ڈاکٹر کے قبول اسلام کا حیران کن واقعہ امریکہ کے

قبول اسلام کا یہ واقعہ حیرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی حیرت انگیز اس اعتبار سے کہ نزول قرآن کو کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد ہ بھی آج تک اس نکتے پر کسی کی نظر نہ جاسکی جو ایک امریکی ڈاکٹر کے قبول اسلام کا محرک بنی اور سبق آموز اس پہلو سے ہے کہ کتاب الہی میں غور وتدبر اور تحقیق جستجو بندگان خدا کیلئے ہدایت و معرفت کے دروازے کھولئے اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کا

آج بھی اتنا ہی مؤثر ذریعہ ہے جتنا وہ نزول وحی کے وقت تھاامریکہ کے ایک ہسپتال میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا اور اس واقعے کے زیراثر امریکن ڈاکٹر مسلمان ہو گیا ۔ مذکورہ ہسپتال میں ایک روز ڈلیوری کے دو کیس ایک ساتھ آۓ ۔ ایک عورت سے لڑکا پیدا ہوااور دوسری سے لڑکی جس رات میں ان دونوں بچوں کی ولادت ہوئی اتفاق سے نگران ڈاکٹر موقع پر موجود نہیں تھا ۔ دونوں بچوں کی کلائی میں وہ پٹی بھی نہیں باندھی ہوئی تھی جس پر بچے کی ماں کا نام درج ہوتا ہے تو نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں بچے خلط ملط ہو گئے اور ڈاکٹروں کیلئے یہ شناخت کرنا مشکل ہو گیا کہ کس عورت کا کون سا بچہ ہے حالانکہ ان میں سے ایک لڑکی تھی اور دوسرا لڑکا ولادت کی نگرانی کرنیوالے ڈاکٹروں کی ٹیم میں ایک مسلمان مصری ڈاکٹر تھا

جس کو اپنے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی اور امریکن ڈاکٹروں سے اس کی بڑی انچی شناسائی تھی اور اپنے سٹاف کے ایک امریکی ڈاکٹر سے گہری دوستی تھی ۔ دونوں ڈاکٹرز سخت پریشان تھے کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جاۓ ؟ امریکی غیر مسلم ڈاکٹر نے مصری ڈاکٹر سے کہا کہ تم تو دعوی کرتے ہو کہ قرآن ہر چیز کی تعیین و تشریح کرتا ہے اور اس میں ہر طرح کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے تو اب تم ہی بتاؤ کہ ان میں سے کونسا بچہ کس عورت کا ہے ؟ مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہاں قرآن حکیم بے شک ہر معاملے میں نص ہے اور میں اسے آپ کو ثابت کر کے دکھاؤں گا ۔ مگر مجھے ذرا موقع دیجئے کہ میں خود پہلے اس معاملے میں اطمینان حاصل کرلوں چنانچہ مصری ڈاکٹر نے باقاعدہ اس مقصد کیلئے مصر کا سفر کیا اور جامع ازہر کے بعض شیوخ سے اس مسئلے میں استفسار کیا اور امریکن دوست ڈاکٹر کے ساتھ کی گئی بات چیت کی روداد بھی پیش کی ۔

ازہری عالم نے جواب دیا کہ مجھے طبی معاملات و مسائل میں ادراک حاصل نہیں ہے ۔ البتہ میں قرآن کی ایک آیت پڑھتا ہوں ۔ آپ اس پر غور و فکر کریں۔اللہ تعالی نے چاہا تو آپ کو اس مسئلے کا حل اس میں مل جائے گا چنانچہ اس عالم نے درج ذیل آیت پڑھ کر سنائی ۔ ” ترجمہ ” مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے ‘ ‘ مصری ڈاکٹر نے اس آیت میں غوروند بر شروع کر دیا اور گہرائی میں جانے پر اسے اس مشکل کا حل بالآخر مل ہی گیا ۔ چنانچہ وہ لوٹ کر امریکہ آیا اور اپنے دوست ڈاکٹر کو عتماد بھرے لہجے میں بتایا کہ قرآن نے ثابت کر دیا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سابچہ کس ماں کا ہے ۔ امریکن ڈاکٹر نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے ؟

مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہمیں ان دونوں عورتوں کا دودھ ٹیسٹ کرنے کا موقع دیجئے تو اس معمے کا حل معلوم ہو جاۓ گا ۔ چنانچہ تجزیئے و تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہو گیا کہ کون سا بچہ کس عورت کا ہےاور مصری ڈاکٹر نے اپنے غیر مسلم دوست ڈاکٹر کو اس نتیجے سے پورے اعتماد کے ساتھ آگاہ کردیا ۔ ڈاکٹر حیران و ششدر تھا کہ آخر یہ کیسے معلوم ہو گیا ؟ مصری ڈاکٹر نے بتایا کہ اس تحقیق و ۔ تجزیئے کے نتیجے میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ تھی ۔ کہ لڑکے کی ماں میں لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنا دودھ پایا گیا مزید برآں لڑکے کی ماں کے دودھ میں نمکیات اور وٹامنز کی مقدار بھی لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنی تھیں ۔ پھر مصری ڈاکٹر نے امریکن ڈاکٹر کے سامنے قرآن کریم کی وہ متعلقہ آیت تلاوت ا ’ ’ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے جس کے ذریعے اس نے اس مشکل کا حل تلاش کیا

اور جس عقدے کو حل کرنے میں دونوں ڈاکٹر نہایت پریشان تھے ۔ چنانچہ وہ امریکی ڈاکٹر فوراً ایمان لے آیا ۔ چنانچہ ایسا ہی ایک واقعہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عن کے زمانے میں بھی پیش آیا تھا چودہ سو سال پہلے اسلام نے اس طرح کے پیچیدہ مسائل کو لمحوں میں س طرح حل کیا تھا اس مقصد کیلئے وہ واقعہ یہاں پیش کیا جارہا ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں دو عورتوں کی ایک جگہ اور ایک ہی رات میں زچگی ہوئی ایک لڑکا اور دوسری لڑکی تھی لڑکی والی نے اپنی لڑکی کو لڑکے والی کے مجھولے میں ڈال کر لڑکے کو لے لیا ۔ لڑکے والی نے کہا کہ لڑکا میرا ہے یہ مقدمہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے حکم دیا دونوں کے دودھ وزن کیے جائیں جس کا دودھ وزنی ہوگا لڑکا اس کا ہوگا

Categories

Comments are closed.