ہارون رشید کو ایک لونڈی کی ضرورت تھی

بادشاہ ہارون رشید کو ایک لونڈی کی ضرورت تھی اس نے اعلان کیا کہ مجھے ایک لونڈی درکار ہے ، یہ سن کر دربار میں دو لونڈیاں . حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ بادشاہ سلامت ہمیں خرید لیں ان میں سے ایک کا رنگ کالا تھا اور ایک کا گورا تھا ۔ ہارون رشید نے

کہا کہ مجھے بس ایک لونڈی چاہیے دو نہیں ، گوری بولی حضور مجھے خرید لیں کیونکہ گورا رنگ اچھا ہوتا ہے پھر کالی بولی حضور رنگ تو رنگ لیں ، بادشاہ اچھا ہوتا ہے آپ مجھے ان دونوں کی گفتگو سن کر کہنے لگا کہ تم دونوں اس بات پر مناظرہ کرو جو جیت گئی

اسے میں خرید لوں گا کہ رنگ گورا اچھا ہے یا کالا ، دونوں کا مناظرہ شروع ہو گیا آپ بھی سنیں اور سوچیں کہ اس دور کی لونڈیاں بھی کتنا علم رکھتی ، گوری بولی مولی سفید ہے اور اس کی قیمت ہے لاکھوں میں کوئلہ کالا ہے اور ملتا ہے پیوں میں ڈھیر سارا ، یعنی موتی

سفید ہوتا ہے اور بہت مہنگا ہوتا ہے اور کوئلہ اس قدر سستا ہوتا ہے کہ تھوڑے سے پیوں میں بہت سارا مل جاتا ہے اور جو اللہ کے نیک بندے ہوں گے ان کے منہ گورے ہوں گے اور جو دوزخی ہوں گے ان کے منہ کالے ہوں گے حضور اب آپ ہی انصاف کریں کہ رنگ گورا اچھا ہے یا کالا بادشاہ یہ سن کر بہت خوش

گورا اچھا ہے یا کالا بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور کالی سے مخاطب ہو کر بولا ، سنا تم نے اب تم بتاؤ ! کالی بولی حضور کستوری کالی ہوتی ہے اور بہت سارے پیسوں میں بہت کم آتی ہے اور روئی سفید ہوتی ہے اور کم پیسوں میں ڈھیر ساری آ جاتی ہے اور سنیے !

آنکھوں کی پتلی کالی ہے نور کا وہ چشمہ ، اور آنکھ کی سفیدی ہے نور سے وہ خالی ، بادشاہ سلامت اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ رنگ کالا اچھا ہے یا گورا ، کالی کے اشعار سن کر بادشاہ اور بھی خوش ہوا اور گوری کی طرف دیکھا تو وہ فورا بولی ! کاغذ سفید ہیں سب قرآن والے ، کالی نے جلدی سے جواب

دیا کہ ان پر جو لکھے ہیں جو حروف وہ ہیں کالے ، گولی کہنے لگی روح مصطفی ہے روشن دانتوں میں ہے اجالا ، کالی نے جواب دیا اور زلف ان کی ہے کالی کملی کا رنگ ہے کالا ۔ بادشاہ سلامت نے دونوں کے علمی اشعار سن کر کہا مجھے ایک لونڈی درکار تھی مگر میں

تم دونوں کو خرید لیتا ہوں ، بادشاہ سلامت نے دونوں کے علم کو دیکھتے ہوۓ دونوں کو خرید لیا اور اپنے دربار میں رکھ لیا ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *