ہاسٹل کی مظلوم لڑکیاں

آج ہاسٹل میں میرا پہلا دن تھا اور میں سارا درج روتی ” رہی تھی صرف میں ہی نہیں دوسری کئی لڑکیاں بھی روتی رہی تھیں سب کا گھر سے دور والدین کے بنا رہنے کا یہ پہلا تجربہ تھا کسی کی عمر آٹھ سال تھی تو کوئی نو سے دس سال کیے ۔ میرے کمرے میں دوسری لڑکی عائشہ تھی کچھ ہی دنوں بعد مجھے اچھی طرح معلوم ہو گیاتھا

کہ وہ انتہا درجے کی لاپرواہ ہے جو چیز جہاں سے سے اٹھائی تھی وہاں دوبارہ کبھی نہیں رکھتی تھی عجیب لڑکی تھی وہ پانی کی بوتل اٹھا کر ساری بیے جاتی تھی اور خالی بوتل دوبارہ نہیں بھرتی تھی ایک رات مجھے سخت پیاسے گی میں نے کمرے کیے لائٹ جلائیے اور پانی والی بوتل اٹھائے تو وہ خالی تھی مجھےعائشہ پر سخت غصہ آیا جو سارا پانی ہڑپ کر کے مزے سے سوئی تھی۔ اب مجھے پانی بھرنے کے لیے ایڈمرج آفس کے سامنے لگے کو لر تک جانا پڑ نا تھا چار و ناچار میں اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آئے اور بوتل میں پانی بھرنے گی تو میری نظر سامنے کھڑی صدف پر پڑی وہ ایڈمرج صاحب کے دروازے کے پاس کھڑی رورہی تھی رات کےنكلاوه بجے کا وقت تھای وقت ایڈمرج صاحب اپنے کمرے باہر لاوہ قمیض پہرج ہاتھا اس نے مجھے نہیں دیکھا کیونکہ ایک تو اس طرف اندھیرا تھادوسرا اس کے گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ کوئی لڑکی رات کے اس پہر پانی بھرنے آئیے ہوگیے اس نے صدف کو ہلکا سا دھکا دیا اور دھمکی آمیز لجے میں بولا کہ چپ کر کے سو جاؤ اور اگرکسی کو کچھ بتایا تو تمہاری خیر نہیں جب صرف اپنے کمرے میں چلی گئی توایڈمن بھی واپس اپنے کمرے میں چلا گیا اور اس نے اندر سے دروازہ لاک کر لیا میں اس وقت دس سال کے تھی لیکن اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ یہاں پر کچھ بھی اچھانہیں ہو رہاہمیں اپنے کمرے میں چلیے ؛ گئی۔ اور در واز و اچھی طرح لاک کر کےپانی پیا اور بستر پر لیٹ گئی ساری رات میں سونہیں پائی تھی اس دن کے بعد میرا معمول بن گیا کہ میں رات کو خاموشی سے دروازہ کھول کر باہر نکلتی اور کمرے کے سامنے پلر کے پیچھے چپ جاتی تھی اور دیکھنے کی کو شش کرتی تھی کہ آج کیا ہو تا ہے کسی معصوم کے باری آتی ہے وہاں پر بہت سی لڑکیاں تھی اس لیے روزانہکوئی نئی لڑکی ایڈمن کا شکار بن رہی ہوتی تھی لیکن سب ڈر کے مارے خاموش تھیں پتانہیں والدین کیاسوچ کر ہمارے معصوم لڑکیوں کو ہاسٹل بھیج دیتے تھے

