ڈاکو نے ایک دن گاؤں کی جوان لڑکی کو نہاتے دیکھ لیا تو پہلی ہی نظر میں اس کا دیوانہ ہو گیا ۔

ایک گاؤں سے کچھ فاصلے پر پہاڑوں میں راجہ ڈاکو اور اس کا گروہ رہتا تھا ۔ وہ آتے جاتے قافلوں پر حملہ کرتے اور ان کا قیمتی سامان لوٹ کر لے جاتے ۔ پورے گاؤں میں راجہ ڈاکو کا خوف و حراس پایا جاتا تھا ۔ اس نے گاؤں آ کر کسی دیہاتی کو نہیں لوٹا تھا مگر وہ دور سے پہاڑوں پر کھڑا ہو کر دور بین کے ذریعے گاؤں والوں کا مشاہدہ کر لیتا ۔ اسے معلوم ہو جاتا کہ کون گاؤں سے باہر سفر کے لیے نکل رہا ہے ، راستے میں چھپ کر وہ حملہ کر دیتااور قیمتی سامان اور نقدی لوٹ کر چلا جاتا ۔

ایک دن راجہ ڈاکو نے دور بین سے دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکی نہانے کے بعد بال سکھا رہی ہے ، وہ گاؤں کے چوہدری رحیم کی بیٹی صائمہ تھی ۔ راجہ ڈاکو پہلی ہی نظر میں اس کا دیوانہ ہو گیا ۔ اس نے اپنے گروہ سے کہا کہ گاؤں کی ایک لڑکی مجھے بہت پسند آئی ہے ۔ اب تو جب تک میں اس کو اپنے سامنے نہیں دیکھوں گا میں ایسے ہی بے چین رہوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ سردار آپ فکر مت کریںہمیں چوبیس گھنٹے کا وقت دیں ، کل اس وقت تک وہ لڑکی آپ کے سامنے ہو گی ۔ ڈاکو اس بات سے بے خبر تھے کہ صائمہ کی دوسرے دن شادی تھی ۔ دوسرے دن بارات چوہدری رحیم کے گاؤں پہنچ چکی تھی ۔ چوہدری صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کے موقع پر پورے گاؤں میں مفت راشن اور کپڑے تقسیم کیے تھے اور سب کو مفت کھانا کھلایا ۔ ابھی مولوی صاحب نے نکاح شروع نہیں کیا تھا کہ اچانک گاؤں میں شور برپا ہو گیا کہ راجہ ڈاکو گاؤں میں آ گیا ہے ۔ سب لوگوں ےمیں خوف و حراس پھیل چکا تھا ۔ گھوڑے پر سوار کچھ ڈاکو شادی کے خیموں کے اندر گھس گئے ان کے پاس ہستیار موجود تھے

جس کی وجہ سے کسی کی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ ڈاکوؤں کے سامنے کوئی بات کر سکے ۔ پھر راجہ ڈاکو اپنے گھوڑے سے اترا اور مولوی صاحب سے کہنے لگا کہ اگر جان پیاری ہے تو واپس اپنے گھر چلا جاو اور صائمہ سے کہا کہ آؤ میرے ساتھ چلو ۔ صائمہ نے دیکھا اور پھر کہنے لگی خبیث انسان مجھ سے سے دور ہوجاؤ ۔ راجہ ڈاکو کو صائمہ پر غصہ آ گیا ۔ اس نے صائمہ کو کندھے پر اٹھایا گھوڑے پر سوار کیا اور واپسی کی راہ لی ۔ دولہے کے باپ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تمھاری قسمت اچھی تھی جو اس لڑکی سے شادی نہیں ہوئی جس نے تو مخطرناک ڈاکوؤں سے چکر چلا رکھے ہیں اگر شادی کے بعد ہمارے گھر سے اسے اٹھا لیتے تو ہماری عزت کا جنازہ نکل جاتا ۔ چوہدری رحیم نے جب یہ بات سنی تو اسے بہت افسوس ہوا ۔ اس نے پرات والوں سے کہا کہ میرے گاؤں سے دفع ہو جاؤ ، تم اتنے گھٹیا لوگ ہو مجھے اسبات کا اندازہ بالکل نہیں تھا ۔ پھر چودھری نے گاؤں والوں سے کہا کہ ہر مشکل میں میں نے تم لوگوں کا ساتھ دیا مگر افسوس آج مجھ پر مشکل وقت آیا تو کسی نے بھی میرا ساتھ نہ دیا ۔ اب میں مجبور اور لاچار ہوں اگر کوئی بھی نوجوان اس ڈاکو سے میری بیٹی کو آزاد کرا کے لے آۓ تو میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا ۔ پورے گاؤں کے نوجوان راجہ ڈاکو کے خوف سے سر جھکا کر اپنے اپنے گھر چلے گئے ۔ پھر ستر سال کا بوڑھا شخص آگے بڑھا اور چوہدری سے کہنے لگا

