کنواری لڑکیاں حاملہ ہو رہی تھی بادشاہ پریشان تھا که زناکاری اتنے عروج پر

ادشاہ کو اس کے ایک خاص آدمی نے خبر دی کہ سلطنت میں پچھلے دو سال سے ایسی کنواری عورتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے ، جو کہ حاملہ ہوئی ہیں ۔ سلطنت میں بدکاری عام ہو چکی ہے ۔ بادشاہ کو یہ بات سن کر سر سے لے کر پاؤں تک پسینہ آ گیا ۔ اور وہ غش کھا کر گر پڑا ۔ ہوش آنے پر آدمی نے بادشاہ سے پوچھا کہ آپ کو اچانک کیا ہوا ہے ۔بادشاہ نے کہا کہ میں اس بدکاری کو روکنے کے لیے ہی تو ہر سال ایک ہزار جوڑے کا نکاح کرواتا ہوں ۔

لیکن یہ پھر بھی عروج پر ہے ۔ مگر اب میں ان لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا جنہوں نے اس ملک میں بدکاری کو عام کیا ہے ۔ بادشاہ نے اپنے سب سے قریبی وزیر کو یہ ذمہ داری سونپ دید که پتہ کرو کہ کس جگہ پر یہ گناہ سب سے زیادہ ہو رہاہے ۔ وزیر اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی ناکام ہوا تو بادشاہ نے سلطنت میں اپنے جاسوس پھیلا دیۓ ۔ جاسوسوں نے بڑی چالاکی سے ان جگہوں کا پتہ لگا لیا جہاں پر یہ گناہ سب سے زیادہ ہو رہا تھا ۔ انہوں نے دیکھا کہ شہر کے داخلی ، راستے پر ایک تنگ گلی تھی ، جس میں بہت سی عورتیں داخل ہو تیں تھیں ، مگر صرف چند عورتیں ہی گلی کے دوسرےحصے سے نکلتی تھیں ۔ جاسوسوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اتنی زیادہ عورتیں کہاں غائب ہو رہی ہیں ، لگتا ہے ۔ کہ اسی گلی کے درمیان ہی کوئی غلط کام ہو رہا ہے ۔ جب انہوں نے اچانک جا کر دیکھا تو ایک بڑے سے کمرے میں زنا کاری جاری تھی ۔ وہاں اوباش لوگوں کا گروہ تھا جن کا سردار تکیہ لگا کر بیٹھا ہوا تھا ۔ سپاہی جو کہ جاسوس کی شکلمیں تھے انہوں نے فورا سردار کو گرفتار کر لیا اور بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا ۔

بادشاہ سردار اور اس کے گروہ کو دیکھ کر غصے سے لال ہو گیا ۔ بادشاہ نے سردار سے کہا کہ تیرے اوباش گروہ سمیت تجھے ایسی سزا دوں گا کہ آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی کہ بدکاری کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ سردار نے زور دار قبقہہ لگایا اور بادشاہ سے کہا کہ ہمیں -مارنے سے اس ملک سے کبھی بھی برائی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ آپ کے ملک میں پیاسا خود کنویں کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے ۔ بادشاہ نے کہا کہ تم کہنا کیا چاہتے ہو ۔ میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا ۔ سردار نے کہا کہ عورتیں خود ہی ہمیں اپنی طرف راغب کرتی ہیں ۔ ان کی حرکات سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سی عورت کیا چاہتیہے ۔ ہم نے گلی کے ساتھ ایک رہائش گاہ بنائی ہوئی تھی ۔ گلی میں گزرتے ہوۓ جس عورت کا برائی کرنے کا ارادہ ہوتا تو وہ اپنا پاؤں زور سے زمین پر مارتی ۔ ان کے پاؤں میں بندی پائل کی آواز سے ہمیں اشارہ مل جاتا تھا اور ہم اس عورت کو اٹھا کر اپنی رہائش گاہ پر لے آتے ۔ اس گلی سے عزت دار اور شریف عورتیں بھی گزرتی تھیں ، جن کو ہمنے کبھی تنگ نہیں کیا ۔ اس شہر کی ہر وہ عورت جس کے پیروں میں پائل ہے وہ ہمارے پاس آ چکی ہے ۔ بادشاہ نے کہا کہ ان بدبخت عورتوں کو میں بعد میں دیکھ لوں گا ۔ پہلے تم لوگوں کو میں ضرور عبرت کا نشان بناؤں گا ۔ پھر بادشاہ نے سردار اور اس کے گروہ کے چالیس نوجوانوں کے سر تن سے جدا کر دیئے اور ان کو پندرہ دن تک شہر کے چوک پر لٹکائے رکھا ۔ اسی دوران بادشاہ نے شہر کی ساری کنواری لڑکیوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا حکم دیا ۔ پھر بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ باری باری سب عورتوں کی پنڈلیوں کو چیک کرو اگر کسی میں پائل یا پائل کا نشان پایا جاۓ تو مجھے بتاؤ ۔ اس کے بعد بادشاہ نے ان تمام بدکار عورتوں کے پاؤں کاٹ دیے اور وہ ہمیشہ کے لئے معذور ہو گئیں ۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا اور سلطنت میں اس گناہ کا بھی خاتمہ ہو گیا ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *