ڈاکٹر بن جانے کے بعد ر شتے کا انتظار شروع ہو گیا

یر انام نجمہ ہے اور میں 21 سال کی ہو . محلے میں میرے جیسی پیاری لڑکی نہیں تھی کوئی میں اس بات پر بہت فخر محسوس کرتی تھی میرے محلے میں ایک لڑکار ہتا تھا جس کا نام احمد تھا مجھے احمد سے شروع میں پیار ہونے لگا لیکن احمد میری طرف نہیں دیکھتا تھا اس لئے میں نے بھی اسے ایسا کچھ بھی ظاہر نہیں کر وا یاوقت گزرتا گیادن گزرتے گئے اور میں تقریبا 21 سال کی ہو گئیں یہاں تک کہ میری پڑھائی بھی مکمل ہو گی

احمد مجھ سے دو سال بڑا تھا اس لئے وہ کہیں جوب کر رہا تھا میں نے بھی احمد کی طرح جاب شروع کر دی دو مہینے جواب کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ احمد میرے ہی پاس ایک کمپنی میں کام کر رہا ہے میں نے اس کمپنی میں انٹر ویو دیا وہاں پر میری سلیکشن ہو گئی اور میں وہاں احمد کے ساتھ ہی کام کرنے لگی لیکن احمد اس بات سے بے خبر تھا کہ میں وہاں پر کام کر رہی ہو وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے اور احمد کو ابھی تک اندازہ نہیں ہوا احمد اور میں ایک ہی آفس میں کام کرتے تھے ایک روز جب مجھے چھٹی ہوئی تو میں گاڑی کی تلاش میں روڈ پر کھڑی تھی لیکن رش کی وجہ سے مجھے کوئی بھی گاڑی نہیں مل رہی تھی اتنے میں میں نے کیا دیکھا کہ احمد بھی اپنی بائیک نکال رہا ہے میں نے احمد کی طرف جانا شروع کر دیا میں نے احمد کو بتایا کہ میں تمہارے پاس ہی کام کرتی ہو احمد یہ سن کر بہت ہی حیران رہ گیا احمد مجھ سے پوچھنے لگا میں نے احمد کو کہا احمد مجھے کوئی بھی گاڑی نہیں مل رہی کیا

تم مجھے گھر تک ڈراپ کر سکتے ہو پہلے تو حامد ٹالنے لگا لیکن تو وہ مان گیا احمد نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں بائیک پر سفر کرنا آتا ہے میں نے ہاں میں سر ہلایا اور میں اس کے پیچھے اسے پکڑ کر بیٹھ گئی راستے میں اچانک احمد نے بریک لگائی تو میرا جسم احمد کی کمر کے ساتھ لگا احمد کو بھی محسوس ہوا کہ میں اس کے قریب ہو رہی ہو وہ اور پیچھے ہو کے بیٹھ گیا اور مجھے کہنے لگا کے ویسے ہی کرو جیسے تم نے پہلے کیا ہے میں اس کی بات سمجھ گئی کہ یہ کیا کہنا چاہ رہا ہے میں نے زور سے احمد کو پکڑ لیا اور ساتھ ہو کر بیٹھ گئی احمد نے بائیک بہت ہی آہستہ کر لیں تا کہ وقت بہت آہستہ آہستہ گزرے اور وہ مجھ سے مزہ لے سکے میں نے احمد سے پوچھا احد کیا تم پہلے بھی ایسے ہی آہستہ آہستہ بھائی چلاتے ہو یا آج ہی ایسا کر رہے ہو احمد شرمندہ ہونے لگا اور کہنے لگا کہ نہیں میں روزانہ ایسے ہی بائیک چلاتاہوں احمد کو اب بہت لطف آ رہا تھا اور وہ مجھے بس کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا میں احمد کی سب فلم سمجھ رہی تھی میں نے احمد سے کہا کہ میں لیٹ ہو رہی ہوں مجھے جلدی گھر چھوڑ دو

لیکن احمد ہوٹل پر رک گیا میں سہم گئی کہ شاید احمد اب میرے ساتھ وہ سب کچھ کرے گا جو ایک عام آدمی کر تا ہے میں میں نے احمد کو ہوٹل میں جانے سے منع کر دیا احمد نے مجھے کہا کہ میں ایسا کچھ نہیں کروں گا اور تو میرے ساتھ اوپر چلی اور میں بھی اس کے ساتھ اوپر ہوٹل میں چلی گئی احمد نے جاتے ہیں دروازہ زور سے بند کر دیا اور مجھے سمجھ آگئی کہ احمد کے دل میں کچھ اور ہے احمد نے مجھے بازو سے پکڑا اور مجھے اپنے ساتھ بٹھالیا ۔ احمد میرے ساتھ فرینک ہونے لگا ۔ مجھے احمد سے بہت خوف آرہا تھا میں نے احمد کی ایک نہ سنی اور میں دروازے کی طرف بھاگی احمدی میرے پیچھے بھاگا اور مجھے پیچھے سے پکڑ لیا مجھے اس کا سب کچھ محسوس ہو رہا تھا اس دن احمد نے میرے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جاۓ گی وہ سب لڑکیوں کے ساتھ کر تا تھامیں نے احمد کو کہا کہ اب تم نے اپنی ہر خواہش پوری کر لی ہے مجھے گھر چھوڑ دواحمد نے مجھے کہا ٹھیک ہے چلو بیٹھ بائک پہ اور وہ مجھے گھر کی جانب لے چلا ابو روزانہ صبح مجھے گھر سے لیتا اور مجھے آفس ڈراپ کر تا ۔ یوں ہی دن گزرتے گئے اور احمد مجھ سے روز ہی ایسے کرنے لگا وہ مجھے ایک ہفتے میں تین بار ہوٹل لے جایا کر تا تھااب میں بھی اس کے ساتھ ساتھ لطف اندوز ہونے لگی تھی ایسے ہی احمد میر ابہت ہی اچھا ساتھی بن گیا اور ہم نے شادی کر لی اب ہم ہنسی خوشی اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

Categories

Comments are closed.