کھانا کھاتے ہوئے ہر لقمہ پر

“بسم اللہ” یوں تو ایک چھوٹا سا جملہ ہے لیکن معنی کے لحاظ سے اپنی وسعت رکھتا ہے۔ کہ ایک ٹھاٹھے مارتا سمندر ہے۔ یہ ایک سدابہار گلستان ہے۔ جس میں قسم قسم کی شیریں اور لذیذ پھلوں سے لدے سرسبزوشاداب درخت اور دلکش رنگوں والےطرح طرح کے پھول کھلے  ہیں۔ جن سے آنکھوں کو فرحت اور تازگی ملتی ہے۔ اور ان کی پیاری پیار ی خوشبو سے دل جھومتا ہے اور روح رقص کرتی ہے۔ آپ  کو ” بسم اللہ ” کے فضائل کے بارے میں بتایا جائےگا۔ اگر آپ کھانا کھانےسے پہلے ” بسم اللہ “پڑھتے ہیں۔ یا کسی کا م کے کرنےسےپہلے ” بسم اللہ” پڑھتے ہیں۔

تو اس سے آپ کو کیا کیافوائد حاصل ہوں گے؟ اسلام سے قبل عربوں کا رواج تھا کہ جو بھی کام شروع کرتے ۔ اپنے بتوں  ، بادشاہوں یا سرداروں کا نام لیتے تھے۔ اور ان کا نام لینےسے ان کا یہ مقصد ہوتاتھا کہ وہ کسی کام کو ان کی مدد سے کررہے ہیں۔ لیکن اسلام میں ایساکرنےسے منع فرمایا ہے۔ ہمار ے پیارے نبی پاک ﷺ نے  ہر کام کو اللہ کے نام یعنی ” بسم اللہ ” شروع کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ جب نبی پاک ﷺ بھی کوئی کام کرنتے ان کی ابتداء  اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے فرماتے تھے۔

     آپ نے مختلف  فرمانبررواؤں کے نام خطوط لکھے توان کا آغاز بھی اللہ تعالیٰ کے نام سے ہی کیا۔ جس سے معلوم ہوتاہے کہ ” بسم اللہ” کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ ” بسم اللہ ” کے چار کلے ہیں۔ اور گن اہوں کی اقسام چار ہیں۔ نمبرا یک پوشیدہ گن اہ، دوسرے نمبرزہر ی گن اہ ، نمبر تین  دن کے گن اہ، نمبر چار رات کے گن اہ  اور بسم اللہ خلوص دل سے پڑھنےسے اللہ تعالیٰ چاروں قسم کے گن اہوں کو مٹا دیتا ہے۔ ” بسم اللہ ” ہر کام کےآغاز اور کھاناکھانےسےقبل پڑھنی چاہیے تاکہ اللہ کی رحمت شامل رہے۔ ” بسم اللہ ” میں اسم اعظم چھپا ہے ۔ ” بسم اللہ ” ہرمرض کی دوا اور ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔ اس کے کل حروف انیس ہیں۔ کل اعداد سات سو چھیاسی ہیں۔ اس میں تمام صفاتی کاملہ سمائی ہوئی ہیں۔

یہ ارواح کی راحت ہے جسموں کی نجات ہے۔ سینوں کا نور ہے۔ اس کی بدولت تما م خلوتیں پر کیف ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ ہر طرح کی مشکلات وپریشانیوں کو ختم کرنے کےلیے نہایت صریح  الا ثر خواص رکھتی ہے۔ اس کے ذکر سے بےشمار لوگ امتحانوں اور آزمائش میں سرخرو ہوئے۔جس مقصد کےلیے توجہ،یکسوئی ، یقین کامل اور صدق دل سے پڑھی جائے۔ا للہ پاک اسے کامیابی سے نوازتا ہے۔اس کے ذکر سے دل میں کوئی غم نہیں رہتا۔ چشم نم سے امید کامیابی کےموتی بکھرتے ہیں۔ بےشمار برکات ہیں۔

ہرکام میں بڑھنےسے برکت ہوتی ہےصدق دل سے پڑھنےوالا کبھی محتاج  نہیں ہوتا۔ کثرت کےساتھ ذکر کرنےسےعالم علوی اور عالم سفلی میں باعظمت اور پرسکون  وشادمان ہوتا ہے۔ ہرمشکل وپریشانی کا حل صدق دل میں پڑھنے سے ہے۔ ” بسم اللہ ” بیماریوں کے لیے شفاء اور بے روزگاری کےلیے روزگار  اور قلبی سکون محتاج سے غنی اور بے اولاد سے صاحب اولا د بن جاتا ہے۔ ” بسم اللہ ” قرآن کریم کی کنجی ہے۔

قرآن کریم کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے ” بسم اللہ ” سکھانےمیں برکت آتی ہے۔ اور اگر ہم ” بسم اللہ ” نہیں پڑھتے ۔ تو وہ  کھانا ش یطان ہمارے ساتھ کھاتا ہے۔ اور ہمارے جسم کو کھانا نہیں لگتا۔ اور اس میں بے برکتی ہوتی ہے۔اور کھانے سے پیٹ نہیں بھرتا۔ اور انسان کو ایسے ہی لگتا ہے جیسے اس نے اور کھانا ہے۔ لیکن اگر وہ کھانا ” بسم اللہ” پڑھ کر کھایا جائے۔ تو انسان بیماریوں سے بچتا ہے۔اور رزق کی کثرت ہوجاتی ہے۔

Categories

Comments are closed.