاکٹرصاحب ہماری نیند خراب ہے۔ آپ کی نیند خرا ب نہیں ہے۔ آپ کی روٹین خراب ہے۔ یار ہے کہ ! جب تک آپ کی زندگی میں نظم وضبط نہیں ہوگا۔ آپ کی زندگی میں روٹین نہیں ہوگی۔ اورآپ روٹین  کو اپنا کر اس پر عمل نہیں کریں گے۔ تب تک آپ کی ذہنی صحت اور جسمانی صحت  پر بہت م ض ر اثرات آئیں گے۔ کوشش  کریں۔ زندگی میں ایک ہی روٹین اپنا ئیں۔ اور فالو کریں۔ دوسرا پوائنٹ : جس طرح روٹین کی بات ، ہم نے زندگی میں نظم وضبط کی بات کی۔ کوشش کریں کہ آپ اپنی خوراک میں بھی  ایک نظم وضبط لائیں۔ آپ کی خوراک کی بھی ایک روٹین ہونی چاہیے۔

آپ کے کھانے کا، ناشتہ کا ، دوپہر اور رات کا کھانا کا ایک ہی وقت ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ کوشش کریں۔ گھر سے باہر کے کھانوں  کا دارو مدار کم ہی ہو۔ گھر سے باہر کھانے سے مراد جنک فوڈز ہے۔ جس میں برگر، پیزا،اس کے علاوہ آپ ہوٹلوں میں پکوڑے ، سموسے اور بیکری ایٹم کھاتے ہیں۔ تو اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق یہ ثابت ہوا ہے کہ جو کاربوہائیڈریٹس ہم لیتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹ کا جو دوسرا نام ہے۔ وہ شوگر ہے۔ جو شوگر ہم لیتے ہیں۔ا س سے ہماری  دماغ کی رگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اور اس سے ہمیں یاداشت کی بیماری ، ڈپریشن کی بیمار ی اور ہماری صحت اور خاص طور پر ذہنی صحت پر اثر پڑتا ہے باہر کی خوراک کھائیں۔ کوشش کریں مہینے میں ایک دفعہ یا دو دفعہ ۔

Categories

Comments are closed.