چچا چمن محلے کے سب سے کنجوس آدمی تھے

چچا چمن محلے کے سب سے کنجوس آدمی تھے۔ان کے گھر کوئی مہمان چلا جائے تو رسمی گفتگو کے بعد پوچھتے:”چائے تو نہیں پئیں گے نا؟ نقصان دہ ہے۔ہاں شربت تھوڑا گرم ہے،چلے گا کیا؟کیک،بسکٹ والی دوکان ابھی بند پڑی ہے کیا کروں؟سموسے والا تو ابھی تیل گرم کر رہا ہے۔

کافی وقت لگے گا۔آپ کہاں اتنی دیر بیٹھیں گے؟“وغیرہ وغیرہ۔مہمان بے چارہ یہ سن کر شرمندہ ہو جاتا۔

ایک دن دوپہر کو کسی فقیر نے ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔چچا چمن نے دروازہ کھولے بغیر پوچھا:”کون ہے؟“

فقیر بولا:”بیٹا!مہربانی کرو،مجھے دس روپے دے دو میرے پاس سالن ہے روٹی لے کر کھا لوں گا۔

”جاؤ،جاؤ،دفع ہو جاؤ،نہیں ہیں میرے پاس پیسے،پتا نہیں کہاں سے ایسے بے کار لوگ آجاتے ہیں مانگنے کے لئے۔

کھانے سے دل نہیں بھرتا۔“چچا چمن نے بے چارے فقیر کو خوب باتیں سنائیں۔فقیر مایوس ہو گیا۔آخر اس کی زبان سے بد دعا نکلی:”اللہ تجھے ہمیشہ کھانے سے دور رکھیے،تو بھی کچھ نہ کھا سکے۔

“اتنا کہہ کر وہ چلا گیا۔

چند روز بعد چچا چمن کے معدے میں شدید درد اُٹھا۔درد اتنا شدید تھا کہ وہ تڑپ تڑپ اُٹھے۔گھر والے ان کو اسپتال لے گئے۔اسپتال میں چچا چمن کے مختلف ٹیسٹ ہوئے۔آخر معدے کا السر شخیص ہوا۔ڈاکٹر نے ہدایت کی کہ دس پندرہ دن تک اسپتال میں رہنا ہو گا،تاکہ مکمل علاج معالجہ کیا جا سکے۔

اسپتال سے گھر واپس آئے تو کمزوری سے نڈھال تھے۔بہت بُرا حال تھا۔کوئی چیز ہضم نہ ہوتی۔دہی بھی کھاتے تو اُلٹی ہو جاتی۔ڈاکٹر کے پاس جاتے تو وہ کہتا بد پرہیزی کی ہے،ٹیسٹ کرواتے تو سب ٹھیک آتے۔دوا باقاعدگی سے استعمال کرنے کے باوجود طبیعت سنبھلنے میں نہیں آرہی تھی۔

رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔تھوڑا سا کھانے پر بھی اُلٹی ہو جاتی۔

چچا چمن کی راتوں کی نیند اُڑ چکی ہے۔اُن کو موت کا خوف ہونے لگا۔ایک رات سوچتے سوچتے انھیں نیند آگئی۔خواب میں دیکھا کہ پلاؤ کی دیگ کے قریب بیٹھے ہیں اور سب کو چاول بانٹ رہے ہیں۔

صبح اُٹھ کر چچا چمن نے گھر والوں کو اپنا خواب سنایا۔انھوں نے مشورہ دیا کہ غریبوں کو کھانا کھلائیں۔چچا چمن نے خیر و باورچی کو بلوایا اور اس سے پوچھا:”بیٹا پلاؤ کی دس کلو والی دیگ پر کتنا خرچ آجائے گا؟“

باورچی نے خرچ بتایا۔

چچا چمن دس کلو کی دیگ پر ہونے والے خرچ کا سن کر بڑے پریشان ہوئے،لیکن پھر سوچا کہ شاید خیرات کرنے سے میں ٹھیک ہو جاؤں۔انھوں نے اتوار کی ایک دوپہر کو یہ مشکل مرحلہ طے کر ہی لیا۔محلے کے نوجوانوں کی مدد سے محلے داروں اور غریب غربا میں چاولوں کی تقسیم ہوئی۔

چچا چمن اب کافی پُرسکون رہنے لگے،طبیعت بھی قدرے بہتر محسوس ہونے لگی،لیکن جب اس فقیر کا خیال آتا تو پھر وہی منحوس درد شروع ہو جاتا۔یونہی کئی دن بیت گئے۔

ایک شام کو کسی فقیر کی آواز آئی:”اللہ کے نام پر دے دو بابا!“

چچا چمن بھاگ کر گئے۔

وہی فقیر کھڑا تھا،جس نے انھیں بد دعا دی تھی۔چچا چمن اس کا بازو پکڑ کر اندر لے آئے۔فوراً ہی انھوں نے اپنے بڑے لڑکے کو ہوٹل سے کئی قسم کے کھانے لانے کے لئے دوڑایا۔کچھ ہی دیر میں لڑکا ہوٹل سے شامی کباب،بریانی،قورمہ،روٹیاں اور آئس کریم لے آیا۔چچا چمن اور فقیر نے پیٹ بھر کر کھایا۔جاتے وقت فقیر بہت خوش تھا۔ایک ہفتے علاج کے بعد چچا چمن مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔

Categories

Comments are closed.