چور سچے دل سے توبہ کر لی اور محلے کی مسجد میں جا کر اعلان

یک چور جیل سے رہا ہوا ۔ اس نے باہر نکلتے ہی سچے دل سے توبہ کرلی۔اس نے عہد کیا آج کے بعد بھی چوری نہیں کروں گامگر کسی نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا ۔ اس نے محلے کے لوگوں سے کہا : کیا آپ میں سے کوئی مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر نا چاہے گا ؟ اگر چہ اس نے اپنے برے کاموں سے توبہ کرلی تھی مگر لوگ اس سے ڈرتے تھے اب بھی لوگ ڈر کی وجہ سے خاموش تھے مگروہ چاہتا تھا

کہ لوگ اپنی خوشی سے اسے اپنی بیٹی دیں ۔ لوگوں کی خاموشی دیکھ کر وہ وہاں سے جانے لگا ۔ کیاتم مجھ سے شادی کروگے ۔۔ ؟ یہ آواز سن کر وہ بڑی تیزی سے پلٹا ۔ یہ کورج عورت تھی جو اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے خود شادی کے لیے کہہ رہی تھی ۔ وہ پلٹا تو اس عورت پر نظر پڑی ۔ وہ ایک طوائف تھی جو اس کے محلے کے آوارہ مر دوں کادل بہلاتی تھی ۔ وہسوچ میں پڑ گیا ۔ اس کے سامنے کھڑی طوائف مسکرانے گی جبکہ ارد گرد کھڑے لوگ اس صورت حال پر حیران پریشان تھے کہ اب وہ کیا فیصلہ کرتا تھا ۔ اگر تم میرامانی بھلا کر میرے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار ہو تومیں بھی تمہارامانی بھلا کرتمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لیے تیار ہوں یہ سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا مگر اندر ہی اند رسب خوش تھے کہ چلو دوبرے لوگ ایک ہوگئے ۔۔ چند دن بعد ان دونوں کی شادی ہو گئی ۔

محلے کے عور تیں خوش تھیں کہ کوٹھے والی اب کسی کے گھر والی بن گئی تھی اس لیے ان کے مر دبہنے سے بچ گئے جبکہ مر دخوش تھے کہ اب اس چور سے اج کی عزتیں محفوظ تھیں ۔۔ دونوں نے توبہ کر کے شادی تو کرلی مگر سب کی آنکھ میں کنکر کی طرح لگے ۔ سب نے کہا کہ طوائف کبھی شریفانہ زندگی نہیں گزارسکتے اور نہ ہی چور شریفوں کی طر شریفوں کے طرح رہ سکتاسب کو لگا یہ شادی ایک دن بھی نہیں چلے گیے ۔ مگر دونوں نے لوگوں کو حیران کر دیا ۔ طوائف گھر بیٹھ گئی جبکہ چور محنت مزدوی کر کے اپنا گھر چلانے لگا ۔ لوگ پھر بھی باتیں بنانے لگے جلد دونوں اس زندگی سے بے زار ہو جائیں گے اور واپس اپنی اپنی زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ مگر لوگ یہ سے کرحیران ہوگئے کہ طوائف چور کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔لوگ پہنے لگے ۔ ان دونوں کامذاق اڑانے لگے ۔ کسی نے کہا کہ اگران کی بیٹی ہوئی تو ضر ور ماں کے پیشے کو اپنائے گئے ۔۔ کسی نے کہابیٹا ہوا تواپنے پ پر جائے گا ۔ یہ باتیں ہوتی رہیے ۔۔ یہ باتیں اب دونوں تک بھی پہنچت رہیں مگر وہ اپنی زندگی میں مگن رہے ۔ لو گوں کاکام بن باتیں بنانا تھا ۔۔ نیت تو صرف خدا جانتا ہے۔اورخدا جانتا تھا کہ اب دونوں کی نیت صاف تھی ۔ دونوں ایک دوسرے کاسا تھ پا کر بہت خوش تھے ۔ پھر یو نہی وقت گزرتا گیا ۔۔ جن لوگوں نے کہا تھا کہ یہ دونوں ایک نہ ایک دن اپنے مانی کی طرف لوٹ جائیں گے وہ اپنی سوچ پر شرمندہ ہونے لگے۔۔سال بعد ان دونوں کو اللہ تعالی نے ایک بیٹے سے نوازا ۔ دونوں نے اس کی تربیت پر جاج لگادی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کیکہی باتیں چ ہو جائیں ۔

ان دونوں نے ایسا بھی وقت دیکھا تھا کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو تا اور بچہ بو کھ سے روتا رہتا۔۔ایسے میں اگر وہ چاہتے تو اپنے دھندے کی طرف لوٹ جاتے مگر انہوں نے بھوک کو آزمائش سمجھ کر بر داشت کیا۔ان کاپیٹابڑاہواتوانہوں نے اسے اچھی تعلیم دلائے ۔ خوب پڑھایا لکھایا یہاں تک کہ وہ حافظ قرآن بجے گیا ۔ وہ دور دور کی مسجدوں میںجمعہ پڑھانے جاتا جبکہ اس کے محلے کے لوگ اسے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے ایک چور اور طائف کا بیٹا اتانیک کیسے ہو سکتا تھا ۔ وہ سوچتے یقینا یہ سب اس کا دکھاوا تھا ۔ اس دوراب محلے کی مسجد کا بوڑھا مولوی بیار پڑ گیا۔ان کی بیاری کاسج کر محلے والے سوچ میں پڑگئے کہ اب ارج کیے جگہ کوج لے گا۔لیکن چند درج بعد خودہی مولوی صاحب نے اس مسئلے کا حل پیشکر دیا ۔ اس نے اپنی جگہ پر جس نوجوان کو چناوہ طوائف اور چور کا بیٹا تھا ۔ سب اعتراض کرنے لگے ۔ مگر یہ تو ایک طوائف اور چور کا “ ۔ مولوی صاحب سے لوگوں سے کہا ؛ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مجھ جیسے نیک آدی کابیٹاج دنوں جیل میں ہے جبکہ ایک چور اور طوائف کا بیٹا مسجد میں ہے ۔ ضروری نہیں کہ نیک آدی کی اولاد نیک اور برے آدمی کے اولاد ہد ہو ۔۔ بھی بھی برے آدی کے گھر فرشتہ اور اچھے آدمی کے گھر ابلیں پیدا ہو جاتا ہے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *