پینڈوماں اور ماڈرن بیوی

ب وہ بظاہر ایک کامیاب آدمی بن چکا تھا ۔ گاڑی بلکہ بہترین نوکری اور وہ سب کچھ تھا اس کے پاس جو آج کل ایک کامیاب شخص کہلانے کے لیے ضروری شمار کیا جاتا ہے اس نے اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر مہنگی سوسائٹی میں گھر لے لیا تھاشادی بھی اونچے خاندان کی لڑکی سے کر لی تھی ۔

کچھ عرصہ گزرا ، تو اس کی بیوی اس سے کہنے لگی کہ میں تمہاری ماں کے ساتھ نہیں رہ سکتی کیونکہ وہ ایک ان پڑھ عورت ہیں ، مجھے کسی کو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ یہ میری ساس میں لہذا مجھے ایک علیحدہ گھر لیکر دو یا اپنی ماں کو کہیں اور چھوڑ آؤ ۔ اور فی الحال میں اپنی امی کے گھر جارہی ہوں وہ کافی حیران ہوا اور بولا میں اپنی ماں کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں ۔ لیکن اس کی روز روز کی ضد اور لڑائی سے تنگ آگر آخر ایک دن اس نے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنی ماں سے اس بارے میں بات کرنے پر آمادہ ہو گیا ۔ آج رات جب وہ گھر آیا ، تو اپنے کمرے میں جانے کے بجائے سید حاماں کے کمرے میں چلا گیاماں اپنے لخت جگر کو آج اپنے کمرے میں دیکھ کر خوش ہوئی اور بیٹھنے کا بولا حال احوال پوچھنے کے بعد ماں نے آج اس طرح بجائے اپنے کمرے میں جانے کے سیدھا اس کے کمرے میں آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا کہ ماں میں اب اس قابل ہو گیا ہوں کہ آپ کے تمام احسانات کا بدلہ چار گناہ کر کے آپ کو واپس کر دوں یہ حساب چکتا کر کے میں اپنی بیوی کو لیکر کہیں اور گھر لے لوں گا ۔ میں اور میری بیوی وہاں رہیں گے اور آپ آرام سے یہاں ، ریسے کا۔ماں نے جواب دیا کہ بیٹا حساب ذرا لمبا ہے

اس لیے تھوڑا وقت در کار ہو گا ۔ وہ بولا کوئی جلدی نہیں ہے آپ آرام سے کر لیجئے ۔ اتنابول کر وہ واپس اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔ رات جب کچھ گہری ہونے لگی تو ماں نے ایک جنگ میں پانی بھرا اور بیٹے کے کمرے میں با کر اس کے بستر کے ایک طرف ڈال دیا بیٹے نے جب اس طرف کروٹ لی پانی کی وجہ سے اسکی آنکھ کھل گئی جب دیکھا کہ ماں ہاتھ میں جگ لئے کھڑی ہے اور بستر پر پانی بھی اس نے ہی ڈالا ہے تو چلانے لگا کہ یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟ ماں بولی کہ بیٹا اپنے بچپن میں پتا نہیں کتنی دفعہ تو نے میرا ، بستر اسی طرح گیلا کیا تھا اور میں نے غصہ کرنے کے بجائے تمہیں خشک جگہ پر ڈالا اور خود گیلی جگہ لیٹ گئی بلکہ بعض اوقات اپنے پیٹ پر بھی سلایا تھا ، سوچا تمہیں بتا دوں حساب چکانا بہت مشکل ہو جانے کا تم اس گھر میں رہو مجھے کہیں بھی ایک کمرے کا گھر لے دو یا تمہارے گھر کے پچھلی طرف کا کمرہ ہی مجھے دے دو میں وہیں رولوں گی ۔ وہ اٹھ کر بیٹھ چکا تھا اور اداس آنکھوں سے ماں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ماں کو کیا جواب دے۔ماں کچھ دیر رک کر اپنے کمرے میں جاچکی تھی ۔ یہ کافی دیر تک جاگتارہا اور پھر اچانک اس نے ایک فیصلہ کیا اور سکون کی نیند سوگیا ۔ صبح ہوئی بیوی کو گھر بلایا ، اس کی پند کی کچھ چیز مہیا کی اور کہا : یہ بتاؤ کہ تمہاری امی کہاں رہتی ہیں یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ ، آپ کو معلوم تو ہے کہ وہ میرے بھائی کے گھر رہتے ، بیوی نے جواب دیا

تو ایک کام کرتے ہیں ہم اچھا سا ایک گھر لیتے ہیں جس میں تمہاری اور میری امی رہیں گی ۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میری امی اپنے بیٹے کے بغیر کیسے رہیں گی وہاں ان کا کون خیال رکھے گا ۔ بیوی نے مجھے بجھے لیے میں جواب دیا ۔ جس طرح آپ کو اپنی امی کا خیال ہے اور ہونا بھی چاہئے ، بلکہ جو اپنی والد و کا خیر خواہ نہ ہو ، وہ انچا انسان نہیں تو آپ مجھے بتاو کہ میں اچھا انسان بنوں یا کیا ؟ اس آدمی کی حکمت بھری گفتگو سے بیوی کو بات سمجھ آپکی تھی ، اور ۔ ۔ ۔ پھر جب رات آئی تو گھر کا منظر بھی عجیب سال پیش کر رہا تھا ۔ رات دستر خوان پر ایک ماں اس کا بیٹا ہو اور اس کے پوتے پوتیاں مل کر کھانا کھارہے تھے خوشیاں بکھر رہی تھیں ، رات میاں بیوی کی آنکھوں میں آنسوں اور زباں پر ایک ہی جملہ تھا کہ یقینا جو سکون آج ملا وہ سکون ساری زندگی میں نہ مل سکا جی ہاں والدین کی خدمت ان کی خیر خواہی میں دونوں جہاں کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ماں باپ سے محبت کرنے والا اور ان کا فرمانبردار بنائے ۔۔۔ آمین یا رب العالمین

Categories

Comments are closed.