کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے کہ کاش ! میں کسی مغلیہ دور میں کسی شاہی گھرانے میں پید اہوئی ہوتی

بھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے کہ کاش ! میں کسی مغلیہ دور میں کسی شاہی گھرانے میں پیدا ہوئی ہوتی ، بادشاہ کی اکلوتی اولاد ہونے کا شرف حاصل ہوتا اور شاہی تخت پر بیٹھ کے سارا دن ٹوم اینڈ جیری دیکھتی اور رات کو عاطف کے گانے سنتی اور صبح کنیز میں جب مجھے اٹھانے آتیں تو شاہی بستر کے نرم گاو کلنے میں منہ چھپا کے پھر سے سو جاتی اور جب میرا دل چاہتا میں اٹھتی اور شاہی کھانے خوب اچھی طرح تناول فرما کے شاہی باغ کی سیر کو نکل پڑتی نہیں نہیں یہ

کچھ زیادہ ہو گیا ۔ ” واپس آئیں ” یہ ہماری سستی کو گوارا نہیں میں باغ میں بیٹھ کر آنکھوں سے ہی سیر کر لیتی ، پھر سے شاہی دربار میں بیٹھ کے مونگ پھلیاں کھاتی ، کنیز میں ہمیں مونگ پھلی نکال نکال کے دیتی اور ایک بھی دانہ زمین بوس ہونے پہ میں ان کا سر قلم کرنے کا شاہی فرمان جاری کر دیتی ۔ کیا ؟؟؟ یہ بھی زیادہ ہو گیا چلیں پھر سے واپس آئیں میں انہیں میسنجر اور واٹس ایپ سے بلاک کر دیتی بس اتنی سزا

کافی ھے اور بادشاہ سلامت یعنی ابا حضور سے تیز ترین انٹرنیٹ والا پہنچ کروانے کی خواہش کرتی اور ملکہ عالیہ یعنی امی حضور سے روز ہی پیزا بنانے کی فرمائش کرتی اور امی حضور اپنی اکلوتی اولاد اور سلطنت کی واحد وارث شہزادی کو پیزے کے ساتھ ساتھ شاہی سیلڈ بھی اپنے ہاتھوں سے بنا کے اپنے ہاتھوں سے کھلاتیں . لاڈ کا یہ عالم ہوتا کہ اگر میرا ، دل چاہتا امریکہ سے سموسے اور لندن سے چٹنی لینے جانے کا

تو مجھے اپنی ذاتی سواری شاہی ہوائی جہاز پر جانے کی اجازت ہوتی ، دنیا کے تمام بڑے برانڈ خرید کے شاہی محل میں ہی شاپنگ مالز قائم ہوتے اور صبح کو سوئزر لینڈ اور شام کو آسٹریلیا گھومتی کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے کہ کاش ! میں کسی مغلیہ خاندان کی شہزادی ہوتی .

Categories

Comments are closed.