پرانے وقتوں کی بات ہے کہ کسی گاؤں میں

رانے وقتوں کی بات ہے کہ کسی گاؤں میں ایک حسین و جمیل لڑ کی رہتی تھی ۔ اس لڑ کی کا ایک بوڑھی عورت کے علاوہ اس دنیا میں اور کوئی سہارا نہیں تھا ۔ وہ لڑ کی ایک بوڑھی عورت کے ساتھ ایک گھر میں رہتی تھی ۔ بوڑھی نے اپنی بیٹیوں کی طرح اس کی پرورش کی۔اب وہ لڑ کی ایک اچھی نوکری کرتی تھی لیکن اس سے پہلے

وہ بوڑھی عورت کپڑے سلائی اور کڑھائی وغیرہ کر کے اس کی پڑھائی کے اخراجات اٹھاتی رہی ۔ وہ لڑ کی بچپن ہی سے بہت خو بصورت اور حسین و جمیل تھی۔اس لڑ کی کی آ نکھیں ہیرے جیسی ناک تلوار جیسی اور اس کے چہرے پر بے حد نور تھا ۔ وہ کسی شہزادی سے کم نہیں لگتی تھی ۔ تمام گاؤں کے لڑکے جب وہ لڑ کی پڑھنے کے لئے جاتی

تواس کو راستے میں دیکھ کر تکتے رہتے لیکن وہ کسی کو بھی لفٹ نہیں کرواتی تھی۔اسی گاؤں میں ایک زمیندار اور اس کابیٹار ہتا تھا ۔ وہ زمیندار بھی بہت ہی نیک اور ر حمل انسان تھا کئی بار اس نے اس بوڑھی عورت کو اس لڑ کی کا خرچہ اٹھانے کے لئے لیے اس کی مدد کی تھی

زمیندار کابیٹا بھی بہت خو بصورت اور حسین و جمیل تھا ۔ اس کے بیٹے کا کام بس اپنی زمینوں پر اپنے گھوڑے پر چکر لگا کر سارادن گاؤں کے درختوں کے نیچے اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں لگانا ہو تا تھا 18 سال تک زمیندار کا بیٹا عشق محبت کے چکر میں نہ پڑا اور اپناسار اوقت اپنے دوستوں کے ساتھ گزار تار ہالیکن جب اس کی عمر 18

سال ہوئی تو وہ ہر وقت خوش خوش رہتا اور اس کے دل میں ایک عجیب و غریب کرن پیدا ہونے گی۔ایک دن وہ اپنی فصلوں سے اپنے گھوڑے پر چکر لگا کر واپس آرہا تھا کہ راستے میں اسے وہ لڑ کی مل گئی ۔ اس کو اتناقر یب سے دیکھ کر اس نوجوان کے دل میں اس کے لئے عجیب وغریب احساسات اور فیلنگ پیدا ہو ناشر وع ہو گئی اور جب اس

لڑکی نے اس نوجوان کو دیکھا تو پہلی بار اس کو بھی کسی مرد میں دلچپسی ہونے لگی۔اب نوجوان روز فصلوں میں جاتا اور جب اس لڑ کی کے گھر آنے کا وقت ہو تاتواسی راستے ہ آ جاتا اور اس لڑ کی سے کوئی نہ کوئی بات کیے بنا نہیں جاتا اور یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتارہا ۔

اب ان دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی۔ایک دن اس نوجوان نے اس لڑ کی کو کہا کہ آج تم میری زمینوں میں عصر کے وقت آجانا میں تمہیں اپنی زمینوں کی سیر کرواؤں گا ۔ یہ سن کر لڑ کی خوش ہوئی کہ چلو آج کام کرنے کے بعد میں آ جاؤں گی اور جب عصر کا وقت ہواتو وہ نوجوان اس کا انتظار کر رہا تھاب جیسے ہی وہ لڑ کی پہنچی

تو وہ اپنی زمینیں دکھانے کے لئے چلا گیا جب وہ اسے اپنی فصلیں دکھارہا تھا تو اس نے لڑ کی کو کہا کہ اس جگہ میرے اللہ تمھارے اور میرے علاوہ اور کوئی موجود نہیں ہے اور میں اپنے اللہ کو گواہ بنا کر تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کیونکہ میں جو بات کہوں گا وہ دل سے کہوں گالڑ کی بڑی پریشان ہوئی که آخر به نوجوان کیسی بات بتانا چاہتا

ہے کھوڑی دیر پچاتے ہوۓ اس نوجوان نے بولا مجھے پہلی بار کسی لڑکی سے محبت ہوئی ہے اور محبت ایسی کہ اسے دیکھے بنا مجھے ایک لمحہ ایک پل چین نہیں آتا ۔ یہ سن کر اس لڑکی نے کہاوہ کون خوش نصیب ہے تو اس نے کہا وہ میری آنکھوں کے سامنے کھڑی ہے ۔ یہ سن کر لڑ کی بہت شرماگئی ۔ پھر لڑکے نے کہا تیری آنکھوں میں کوئی

