”گرمی کا موسم تھا وہ دلہن کے لباس میں تھی پسینہ سے شرابور تھی“

دو جو لا ئی سن دو ہزار کی دھکتی رات تھی بالا ئی منزل کا کمرے تھا سخت گرمی کے موسم میں وہ دلہن بنی بیتھی تھی دبیز لباس میک اپ پھولوں کے گجرے حبس ذدہ گرم ہوا جو چھت کے پنکھے سے آ رہی تھی۔ پسینے میں شرابور دلہن سیاسں جی کی آ مد سے خوف زدہ سہمی ہوئی موسمی حالات سے لا تعلق سی بیٹھی تھی دلہن جس گھر سے آ ئی تھی وہاں پیسے کی ریل پیل تھی گھر میں ونڈ وا ے سی لگا ہوا تھا جس کی کو لنگ سے بچنے کے لیے وہ رات کو کمبل اوٹھا کر تی مگر سسرال میں گرمی میں تپتا ہوا با لا ئی منزل کا کمرہ اور دس سال بڑے شوہر کا انتظار کمرے کی دو کھڑ کیاں جن کے چاروں پاٹ با ہر کی جا نب کھلے ہو ئے تھے اور گھر پر سجے بر قی قمقموں کی جلتی بجھتی روشن کمرے میں عجیب سما پیدا کر رہی تھی۔

قمقموں کی رنگ بر نگی روشنی پنکھے کے پروں پر پڑتی چند ساعت قرار بصارت پی کر تی اور غائب ہو جا تی چند چانئے بعد روشنی کا یہی عمل شروع ہو جا تا دلہن دنیا سے پرے سپنوں کے دیس میں خوابوں کا محل سجائے بیٹھی تھی کہ ایک دم اماں کے الفاظ کا نوں میں گو نجنے لگے بیٹی اس گھر کو اپنا گھر سمجھنا کوئی شکا یت نہ ہو تمہارے میاں کو تم سے دلہن عزم کئے بیٹھی تھی کہ کچھ بھی ہو جا ئے میں اپنے شوہر ساس سسر اور سسرال والوں کو کبھی کوئی شکا یت نہیں ہونے دو ں گی۔ اپنی خدمت اور محبت سے سب کا دل جیتے گی دلہن انہی سو چوں میں گم تھی کہ دروازہ کھلا اور بتیس سالہ دولہا داخل ہوا بعد از سلام دولہا نے چند رسمی جملے بولے منہ دکھائی میں انگو ٹھی پہنائی اور پہلا حکم صادر فر ما یا سنو میں نے تمہیں دیکھ لیا ہے۔

ما شا ء اللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہو اب منہ دھو کر کپڑے بد لو اور فجر کی نماز ادا کرو اس پہلے حکم کے بعد دو لہا نے نماز ادا کی اور اس کے بعد دلہن نے میاں کی تقلید کی یوں نئی زندگی کا پہلا دن گزر گیا۔ ولیمے والے دن میاں جی نے فون پر اشفاق احمد صاحب سے بات کروائی اور حکم دیا کہ اشفاق صاحب سے کہو کہ کوئی ایسی بات کہیں جو صرف میرے لیے ہو دلہن نے ایسے ہی اشفاق صاحب کو بول دیا اشفاق صاحب کمال کے بندے تھے فون پر دلہن سے کہا کہ تو بہت خوش قسمت ہے تجھے بہت اچھا شوہر ملا ہے اسے خرچہ مانگ کر تنگ مت کر نا اور اس کی خدمت کر نا یہ تیرا مجازی خدا ہے با با اشفاق احمد کی نصیحت تھی یاد لہن کے ماں باپ کی تر بیت یہ تو خدا جانے پر دلہن نے تابعداری کی انتہا کر دی۔ دلہن کا اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کا شوہر خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اکھڑ مزاج بھی ہے۔

مگر وہ شادما ن تھی خوش تھی اور پر عزم بھی شادی کے بعد اسے معلوم ہوا کہ شہور کی تنخواہ صرف تین ہزار پانچ سو روپے ہے۔ پہلے داسی چھوٹی چھوتی چیزوں کو تر ستی تھی اب بڑی سے بڑی بات منہ سے نکا لے تو پوری ہو جا تی اس دوران بیٹیاں اور پیدا ہو جا ئیں جن کا نام با نو قدسیہ آپا نے رکھا بڑی کا حاجرہ اور چھوٹی کاحلیمہ حاجرہ بڑے نصیبوں والی تھی اس کی آمد کے ساتھ ہی گھر میں ہنڈا سی ٹی آ گئی اب گھر میں دو گاڑیاں تھیں حلیمہ حاجرہ سے بڑا نصیب لکھوا لائی تھی حلیمہ کی آمد سے پیسے کی ریل پیل ہو گئی لکشمی نے گھر میں ڈیر جما لیا۔

پھر تپسیا جیت گئی افلاس ہار گئی آ ج داسی کے پاس روپیہ پیسہ بینک بیلنس زمین سب کچھ ہے داسی کی بھکتی سے میاں جی پر ہن برس رہے ہیں مگر داسی آ ج بھی وہی سادہ زندگی بسر کر تی ہے اسے غرض نہیں کہ میاں کا کتنا نام ہو چکا۔ میاں مالی طور پر کتنا مضبوط ہو چکا اسے تو اپنی سیوا اور دیو تا کی پو جا سے غرض ہے آ ج بھی داسی فجر سے رات گئے تک خدمت میں جٹی رہتی ہے ایک محبت کرنے والی بیوی کی خدمت سیوا یقین دعا اور عز م نے میاں جی کے حالات تقدیر اور سٹیٹس بدل کر رکھ دیا۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *