کامیاب زندگی کے تین راز؟

مال یا جان کا چلاجانا نقصان نہیں انسان کا سب سے بڑا نقصان کسی کی نظر سے گر جانا ہے ۔دنیا کی طاقتور ترین چیز ہے لوہا جو سب کو کاٹ ڈالتا ہے لوہے سے طاقتور ہے آگ جو لوہے کو پگھلا دیتی ہے ۔ آگ سے طاقتور ہے پانی جو آگ کو بجھا دیتا ہے،انسان سے طاقتور ہے موت جو اسے کھاجاتی ہے۔اور موت سے طاقتور ہے صدقہ جو موت کو ٹال دیتا ہے۔رشتوں کو ایسی خوبی سے نبھاؤ جیسے شہد کی مکھی پھولوں سے رس بھی لے لیتی ہے اور ان کا نقصان بھی نہیں ہونے دیتی ۔کامیاب زندگی کے تین راز : نماز،قرآن پاک، درود شریف ۔امیروں سے نہ ڈر و بلکہ غریبوں کی آہ سے ڈرو،اس لئے کہ اگر امیر بھاگے گا تو وہ حاکم کے دروازے پر جائے گا اور اگر غریب نے آہ بھر لی تواللہ تعالیٰ کے دروازے کو کھٹکھٹائے گا۔ آخری سانس ہو اور دیدارِ مصطفیٰ ﷺ ہوجائے۔یا اللہ پاک تجھے تیرے محبوب محمد کے حسن و جمال کا واسطہ مجھے مرتے وقت کلمہ طیبہ زبان پر جاری فرمانا۔آمین اپنے اعمال پر توجہ دیجئے

حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ صبح کے وقت کاموں میں بہت برکت ہوتی ہے۔ اے عاشقانِ رسول! اپنی صبح کی روٹین درست کیجئے! اِنْ شآءَ اللہ! سارا دِن چست رہیں گے۔ حضرت اَبُو ہُرَیرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے ، محنت پسند نبی ، مکی مدنی صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم نے فرمایا : جب تم سوتے ہو تو شیطان گدی میں 3 گِرْہَیں لگا دیتا ہے ، جب بندہ اُٹھتا ہے ، اللہ پاک کا ذِکْر کرتا ہے تو ایک گِرَہ کھل جاتی ہے ، پھر وُضُو کرتا ہے تو دوسری گِرَہ کھل جاتی ہے ، پھر نماز پڑھتا ہے تو تیسری گِرَہ کھل جاتی ہے اور انسان خوش دِل ، پاک نفس صبح کرتا ہے ،

اگر ایسا نہ کرے (یعنی ذِکْرُ اللہ نہ کرے ، وُضُو نہ کرے ، نماز نہ پڑھے) تو پلید نفس اور سست صبح کرتا ہے۔آخری طریقہ جس کو اپنا کر ہم دُنیا اور آخرت کے بےشُمار فائدے حاصِل کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عَطا کردہ نیک اعمال کے مطابق عمل کرتے ہوئے روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا اپنی زِنْدَگی کا لازمی حِصّہ بنا لیں ، اگر ہم صِرف روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینے ہی کی عادَت اپنا لیں اوراپناجائزہ لیں کہ آج میں نے کیا کِیَا اور کیا نہ کر پایا تو ان شَآءَ اللہ! اس سوچ کی برکت سے بَہُت جَلْد سُستی سے نجات مل جائے گی۔ اللہ ہمیں سُستی و کاہلی سے مَحْفُوظ فرمائے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.