ایسی غضب کی کشش ہے جیسے ہی میں تجھے دیکھتا ہوں تو تمہاری طرف کھنچا چلا آتا ہوں اس کے بعد وہ لڑ کی وہاں سے شرما کر بھاگ گئی وہ لڑ کا بھی سمجھ گیا کہ لڑ کی بھی مجھ سے محبت کرتی ہے اور چند دنوں بعد لڑ کی نے بھی اسے کہہ دیا کہ میں تم سے بے انتہا محبت کرتی ہوں

اور اس نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنی محبت کو اتنا پا کیزہ بنائیں گے کہ گاؤں والے ہماری محبت کی مثالیں دیں گے ۔ وقت گزرتارہا ایک دن وہ نوجوان اس لڑ کی کے ساتھ اکیلے فصلوں میں چکر لگار ہا تھا تو شیطان اس پر حاوی ہونے لگا اس لڑکے نے اسے کہا کہ یقینا ہماری ایک دو ماہ بعد شادی ہونے والی ہے کیوں نہ ہم اس سے پہلےایک دوسرے کے اور جھی قریب آجائیں کیونکہ شادی کے بعد تو ویسے بھی تم نے میری ہو جانا ہے ۔اس لڑ کی نے کہا کہ جو چیز ہماری شریعت اور اسلام میں ہے ہم اس کی حد کو پار نہیں کر سکتے اگر ایسی بات ہوتی تو ہمارا مذہب بھی نکاح سے پہلے مجھے محبت کرنے والوں کو جسمانی تعلق قائم رکھنے کی اجازت دیتا لیکن جب تک

میں تیرے نکاح میں نہیں آتی تو تم مجھے اس وقت تک غلط ارادے سے چو بھی نہیں سکتے وہ نوجوان اس وقت تو چپ کر گیا اب جب اسے موقع ملتا تو اس لڑکی کو اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے پر مجبور کر تا تھالیکن جب لڑ کی بہت تنگ آگئی تو اس نے اس لڑ کے کو کہا کہ آج میں بوڑھی ماں کو وقت سے سلادوں گی تم آجمیرے گھر آ جانا اور پھر میں تمہاری خواہش پوری کر دوں گی ۔ یہ سن کر وہ لڑ کا بہت خوش ہو گیا کہ آج میں دنیا کی سب سے خو بصورت اور حسین و جمیل لڑ کی کو اپنی باہوں میں لے لوں گا اور پھر چند دن بعد اس کو مکمل طور پر اپنا بنالوں گا ۔ جب آدھی رات کا وقت ہواتو وہ لڑ کی اپنی بوڑھی ماں کو سلا چکی تھی ۔ جب وہ نوجوان

اس لڑ کی کے کمرے میں داخل ہواتو د یکھ کر اس نوجوان کے رونگٹے کھڑے ہو کئے کیونکہ جب اس نے دیکھا تو اس لڑ کی نے تین تصویر میں دیوار پر لگار کھی تھیں ۔ وہ نوجوان بڑا حیران ہوا اور لڑ کی سے دریافت کیا کہ یہ تینوں تصویر میں کس کہ ہیں اور یہ اب کہاں موجود ہیں تواس لڑ کی نے کہا کہ یہ تینوں میرے بہت قریبی تھے

لیکن اب اس دنیا میں یہ نہیں رہے پھر اس لڑکی نے کہا پہلی تصویر میرے دادا کی ہے میرے دادا بھی تمہاری طرح بہت خو بصورت اور حسین و جمیل تھا اور وہ بھی گاؤں کی ایک لڑکی کے ساتھ محبت کر تا تھااور اس نے بھی اس لڑ کی کو مجبور کر کے اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کر لیا تھا ۔