پھر ایک دی مجھ سے برداشت نا ہوا اور میں نے ساری بات عائشہ کو بتادی وہ بھی سے کر ڈر گئی تھی ہمارے دل میں ہر وقت ڈر لگارہتا تھا کہ ہماری باری اب آئی کہ تبکوئی درجن کے قریب لڑکیاں اس کا شکار بن چکی ” تھیں لیکرجے کم عمر اور معصوم ہونے کی وجہ سے وہ ڈر کر خاموش ہو جاتی تھیں۔ پھر ایک رات میری باری آ گئی لیکر اس طرح کے میں نے سوچا بھی نہیں قامیں نے عائشہ کو کمرے میں رہنے کا کہا اور کمرے کیے لائٹ بند کرکے خاموشی سے باہر نکل آئے اور پلر کے پیچھے چپکر ایڈمن کے کمرے کمرے کی طرف دیکھنے گی در اصل کچھ عمر کا تقاضہ تھا اور میرے اندر حقیقت جاننے کیے جستجو تھی جو میں بار بار یہ خطرہ مول لیتی تھی عائشہ بھی کمرے میں جاگ رہی تھی چاند کی مد ہم ی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی میری نظریں ایڈمن کے کمرے پر جمی ہوئی تھیں کہ اچانک کسی نےپیچے سے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مجھے اوپر اٹھا کر اس طرف چل پڑا جہاں ملاز موں کے کواٹر بنے ہوۓ تھے  میں صرف تڑپ سکتی تھی دس سال کی کمزوری لڑکی جوان مرد کے آگے کیا کر سکتے تھی۔ میری آنکھیں خوف سے پھٹ رہی تھیں مجھے اپنا انجام صاف نظر آ رہا تھا میں پچتا رہی تھی کہ باہر کیوں نکلیدیے اس طرف کوئی نہیں آتا تھا یہاں پر شور کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا لیکن وہ جو کوئی بھی تھا اس نے مجھے شور کرنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا مجھے کمرے میں بند کرکے وہ باہر چلا گیا کوئی دس منٹ گزرے ہوں گے کہ دوبارہ دروازہ کھلا اور دو آدی کمرے میں آۓ ایک کو تو میں نے کپڑوں کی وجہ پہچان لیا وہ وہی تھا جو مجھے اٹھا کر یہاں لایا تھا جبکہ دوسراآدمی کوئی اور تھا دونوں کے چہرے کپڑے میں چھپے ” ہوئے تھے۔ اس لیے میں پہچان نہیں پارہی تھی کہ وہ کون ہیں اگر ان کے چہرے نمایاں ہوتے تو شاید میں پہچان لیتی کیونکہ ہاسٹل کے جتنے بھی ملازم تھے زیادہ تر میں نے دیکھے ہوئے تھے پھر وہ آدی جو مجھے اٹھا کر لایا تھا میرے سامنے بیٹھ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ تم کو بہت شوق ہے جاسوسی کرنے کا ؟ کس کو بتاناچاہتی ہوں کہ یہاں پر کیا ہو تا ہے وہ غصے سے بولا میرے منہ میں کپڑا ٹھونسا ہوا تھا اگر میرامنہ کھلا بھی ہو تا تومیں ۔ نے کیا بول لینا تھا میری بولتی تو ویسے بھی بند ہو چکی تھی پھر دوسرا آدی بولا کہ چوڑو یار اس سے بحث کرکے کیا کرنا ہے اس کو اگر اپنے اچھے برے کا احساس ہوتا تو یہ رات کو کمرے سے باہر نکلتی کیوں ؟

وقت ضائع کئے بغیر اس کے کپڑےاتارو اور جو کرنا ہے کرو اس کے ساتھ اور اس کو کمرے میں پھینک کر آؤ اپنا انجام قریب دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔ میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی کیونکہ میں نے بہت سی لڑکیوں کو ایڈمرج کے کمرے سے روتے ہوئے نکلتے دیکھا تھا میں نے دل میں اللہ سے دعا کر نا شروع کر دی کہ یا اللہ ایک بار مجھے بچالے آج کے بعد میں اس منهوس جگہ پر کبھی نہیں آؤں گی کہتےہیں کہ کوئی وقت قبولیت کا ہو تا ہے بس وہ وقت بھی میری دعا کی قبولیت کا تھا ایک نے میری قمیض اتاری اور دوسرے نے میری شلوار پکڑ کر نیچے کھینچی تو ایسی وقت دروازه ایک زور دار دھماکے سے ٹوٹا اور چار پانچ باور دی پولیس اہلکار اندر داخل ہوئے انہوں نے آتے ہی دونوں آدمیوں کو دبوچ لیا اور ہتھکڑیاں لگا دیں میرے ہاتھ کھولے اور میرے منہ سے کپڑا نکالا تومیں نے جلدی سے اپنے کپڑے درست کر لیے انہوں نے مجھے کہا کہ بیٹی گھبرانا نہیں ہے ہم آگئے ہیں جب ہم کمرے سے باہر نکلے تومیں نے دیکھا کے ہاسٹل کا ایڈمن اور سارا عملہ بھی گرفتار ہو چکا ہے پولیس اپنے ساتھ میڈیا کو بھی لے کر آئی تھی اس وقت سارے ملک میں یہ خبر آگ کے طرح پھیل گئی ہاسٹل کو سیل کر دیا گیا اور ساری بچیاں والدین کے حوالے کر دی گئیں اصلمیں جب وہ آدی مجھے وہاں سے اٹھا کر لے گیا تو عائشہ نے چپکے سے جاکر ایڈمن بلاک سے 15 پر فون کرکے پولیس کو انفارم کر دیا تھا پندرہ منٹ میں پولیس موقع پر پائے گئی اور یوں ہاسٹل کے نام بچیوں کے جنسی استحصال کا اڈا بند ہو گیا جس عائشہ کو میں نست کہتی تھی وہ سب سے بازی لے گئی تھی۔

Categories

Comments are closed.