کہ میںآپ کی بیٹی کو ڈاکو سے آزاد کرا کے لاؤں گا ۔ سارا گاؤں دل ہی دل میں اس پر ہنسنے لگا اور سوچا کہ اس بابے کو آخری وقت میں بھی قبر نصیب نہیں ہو گی ڈاکو تو اس کو مار کر دریا میں پھینک دیں گے ۔ بوڑھے نے اپنی پرانی بندوق اٹھائی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ڈاکوؤں کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ۔ اس نے ڈاکوؤں پر فائرنگ شروع کر دی قریب سے ہی ایک قافلے نے فائرنگ کی آواز سنی تو دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی ڈاکوؤں کا مقابلہ کر رہا ہے اور ایک لڑکی مدد کے لیے پکار رہی ہے ۔ بوڑھے کیہمت کو دیکھتے ہوۓ ان کے اندر غیرت آئی اور انہوں نے بھی ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا ۔ آخر ڈاکوؤں نے ہار مان لی اور لڑکی کو ادھر ہی چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ جب بوڑھا آدمی لڑکی کو واپس گاؤں لے آیا تو گاؤں کے سارے نوجوان شرم سے اپنا منہ چھپانے لگے ۔ چوہدری اپنی بیٹی کو دیکھ کر بہت خوش ہوا مگر جب اسے اپنا وعدہ یاد آیا تو وہ افسردہ ہو گیا ۔ اس سے پہلے کہ چودھری خود کوئی بات کرتا بوڑھے نے خود ہی کہہ دیا کہ آپ نے شادی کی شرط رکھ دی ، کاش کسی باپ سے بھی کہہ دیا ہوتاکہ اپنی بیٹی کو چھڑوا کر لے آئو کیونکہ سیٹیاں تو سب کی سانجھی آئی اس لئے میں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اسے لینے کے لئے ہوتی ہیں ۔ مجھے تو صائمہ کے اندر اپنی بیٹی نظر سے لگا لیا اور اس نے بوڑھے دیہاتی کو گلے ہی چودھری رحیم سے کہنے لگا کہ کی ساتھی ہوتی ہیں ۔ کچھ دن بعد بوڑھے دیہاتی کی اپنی بیٹی کی شادی تھی ایک دوسرے گاؤں سے برات آئی مگر نکاح سے پہلے دولہا اور اس کے خاندان والوں نے شادی کی کچھ شرائط رکھدیں جن کو پورا کرنا بوڑھے دیہاتی کے لیے ناممکن تھا ۔ وہ بہت پریشان ہوا ۔ اس نے اپنی پگڑی دلہے کے باپ کے پیروں میں رکھی ہی تھی کہ چوہدری رحیم ادھر آ پہنچا ۔ پھر اس نے براتیوں سے کہا کہ آپ یہاں سے تشریف لے جائیں ورنہ آپ کا جو حال ہو گا وہ آپ ساری زند کی یاد رکھو گے ۔ بارات واپس چلی گئی تو بوڑھا دیہاتی پریشان ہو گیا ۔

پھر چودھری نے اپنے بھتیجے کو دلہے کی کرسی پر بٹھایا جو شہر سے اعلی تعلیم حاصل کر کے آیا تھا ۔ اس کا نام انور تھا انور نے اپنے چچار ٹیم کی زبانی بوڑھےدیہاتی کی بہادری کی داستان سنی تھی اس لیے انور نے خوشی سے بوڑھے کی بیٹی سے نکاح کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ یہ دیکھ کر بوڑھا دیہاتی چودھری کے پیروں میں گرنے لگا تو چودھری نے اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوۓ کہا کہ جن سے رشتے جڑ جائیں ان کے پیروں میں نہیں بلکہ گلے سے لگا جاتا ہے ، اور میں تجھ پر کوئی احسان نہیں کر رہا میں تو اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے کر آیا ہوں اس لیے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔

Categories

Comments are closed.