لیکن کسی وجہ سے میر ا دادا اس لڑ کی سے شادی نہ کر سکا ۔ چند دن بعد میرے دادا کے میں دل میں سوال پیدا ہونے لگا کہ میں نے تو ایک نامحرم کے ساتھ زنا کیا ہے اور ز ناتوانسان پر قرض ہو تا ہے اور مجھے ایک نہ ایک دن یہ قرض چکانا پڑے گا پھر میرے دادا کی کسی اور لڑ کی سے شادی ہو گئی اور میرے دادا کا ایک بیٹا اور ایک بیٹیپیداہوئی میرے دادا کی بیٹی بھی میری طرح بہت ہی خو بصورت اور حسین و جمیل تھی۔اب میرے دادا کو ہر وقت یہی پریشانی ہوتی کہ ایک نہ ایک دن کہیں میرا قرض میری بیٹی کو نہ چکانا پڑ جائے ۔ وہ اپنی بیٹی کو گھر سے ایک بل پہلے کے لئے بھی باہر اکیلا نہیں نکلنے دیتا تھا ۔ اور ہر وقت اس کا خیال رکھتا تھا ۔ ایک رات میرے دادا کیبیٹی کی طبیعت خراب ہوئی تو میر ادادااس کو ہسپتال میں لے گیا ۔ جب آدھی رات کا وقت ہوا تو میرے میرے دادا کی بیٹی کو اس ڈاکٹر نے کمرے میں اکیلے پاتے ہوۓ میرے دادا کو نشے والی دوادے کر میری دادا کی بیٹی کے ساتھ زبرستی زنا کر کے بھاگ گیا ۔

جب میر ا دادا کمرے میں گیا تو اس کی بیٹی اپنی جان گنوا چکی تھی کیونکہ وہ اپنے باپ کا قرض ڈاکٹر کے ہاتھوں اتار چکی تھی ۔ یہ دیکھ کر میرے دادا سے برداشت نہ ہوا اور وہ اسی وقت دل کے اٹیک سے چلا گیا میرے داداکا بیٹا جو کہ میرا باپ تھاوہ بھی میرے دادا کی طرح بہت خو بصورت اور حسین و جمیل تھا اور اس نے بھی ایکگاؤں کی لڑ کی سے محبت کر تا تھا ایک دن میرے باپ نے بھی اس لڑ کی سے زنا کیا اور اس کے بعد اس کو دھوکا دے کر میری ماں سے شادی کر لی ۔ جب میں پانچ سال کی تھی تو میرے ماں باپ کا کسی حادثے میں انتقال ہو گیا اور بوڑھی ماں نے میری پرورش کی اب میرا باپ تو چلا گیالیکن اس کا قرض ابھی بھی باقی ہے اور آج میں اپنے

باپ کا قرض اتارنے کے لئے تیار ہوں اور ایک بات یہ بھی یادر کھنا کہ تمہارا قرض جب ہمارے بیٹی پیداہو گئی تو وہ ضرور اتارے گی ۔ یہ سن کر وہ نوجوان پینے سے شرابور ہو گیا اور اس کی ٹانگیں کانپنے لگی اور وہ اسی وقت اس لڑ کی کے پیروں میں گر گیا اور گڑ گڑا کر معافیاں مانگنے لگا کہ تم اک لڑ کی ہو کر اتنی سمجھدار دار ہوں اورتم اتنی اچھی سوچ رکھتی ہوں جب میں ایک لڑ کا ہو کر میں نے یہ سب کچھ نہ سوچا کہ زناانسان پر قرض ہوتا ہے اور اور ا گر آج میں تمہیں سے اپنی شادی سے پہلے زنا کروں گاجب میری بیٹی جوان ہو گی تو وہ بھی شادی ہونے سے پہلے ضرور قرض چکاۓ گی۔اس کے بعد وہ نوجوان ان دونوں کی شادی ہو گی اور اس کے بعد وہ ہنسی

دوستوں بھی آپ نے خود سے یہ سوال کیا کہ آپ بھی زند گی میں ایسا گناہ کر بیٹھے ہو اور کیا آپ بھی کسی کے قرض دار ہیں ؟ ا گر کسی بھی انسان سے ایسا گناہ ہو جاۓ آۓ تو اللہ تعالی سے گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں تا کہ اللہ تعالی اپنی بزرگی سے اور ہمارے پیارے نی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےواسطے ہمارے تمام گناہوں کو زائل کر دے تا کہ ہمارا لیا گیا قرض ہمارے پیاروں کو نہ چکاناپڑے ۔ میرے دوستو ہمارے دین میں نہ امیدی کی کوئی جگہ نہیں اور جوانسان اللہ پر یقین رکھ کر اور اس کے سامنے گڑ گڑا کا جو بھی چیز مانگتا ہے اللہ تعالی اس کو اس سے کئی گنا زیادہ عطافرمادیتا ہے۔اگر کسی انسان سے کچھ مانگو تو

اللہ تعالی انسان سے ناراض ہو تا ہے اور اللہ تعالی سے نہ مانگو تو پھر بھی اللہ تعالی انسان سے ناراض ہو تا ہے اللہ تعالی اس وقت انسان سے خوش ہو تا ہے جب انسان اللہ تعالی کے دروازے پر گڑا کر بھیج مانگے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ایسے تمام گناہوں سے بینے اور ہمیں حالات اور پاک رزق کمانے کی توفیق عطا فرمائے

Categories

Comments are closed.