پرانے زمانے میں ایک عورت کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو ایک شخص نے اس عورت کے

رانے زمانے میں ایک عورت تھی جو حاملہ تھی ، جب بچہ پیدا ہونے کا وقت آیا تو اس نے اپنے ملازم سے کہا کہ کہیں سے آگ لے آؤ ۔ وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ دروازے پر ایک شخص کھڑا تھا جو پوچھنے لگا کہ کیا ہوا لڑکی یا لڑکا ملازم نے کہا کہ لڑکی ہوئی ہے ۔ اس شخص نے کہا کہ سن لو یہ لڑکی جوان ہو کر سو آدمیوں کے ساتھ زنا کرے گی

اور اس عورت کے ہاں جو شخص ملازم ہے اس سے اس لڑکی کا نکاح ہو گا ، اور ایک مکڑی اس لڑکی کی موت کا باعث بنے گی سے سنتے ہی ملازم وہیں سے پلٹ آیا اور آتےہی ایک کچری پکڑی اور اس لڑکی کے پیٹ کو چیر ڈالا اور پھر اسے مردہ سمجھ کر وہاں سے بھاگ نکلا ۔ اس لڑکی کی ماں نے یہ حال دیکھ کر اپنی بچی کے پیٹ پر ٹانکے لگوا دیئے اور علاج شروع کروادیا جس سے آہستہ آہستہ اس کا زخم بھر گیا ۔ اب ایک زمانہ گزر گیا اور وہ لڑکی بالغ ہو گئی لڑکی بہت خوبصورت تھی جوانی میں قدم رکھتے ہی وہ بد چلنی میں پڑ گئی ۔ ادھر وہ ملازم جب لڑکی کو مچھری مار کر فرار ہوا تو سمندر کے راستے کہیں چلا گیا ۔ وہاں اس نے کام کاج شروع کیا

اور بہت ساری رقم اکٹھی کر کے واپساپنے گاؤں آ گیا اور ایک بوڑھی عورت کو بلا کر کہنے لگا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں گاؤں میں جو سب سے خوبصورت لڑکی ہو اس نے میرا نکاح کرادو ۔ بوڑھی عورت کو شہر بھر میں اس لڑکی سے زیادہ خوبصورت کوئی اور لڑکی نہ ملی , آخر کار ان دونوں کا نکاح کروا دیا گیا ۔ دونوں میاں بیوی میں بہت محبت ہو گئی ایک دن باتیں کرتے کرتے اس لڑکی نے شوہر سے پوچھا آخر آپ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں اور یہاں کیسے آگئے وغیرہ وغیرہ اس شخص نے اپنا تمام ماجرا بیان کر دیا کہ میں یہاںایک عورت کے ہاں ملازم تھا اور وہاں اس کی لڑکی کے ساتھ سے حرکت کر کے چلا گیا تھا ۔ اب اتنے برسوں کے بعد میں پھر یہاں آ گیا ہوں ۔ اس لڑکی نے یہ سن کر کہا جس کا پیٹ تم چیر کر بھاگے تھے میں وہی لڑکی ہوں ہوں ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے اس زخم کا نشان بھی اسے دکھا دیا اب اس شخص کو یقین ہو گیا کہ یہ تو وہی لڑکی ہے ،

وہ کچھ دیر تک چپ رہنے کے بعد پھر کہنے لگا جب تو وہی ہے تو ایک بات تیری نسبت مجھے اور معلوم ہے وہ یہ ہے کہ تو سو آدمیوں سے مجھ سے پہلے مل چکی ہے یعنی کہ زنا کا چکی ہے ۔ اس لڑکی نے کہا کہ تم نے ٹھیک کہا لیکن گفتی یاد نہیں ۔ اس شخص نے کہا مجھے تیرینسبت ایک اور بات بھی معلوم ہے وہ یہ ہے کہ تیری موت کا سبب ایک مکڑی بنے گی خیر چونکہ مجھے تجھ سے بہت زیادہ محبت ہے میں تیرے لئے ایک بلند و بالا اور پختہ محل تعمیر کروادیتا ہوں تو اس میں رہنا تا کہ وہاں تک ایسے کیڑے مکوڑے نہ پہنچ سکیں ۔ چنانچہ ویسای محل تیار ہوا اور وہ وہاں رہنے لگے ایک مدت کے بعد دونوں میاں بیوی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حیت پر ایک مکڑی دکھائی دیا ۔ اسے دیکھتے ہی شوہر نے کہا دیکھو آج یہاں ککڑی دکھائی دی ہے اچھا یہ میری جان لیوا ہے اس سے پہلے کہ یہ میری جان لے میں اس کی جان ہی لے لیتی ہوں ۔

اس نے غلاموں کو حکم دیا کہ اسزندہ مکڑی کو پکڑ کر میرے سامنے لاؤو مکڑی کو پکڑ کر اس عورت کے سامنے لا یا گیا تو اس عورت نے مکڑی کو زمین پر رکھ کر اپنے پیر کے انگوٹھے سے مسل ڈالا ۔ اس مکڑی کی جان نکل گئی مگر اس سے جو زہر نکلاس کا ایک قطرہ عورت کے انگوٹھے کے ناخن اور گوشت کے درمیان چلا گیا اور اس کے زہر سے کچھ ہی دنوں بعد پیر سیاہ پڑ گیا اور اس کی وجہ سے عورت مر گئی ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *