کراۓ دار کی خوبصورت بیوی کا قصہ

یک دن میں گھر میں بیٹھا بچوں کو کمپیوٹر پر گیم کھیلنا سکھا رہا ، تھا کہ باہر بیل بجی ۔ کافی دیر کے بعد جب دوسری بیل ہوئی تو میں نے جا کر دروازہ کھولاد سامنے میری عمر کے ایک صاحب کھڑے تھے انہوں نے نہایت مہذب انداز میں اسلام کیا ۔ پہلے تو میرے ذہن میں خیال گزرا کہ یہ کوئی چندہ وغیرہ لینے والے ہیں ، ان کے چہرے پر داڑھی خوب سج رہی تھی

اور لباس سے ہ وہ چندہ مانگنے والے ہر گز نہیں لگ رہے تھے ۔ جی فرمایئے ! میں نے پوچھا آپ طاہر صاحب ہیں ! ” جی ” میں نے مختصر جواب دیا ۔ وہ مجھے رفیق صاحب نے بھیجا ہے ، غالبا آپ کو کرائے دارکی ضرورت ہے ۔ جی ہاں بالکل مجھے اچانک یاد آیا کہ میں نے دفتر کے ایک ساتھی کو بتایا تھا کہ میں نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن کرائے پر دینا ہے ، اگر کوئی نیک اور چھوٹی سی فیملی اس کی نظر میں ہو تو ضرور بتاۓ ، کیونکہ دفتر کی تنخواہ سے خرچے پورے نہیں ہوتے ۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اتنی دھوپ میں کافی دیر اسے باہر کھڑا رکھا ۔ اسے چھ ماہ کے لئے مکان کرائے پر چاہیے تھا کیونکہ اپنا مکان وہ گرا کر دوبارہ تعمیر کروا رہے تھے ۔ میں نے اسے تین ہزار کرایا بتایا

لیکن بات دو ہزار پر پکی ہو گئی ۔وہ چلا گیا تو مجھے افسوس ہونے لگا کہ کرایہ کچھ کم ہے ۔ لیکن اوپر صرف ایک چھوٹا سا کمرہ کچن اور باتھ روم تھا ۔ مجھے اپنی بیوی کا بھی ڈر تھا کہ جب اسے معلوم ہو گا تو کتنا جھگڑا ہو گا ۔ اور وہی ہوا ۔ بقول اس کے دو ہزار تو صرف بچوں کی فیس ہے , مجھے اس نے کافی برا بھلا کہا اور میں چپ چاپ سنتا رہا اور اپنی قسمت کو کوستا رہا ۔ میں نے ایم ایس سی بہت اچھے نمبروں سے کیا تھا اس لیے فوراً نوکری مل گئی ۔ نوکری ملی تو شادی بھی فورا ہو گئی ، میری بیوی بھی بہت پڑھی لکھی تھی وہ بھی ایک انگریزیسکول میں پڑھاتی تھی ۔ ہمارے تین بچے تھے مگر گزارا مشکل سے ہوتا تھا ۔ اگلے ہی دن وہ صاحب اور ان کے بیوی بچے ہمارے گھر شفٹ ہو گئے ۔ ان کی بیوی نے مکمل شرعی پردہ کیا ں ہوا تھا ۔ دونوں بڑے بچے بھی بہت مہذب اور خوبصورت تھے ۔ چھوٹا گود میں تھا ۔ کچھ دنوں بعد ایک دن میں دفتر سے آیا تو میری بیوی نے بتایا

