کنیز اور ظالم بادشاہ حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ

کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک اصول پسند اور کسی حد تک ظالم بادشاہ رہتا تھا ۔ وہ اپنے اصولوں کا سخت پابند تھا ۔ اور لوگ اس کے سخت اصولوں کی وجہ سے اس سے بہت ڈرتے تھے ۔ اس بادشاہ کے پاس بہت زیادہ اور حسین و جمیل کنیزیں تھیں ۔

اس کی ایک کنیز نہایت ہی نیک اور پارسا تھی ۔ ایک دن وہ بادشاہ کے خاص کمرے کی صفائیکر رہی تھی کہ کام کی تھکن سے چور ہو کر کچھ دیر آرام کرنے کے لیے بادشاہ کے نرم بستر پر لیٹ گئی ۔ کنیز کے دل میں خیال آیا کہ مجھے اس پر لیٹ کر دیکھنا تو چاہیے کہ کتنا مزہ آتا ہے ۔ وہ الٹی ہو کر آرام کرنے کے لیے بستر پر لیٹ گئی اور سوچا کہ بادشاہ کے لوٹنے تک وہ اٹھ کر چلی جاۓ گی ۔ نازک بستر کی وجہ سے اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔ بستر اتنا نرم تھا کہ وہ دو پہر تیک سوئی رہی ، اور جب دو پہر کو بادشاہ آرام کرنے کی ، غرض سے کمرے میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہےکہ اس کی ایک کنیز اس کے بستر پر الٹی لیٹی مزے سے سو رہی ہے ۔ بادشاہ کو یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا اور اس کو اپنی سخت توہین محسوس ہوئی کہ ایک بادشاہ کے بستر پر اسکی کنیز سو رہی ہے ۔ بادشاہ نے فورا آواز دے کر دوسری کنیز کو کمرے میں بلایا اور حکم دیا کہ اس کمبخت کو بالوں سے پکڑ کر بستر سے اٹھاؤ ۔ جیسے ہی کنیز بیدار ہوئی تو خود کو بادشاہ کے بستر پر لیٹا پا کر اور بادشاہ کو سر پر کھڑا دیکھ کر تھر تھر کاپنے لگی

اور اپنی گستاخی کی معافی مانگی ۔ مگر بادشاہ نے ملازموں کو حکم دیا کہ اسکو پکڑ کر باندھ دور اور اس کے جسم کے ہر حصے پر زیادہ سے زیادہ کوڑے مارو ۔ جب تک یہ مر نہیں جاتی ۔ بادشاہ کے حکم پر عمل درآمد ہوا اور اس کو باندھ کر اس کے جسم پر جگہ جگہ کوڑے مارے جانے لگے ۔ لیکن یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ جیسے ہی کوڑا اس کے جسم پر لگتا تو وہ کنیز بجاۓ رونے کے ہنسنا شروع کر دیتی ۔ حتی کہ اس کےجسم سے جگہ جگہ خون رسنے لگا لیکن پھر بھی وہ ہنسے جا رہی تھی ۔ بادشاہ نے حیران ہو کر اس سے بننے کی وجہ پوچھی تو کنیز کہنے لگی ! کہ ہننے کی وجہ میرے زخمی جسم سے پوچھ لو ۔ بادشاہ نے کہا کہ مجھے میری بات کا صاف صاف جواب دوں کہ کوڑے کھا کر تم بجاۓ رونے کے ہننے کیوں لگتی ہو ۔ کنیز نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے بار باریہ خیال آرہا ہے ، کہ اس نرم بستر پر چند لمحے سونے کی د مجھے اتنی سخت سزا مل رہی ہے ، تو جو شخص ہر روز اس ا بستر پر سوتا ہے ۔ اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا ۔ بس اسی بات پر مجھے ہنسی آ جاتی ہے ۔ اسکی یہ بات سن کر بادشاہ اندر سے لرز گیا ۔ اور اس کا جسم اللہ تعالی کے ڈر سے کانپنے لگا ۔ کنیز کی بات نے اس کی کایا پلٹ کر رکھ دیا ۔

اور وہ نیکوکار ہو گیا ۔ اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنے کیے ہوۓ ظلم کی معافی مانگنے لگا ۔ بعد میں یہ بادشاہ حضرت حمیدالدین رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے مشہور ہوۓ ۔

Categories

Comments are closed.