پھانسی سے پہلے اس سے اس کے آخری خواہش پوچھی گئی

ھانسی سے پہلے اس سے اس کے آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے ایک عجیب و غریب خواہش کا اظہار کر کے سب کو چونکا دیا ۔ میں گاؤں کی بڑی والی مسجد کے احاطے میں اس کے ممبر پر کھڑا ہوئے تقریر کر نا چاہتا ہوں ۔ جس منبر پر کھڑے ہو کر مولوی عبدالصمد نے خطبہ دیا تھا ،

آخری خطبہ سو پھانسی لگنے والے کی آخری خواہش کا احترام کیا گیا ۔ بات مارچ اپریل کے طوفان کیے طرح ہر طرف پھیل گئی ۔ اس درج سارے کا سارا گاؤں اس کی تقریر کے لیے امڈ پڑا تھا ۔ گاؤں کی بڑ والی مسجد جس کے احاطے میں معمول کے طور پر جمعہ کے روز بھی چند نمازی ہوا کرتے تھے اس روز بھری ہوئی تھی ۔ لوگ مسجد کے احاطے سے باہر بھی امڈ آۓ تھے وہ یہ جاننے کے سخت مشتاق تھے کہ وہ اپنی تقریر میں کیا کہنے والا ہے ۔ اس کو پولیس کے نگرانیمیں لایا گیا ۔ بڑے خصوع و خشوع کے ساتھ اس نے وضو کیا اور اس منبر کے سامنے کھڑا ہو گیا جس پر کھڑے ہو کر مولوی عبدالکریم گاؤں کے نمازیوں کو خطبہ دیا کرتا تھا ۔ مولوی عبد الصمد اس کا مقتول اس دن سے میں ایک سال قبل اپریل کے مہینے میں گندم کی کٹائی کے بعد وہ گاؤں کی طرف لوٹ رہا تھا ۔ جمعہ کا دن قاغضب کیے گڑی پڑرہی تھی مگر بدن سہتا تھا ۔

وہ گاؤں کے مسجد والی گلی کادرج پڑ تامیں داخل ہواتو مولوی عبد الصمد منبر پر کھڑا خطبہ دے رہا تھا ۔ مسجد کے احاطے کیے کو تاہ چار دیواری اندر باہر کے بھیدوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام تھی کہ مولوی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی عورت فتنہ ہے ۔ یہ آدم کو جنت سے نکلوانے والی ہے ۔ خداکا وعدہ ہے کہ روز قیامت جہنم کےاندر سب سے زیادہ عور تیں جائیں گے کیونکہ عورت قص العقل اور تقص الدین ہے ۔ ایمان والے مر دواجس قدر ہوئے عورت سے بچو ۔ اس اس سے گریز کرو ۔ یہ اپنے طرف مائل کرتی ہے اور مائل ہونے والوں کو گھائل کرتی ہے ۔ اس پہ نظر پڑ جاۓ تو فوراً استغفر اللہ کا ورد کرو تاکہ تمہاری نگاہ پاک رہے ۔ یہ پاکباز مردوں کی شان ہے اس سے آگے معلوم نہیں مولوی عبدالصمد کیا کیا کہتارہا ۔ اس نے نہیں سنا ۔ اس کی آنکھیں دھند لا گئی تھیں اور کانوں کے اندر طوفانوں کا شور ساگیا تھا ۔ نہ جانے کیسے اس کادایات ہاتھ نیچے کی طرف جھکا ۔ پینے کی اینٹوں کی دیوار کے ساتھ نالی کے پاس ایٹ روڑوں کا ڈھیر ڈھیر لگا تھا ۔ اس نے ایک اینٹ کاروڑہ اٹھایا اور گھما کر پورے زور کے ساتھ مولوی عبدالصمد کے منہ پر دے مارا ۔ اینٹ روڑہ شاید مولوی عبدالصمد کیکنپٹی پر کا تھا

کہ پہلے تو مولوی سمجھ ہی نہ سکا کہ ہوا کیا ہے ۔ اس کے بعد وہ سر پکڑ کر وہیں دوہرا ہو گیا ۔ نمازیوں نے فورامڑ کر دیوار کیے اس طرف دیکھاجد ھر سے وہ روڑہ آیا تھا ۔ وہاں وہ کھڑا تھا ۔ بے حس و حرکت مولوی عبد الصمد کی ہلاکت ہو گئی تھی ۔ وہ چپ چاپ جاکر تھانے میں پیش ہو گیا تفتیش سے لے کر جیل اور پانی کی سزاکے فیصلے تک اس نے اس نے زبان نہیں کھولی ۔ زبان کھولی تو اس دن جس درج اس سے اس کے آخری خواہش پوچھی گئی ۔ آخری خواہش وہ بھی کیسی عجیب و غریب وہ منبر پر کھڑا تھا ۔ لوگ بے تابی سے چپ سادھے ہوۓ تھے اور وہ اضطراب سے چپ تھا ۔ لوگ جاننا چاہتے تھے کہ اس نے اتنے شریف النفس مولوی کو کیوں مارا ۔ ہر طرف سناٹا تھا ۔ آج بھی اس دن کی طرح گری تھی لوگ اپنے اپنےپسینے کے اند ر تر بتر دم سادھے بیٹھے تھے کہ اچانک اس کی آوازا بھری حاصل پور کیے گندم کی کھڑی ہے اور تم سارے اس کو کو چھوڑ کے ہاں بیٹے ہو۔ادور دور تک پھیلے ھیتوں کے در میان کہیں میرابھی کمیت ہے اور ان کھیتوں کے پار ایک قبرستان ہے

جس میں میر افضل حسین دفن ہے ۔ اس کی دادی اور چاہے دفن ہیے اور اب باپ بھی دفن ہو جاۓ گا۔ان کھیتوں ہمارے پینے دفن ہیں ۔ ہمارے خون ہماری ہڈیاں دفن ہیے ۔ ہماری مجنتیں ہماری محبتوں کے سجیلے موسم بھی ان کھیتوں کے اندر دفن ہوگئے ۔اس سنہری جھیک کی ۔ خاطر ہم نے وہ موسم بھی گنوادیے جو اپنی کو کھ میں ملن اور ملاپ کے سوفا تھیں اور پیغام لے لے کر آتے تھے ۔اس پر بھی خدا نظریں گاڑے بیٹارہتا ۔ خداجو مسجد میں رہتا ہےمسجد خداکا گھر جو ہے ۔ خدا اپنے نمائندوں کی زبان سے باتیں کر تا عورت اور محبوبہ سے نفرت کر ناسکھاتا ۔ خدا محبت کے خلاف کیوں ہوتا ہے ؟ وہ پچ پڑا اس کی آواز پھٹ رہی تھی ایک نوجوان دوڑ کے اس کے لیے پانی لے آیا ۔ پانی کو اس نے غثاعنٹ پے لیا ۔ کچھ دیر تک ہانے انداز میں لیے لیے سانس لیتارہا پھر بول پڑا ،، اس نے ہمارے حسین موسم غارت کر دیے ۔ سردیوں کے طویل راتیں ، گیدڑوں کیے ہو نکار ، گئے گئے کارس اور گرم بستر کی حرارت ہمیں دھو نہیں دیتی ۔ مگر ہم نے یہ ساری دعوتیں ٹھکرادیں ہم کھیتوں کے منڈھیں ٹھیک کرتے رہے ۔ ہم تکھے سے لے کر کھیت تک نہری پانی کی کھالیوں اور کاریزوں کے پھیرے لگاتے رہے ۔

تاکہ وہ سارا پانیسیدھان کھیتوں تک جائے جنہوں نے ہمیں زندگی دینے تھی اور جو ہماری جنت کی ضمانت تھے ۔ اور جن کے غلے کا ایک حصہ ہم نے مسجد کو دارج کرکے خدا کو رہنی کرنا تھا ۔ خدامگر اس پر بھی خوش نہ قاخدا کس بات پر خوش تھاہم کبھی نہ جانے سے ۔ ہم درانتیاں درانتیاں پکڑے کھیت کاٹ رہے ہوتے تو وہ ہمیں دنیا داری کی غلاظت میں جکڑے ہوۓ لوگ کہا کرتا۔اور پکارتا ۔ نماز کی طرف آؤ فلاح کے طرف آؤ ہم درانتیاں رکھتے اور چل پڑتے ۔ ہم خداکیلے جارہے تھے اور اس کے لیے مر رہے تھے کہ لو گو میر فضل حسین مر گیا ۔ اس نے دھاڑیں مارمار کر رونا شروع کر دیا ۔ مسجد کی کو تاہ دیوار کے پار عورتوں کے در میان سہارالے کر کھڑی اس کی بیوی نے بھی چیخیں مارنی شروع کر دیں ۔ لوگوں میںچہ میگویاں شروع ہو گئیں ۔ ایک نوجوان اٹھا اور بھاگ بھاگ کر پانی کاکٹورہ لے آیا مگر اس نے اب کی بار پانے قبول نہیں کیا وہ اپنے ہی آنسوؤں کے ہڑمیں ڈوبا ہوا تھا ۔ اب اس کی آواز سرگوشیوں میں بدل گئی تھی ۔ وہ بھی گرمیوں کے کھٹی میٹھی دو پہر تھی جب میر فضل حسین مسجد سپارہ پڑھنے گیا تھا ۔ اور جب دیر تک نہیں لوٹاتومیں خود لینے گیا ۔ لو گو جانتے ہو جب میں اپنے آٹھ سال کے فضل حسین کولے کر مسجد سے نکلا تو وہ میری انگلی پکڑے چل نہیں رہاتھا ۔ اس کی لاش میرے بازوؤں میں تھی ۔ وہ مولوی عبد الکریم کے پاس صبح کا پارہ پڑھنے گیاتھا ۔ لو گو جانتے ہو ناں جس ، جس دن مولوی عبدالکریم کا اٹھا اس درج میرے فضل حسین مرے ہوۓ بیالیسواں درج تھا ۔ وہ میرے فضل حسین کے مرنے کے صرف بیالیس درج بعد جمعہ کے خطبے میں تم سارے گاؤں والوں کو عورتوں کے خلاف بھڑ کار ہا تھاصرف بیالیس درج بعد سرگوشیوں کا بھی دم ٹوٹ گیا تھا ۔ لوگوں کی آنکھوں کے آگے سے سارے پردے اٹھ گئے تھے ۔ سب دم بخود تھے کہ اچانک جنوب سے سرخ طوفان اٹھا اور آنافاناہر طرف پھیلتا چلا گیا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *