پولیس آفیسر کو ایک گھر سے مجروں کی آواز آئی

میں جہانزیب علی محکمہ پولیس میں انسپکسر تھا ۔ ایک دفعہ میں ڈیوٹی سے گھر واپس آ رہا تھا کہ مجھے راستے میں عشاء کی اذان سنائی دی ۔ میں نے اذان سننے کے لیے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا تو اذان سے زیادہ تحش گانوں کی آواز آ رہی تھی ۔ میں گاڑی کو اسی سمت لے گیا جہاں سے میوزک کی آواز آ رہی تھی ۔

پت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک پیشہ ور طوائف کا گھر ہے ۔ جس کے پاس مغرب کے بعد علاقے کے وڈیرےلوفر اور رئیس لوگ شراب میں دھت ہو کر آ جاتے ہیں اور پھر ساری رات ناچ گانے کی محفل جماۓ رکھتے ہیں ۔ کچھ ضروری معلومات لینے کے لئے میں طوائف کے کوٹھے میں داخل ہو گیا ۔ سامنے سب نشے میں دھت تھے یہاں تک کہ سکیورٹی گارڈ بھی اپنے ہوش و حواس میں نہ تھا ۔ میں نے جا کر طوائف سے کہا کہ اذان ہو رہی ہے میوزک بند کرو تو اس نے میری بات سئی ان سنی کر دی ۔

پھر میں نے میوزک سپیکر کی تارکھینچ کر توڑ دی میوزک بند ہوا تو نشے میں دھت وڈیرے بھی اضطراب میں نظر آنے لگے ۔ میں نے طوائف کو نصیحت کرتے ہوۓ کہا کہ کچھ تو خدا کا خوف کرو , میری بات سن کر طوائف نے طنزیہ انداز میں کہاں کہ کیا خدا صرف تمہارا ہے ۔ طوائف کی بات سن کر مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے تھانے سے عملا بلا لیا , عملا آنے سے پہلے حالات کی نزاکت کو کو سمجھتے ہوۓ باقی تماشائی فرار ہو کئے مگر طوائف اور اس کی چیلیاںگرفتار کر کے لیڈیز پولیس کے حوالے کر دی گئیں مجھے پولیس کی بے بسی کا اندازہ تب ہوا جب ایک طوائف نے بھرے مجمے اور میرے عملے کے سامنے مجھے کہا کہ انسپیکٹر جہانزیب یاد رکھنا میں تم کو اتنا ذلیل کر دوں گی

کہ ایک دن میں تیری ہی بیٹی سے مجرا کراؤں گی وہ جسم بیچنے پر مجبور ہو جاۓ گی ۔ اور تو چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکے گا ۔ میں چاہ کر بھی طوائف کے منہ پر تھپڑ نہ مار سکا اور لیڈیز پولیساس کو اٹھا کر لے گئی ۔ میں اس واقعے کو بھول گیا مگر ٹھیک ایک مہینے بعد مجھ پر ایک عورت نے عزت لوٹنے کی کوشش کا الزام لگا دیا ۔ مجھے معطل کر کے انکوائری شروع ک ردی گئی اور انکوائری کے دوران ہی یکے بعد دیگرے تین چار عورتوں نے مجھ پر یہی الزام عائد کر دیا ۔ ابھی میں ان عورتوں کے وار سے خود کو محفوظ نہیں کر پایا تھا کہ ایک اور عورت نے مجھ پر الزام لگا دیا کہ میں جہانزیب اس کو جسمبیچنے اور کمیشن دینے پر مجبور کرتا ہوں ، مجھ پر ان الزامات کے تحت پہلے درخواستیں اور پھر ایف آئی آر درج ہو گئی ۔ میں خود کو پولیس کی گرفت سے دور رکھنے کے لئے عارضی طور پر فرار ہو گیا ۔

پولیس والوں نے ایک دن میری بیوی اور بیٹی کو تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ میری بیوی کو چوری کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا ۔ پھر جب میری بیٹی اپنی ماں کی خبر گیری کرنے گئی تو خدا کے خوف سے عاری پولیسوالوں نے میری بیٹی کی نازک حصوں کو چونا شروع کر دیا ۔ جب میری بیٹی پولیس والوں کی نازیبا حرکات سے تنگ آئی اور رونے لگی تو میری بیٹی کو ماں سے ملوا دیا گیا ۔ اور ماں کی رہائی کے بدلے میری بیٹی کو بستر پر رات گزارنے کا کہا گیا تو میری بیٹی نے قانون کے محافظ پولیس والوں سے کہا کہ آپ میری ماں کو میرے ساتھ بھیج دو اور آج رات مجھے مہلت دے دوں کل خود ہی آ کر میں آپ کے پاس رات گزارو گیا

گر نہ گزاری تو مجھے بیشک دوبارہ میری ماں سمیت گرفتار کر لینا , ہوس کے پجاری پولیس والوں نے میری بیٹی کی بات مان کر اس کو ماں سمیت گھر آنے کی اجازت دے دی ۔ گھر آتے ہی میری بیٹی نے دودھ میں چینی اور گندم میں رکھی جانے والی زہر کی گولیاں ملا کر دودھ کو ابالنے کے بعد خود بھی پی لیا اور ماں کو بھی پلا دیا ۔ دوسرے دن سورج نکلنے سے پہلے ہی میری بیوی اور بیٹی مر چکی تھی مجھے جب بیویاور بیٹی کی موت کا پتہ چلا تو میری زندگی کا مقصد ختم ہو گیا ۔ میں گھر واپس آ گیا مگر مجھے میری بیٹی اور بیوی کا جنازہ تک نہ پڑنے دیا گیا ۔ اور بیوی اور بیٹی کو زہر دے کر قتل کرنے , فحاشی کا اڈہ چلانے اور لڑکیوں سے زبردستی کرنے کی کوشش کے الزام میں مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔ میں نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا ۔ مجھ پر الزام ثابت ہو کئے اور جیل بھیج دیا گیا ۔ میں آج جیل سے اپنی سزا پوریکر کے باہر آ چکا ہوں مگر میری زندگی کا مقصد ختم ہوچکا ی ہو چکا ہے ۔ میں لوگوں کو فقط یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آج کی طوائفیں مجبور نہیں ہوتیں بلکہ مضبوط ہوتی ہیں ۔ قانون کے محافظوں سے بھی مضبوط ۔

Categories

Comments are closed.