کہ میں نے بچوں کو کرائے دار خاتون سے قرآن مجید پڑھنے کے لئے بھیج دیا ہے ۔ اچھا پڑھاتی ہیں وہ ۔ ان کے اپنے بچے بھی بہت خوبصورت تلاوت کرتے ہیں ۔ مزید کچھ دن بعد جب میں نے ان کے ایک بیٹے سے تلاوت سنی تو پہلی مرتبہ میرے دل میں خواہش ابھری کے کاش ہمارے بچے بھی اتنا اچھا قرآن مجید پڑھتے ۔ ایک دن میں باہر جانے لگا تو اپنی بیوی سے پوچھ ہی لیا کہ اگر وہ پارلر جانا چاہتی ہے تو لیتا چلوں ۔ کیوں پہلے تو دو مہینے میں تین چار مرتبہ پارلر جاتی تھی اور اس مہینے میں ایک بار بھی نہیں گئی تھی ۔ اس نے جواب دیا کہ یہ فضول خرچی ہے جتنی خوبصورتی چہرے پر پانچ بار وضو کرنے ۔ نماز اور تلاوت سے آتی ہے کسی چیز سے نہیں آتی ۔ اگر زیادہتمھار ضرورت ہو تو گھریلو استعمال کی چیزوں سے ہی چہرے پر رہتا ہے ۔ ایک روز میں کیبل پر ڈرامہ دیکھ رہا تھا تو میرے چھوٹے بیٹے نے مجھے بغیر پوچھے ٹی وی بند کر دیا اور میرے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔ وہ کہنے لگا بابا یہ بیکار مشغلہ ہے میں آپ کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ سناتا ہوں ۔ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے بیٹے کی زبانی جب واقعہ سنا تو میرا دل بھر آیا ۔

یہ تمہیں کس نے بتایا ! میں نے پوچھاد کہنے ں لگا ہماری استانی محترمہ نے وہ قرآن مجید پڑھنے کے بعد آپ صلی راللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے متعلق بتاتی ہیں ۔ اپنے گھرمی اور بیوی بچوں کی تیزی سے بدلتی حالت دیکھ کر میں حیران ہو رہا تھا ۔ پھر ایک روز بیوی نے کہا کہ کیبل کٹوا دیں کوئی نہیں دیکھتا اور ویسے بھی فضول خرچی اور اوپر سے گناہ ہے ۔ چند روز بعد بیوی نے شاپنگ پر جانے کو کہا تو میں خوشی تیار ہو گیا کیونکہ اس نے کافی دنوں بعد شاپنگ کا کہا تھا ورنہ پہلے تو آۓ دن بازار جانا رہتا تھا ۔ کیا خریدنا ہے ۔ میں نے پوچھا ! اس نے کہا کہ برقعہ خریدنا ہے , ” کیا ” میں مسکرایا تو وہ بولی ! پہلے میں کتنے غیر شرعی کام کرتی تھی آپ نے کبھی مذاق نہیں اڑایا تھا اب اچھا کام کرنا چاہتی ہوں تو آپ کو مذاق سوجھ رہاہے ۔ میں کچھ نہ بولا ۔ پھر چند دن بعد اس نے مجھے کافی سارے پیسے دیے اور کہنے لگی فریج کی باقی قیمت ادا کریں تاکہ مزید قسطیں نہ دینی پڑیں ۔ اتنے روپوں کی بچت کیسے ہو گئی بس ہو گئی ۔ وہ مسکرائی جب انسان اللہ کے بتاۓ ہوۓ احکام پر چلنے لگے تو برکت خود بخود ہو جاتی ہے ۔

یہ بھی وہ کراۓ دار خاتون نے بتایا ہے ۔ سکون میرے اندر تک ۔ پھیل گیا میری بیوی اب نہ مجھ سے بھی لڑی نہ شکایت کی بچوں کو وہ گھر میں پڑھا دیتی ہے ۔ وہ خود بھی نماز پڑھنے لگی اور بچوں کو بھی ا سختی سے نماز پڑھنے بھیجتی ۔ مجھے احساس ہونے لگا کہ نجات کا راستہ یہی تو ہے پیہ سکون نہیں دیتا اطمینان تو بس اللہ کی یاد میں ہے ۔مجھے اس دن دو ہزار کرایا جو تھوڑا لگ رہا تھا آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ تو اتنا زیادہ تھا کہ آج میرا گھر سکون سے بھر گیا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *