چلاق لڑکی

یسے ہی میں نے اپنے تعلیم مکمل کیے تو میری مان نے میری شادی کرنے کا شور مچا دیا فٹ سے رشتے کروانے والی آنٹی کو بلایا اور یہ نیک کام اس کے ذمہ لگا دید صورت حال یہ ہو گئی کہ ہر دوسرے دن کوئی نا کوئی رشتہ دیکھنے ہمارے گھر بیٹا ہو تا تھا خوب کھاتا پیتا اور جاتے ہوۓ یہ کہہ کر چلا جاتا

کہ لڑکی کی عمر ابھیکم ہے اس کو توکام کرنے اور گھر داری کاسلیقہ بھی نہیں ۔ ہےان کی بات کسی حد تک ٹھیک ہوتی تھی کیونکہ میں بمشکل ستر اٹھارہ سال کی تھی ای نے تو مجھے کسی کام کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیا تھالیکن اب ایک دم شادی جیسی بڑی ذمہ داری ڈالنا چاہتی تھی سب سے زیادہ غصہ تو مجھے رشتے والی آنٹی پر تھا جوجانے کہاں کہاں سے فضول قسم کے لوگوں کو میرا رشتہ دکھانے ہمارے گھر لے آئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر خوب ڈٹ کر کھانہ کھاتی اور واپس پرای سے کہتی کہ بہن پر پریشان نہ ہو اگلی باری کے سے اس سے بھی اچار شتہ لے کر آؤں گی مجھے تو لگتا تھا کہ اس کو بھی مفت کھانے پینے کا طریقہ مل گیا تھا اس لیے جاہل اورفضول لڑکوں کے رشتے لے کر آئی تھی تاکہ نا کہیں بات کی ہو نا اس کا کھانے پینے کا سلسلہ رکے حالانکہ اسے کواچھی طرح پتا تھا کہ میں خو بصورت کم عمر تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی ہوں ہمارا اپنا بھینسوں کا باڑہ تھا اور اکثر شام کے وقت میں خود بالٹی لے کر دودھ نکالنے جاتی تھی

اور میںشوق سے ایسا کرتی تھی وہ گرمیوں کی ایک ابر آلود شام تھی بادلوں اور تیز ہوا نے موسم خوشگوار کر دیا تھا شام کے چار بجے میں دودھ سے بھری بالٹی ہاتھ میں پکڑے باڑے سے گھر آئے تو صحن مہمانوں سے بھرا پڑا تھا کوئی چار خواتین دو مر داور ساتھ چار پانچ بچے بھی تھے جن کو لیڈ کرنے والی آنٹی یعنی رشتے والیآ نٹی بھی ساتھ تھی میں دیکھتے سمجھ گئی کہ آچکا گئی کہ آج کا خو بصورت موسم ان لوگوں کے لیے کھانے بنانے اور ان کے منہ میں ٹھونسنے کی نظر ہو جائے گا اور جاتے ہوۓ پھر یہ لوگ کوئی دل جلانے والی بات کر کے مجھے ریجیکٹ کر کے چلے جائیں گے سب سے سلام لے کر میں کچن میں جانے گی تو ر شتے والی آنٹی جس کا نام آنٹیصفیہ تھا پیچھے سے آواز دے کر بولی سعد یہ بیٹی کھانے کا بند وبست بعد کر نے سے پہلے اپنے ہاتھوں سے زیر دست کی چاۓ بناکر مہمانوں کو پلاؤ کہ ہمیشہ تم کو یاد رکھیں آنٹی صفیہ کی بات سن کر میر ا دماغ گھوم گیا لیکن میں سرہلا کر کچن میں چلی آئی اور چولہے پر چائے رکھ کر کھڑکی مہمانوں کا جائزہ لینے لگی ان کودیکھتے ہی میں سمجھ گئی کہ یہ لوگ کتنے پانی میں ہیں سچی بات تو یہ تھی کہ اب امی بھی رشتے والی آنٹی صفیہ کی چالاکیوں سے تنگ آچکی تھی اور جان چھڑانا چاہتی تھی انہی خیالوں میں گم میں نے دودھ میں چاۓ کے پتے کی جگہ سبز چائے ڈال دی جب احساس ہوا تو میں پریشان ہو گئی لیکن خیر میں نےسوچا جو ہو گا اب دیکھا جاۓ گا چاۓ کا ذائقہ توا چھا تھا لیکن اس کا رنگ سبزی مائل ہو گیا تھا میں ٹرے میں چاۓ والے کپ رکھے اور ساتھ چار طرح کے بسکٹ سجاکر پیش کر دیے

اور مہمانوں کی فرمائش پر پاس ہی بیٹھ کرار کے عجیب عجیب سوالوں کے جواب دینے لگی جب سب لوگ چائے پے چکے تو آ نٹی صفیہ نےبلند آواز میں کہا سعد یہ بیٹی چائے تو اچھی تھی لیکن یہ اس کا رنگ کیوں سبز تھا اختیار میرے منہ سے نکلا کہ انٹی جب میں باڑے میں بھینس کا دودھ نکال رہی تھی تو ایک بھینس نے دودھ کی بالٹی میں گوبر کر دیا تھا اس لیے چاۓ کار نگ سبز تھا سب لوگ اس الٹیاں کرنے لگے اور فور اٹھ کر واپس بھاگ گئے میں اور امیہنس ہنس کر ایک دوسرے پر گری جارہی تھیں اس دن کے بعد نا تو گھر میں آنٹی صفیہ آئیے نا ہی کوئی فضول رشتہ اور میں نے ای کیے اجازت سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے یو نیورسٹی داخلہ لے لیا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *