”وہ چار سا لوں سے میرے ساتھ تھی لیکن آج اس نے پہلی دفعہ ہمت کر کے مجھے ہاتھ لگا یا تھا“

یہ تب کی بات ہے جب میں ایک خوبصورت نوجوان ہوا کرتا تھا یونیورسٹی کا اختتامی دور چل رہا تھا ویسے تو لیکچر ز وغیرہ ان دنوں نہیں ہو رہے تھے لیکن پھر بھی ہم سبھی دوست یو نیورسٹی کی زندگی کو جی بھر کر جینے کی خاطر یو نیورسٹی چلے جاتے تھے سارا دن کلاس میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے کلاس کی لڑ کیاں بھی ان آخری دنوں میں ہم لڑکوں سے تھوڑا زیادہ ہی فری ہو گئی تھیں

شاید وہ بھی ہماری طرح کلاس کے ہر فرد کو مس کرنے والی تھیں میں پہاڑ کی چوٹی پہ واقع ا یک قبیلے کا واحد یونیورسٹی پڑھنے والا لڑ کا تھا اس وجہ سے مجھے قبیلے میں ایک خاص عزت کا مقام حاصل تھا ہاسٹل لائف کو میں نے بہت اچھی طرح گزارا تھا گزارا نہیں بلکہ جیا تھا رات کو کلا سفیلوز کے ساتھ بیٹھ کر طرح طرح کی اوٹپٹپا نگ حر کتیں کر نا تاش کی بازی لگا نا۔

ایک دوسرے کا بستر ادھر ادھر پھینکنا رات کو سوتے وقت کسی پر پانی پھینک کر اس کو نیند سے جگا دینا اور پھر ساری رات اس کی گا لیاں سننا وغیرہ وغیرہ بہت پیارا وقت تھا وہ کاش وہ وقت کبھی ختم ہی نا ہوتا ایک دن یو نیورسٹی کے کوریڈ ور سے گزرتے وقت میں کسی نسوانی پکار کے باعث چلتے چلتے رک گیا مجھے میرا نام لے کر پکا را گیا تھا

میں نے رک کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو میری کلاس فیلو آبش میرے رو بر کھڑی تھی یہ وہی لڑکی تھی جس نے یونیورسٹی کے پہلے ہی دن میری تکرار ہو ئی تھی پھر یہ سلسلہ چلتا ہی رہا چھوٹی سی بات پہ ہی ہم دونوں مر غیوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑنے لگ جاتے تھے وہ ایک امیر گھر کی خوبصورت اور لڑاکو طیارہ لڑکی تھی کلاس کی لڑکیوں کے علاوہ وہ صرف مجھ سے ہی بات کر تی تھی میں د یہاتی سا سادہ سا لڑ کا تھا جس کے ہاتھ میں لنگور کی جگہ انگور آ گئے تھے۔

دوستی ہونے کے بعد میں نے جا نا کہ وہ بہت نرم دل کی اور محبت کرنے والی لڑکی تھی۔ میں وہیں چلا گیا تھا وہ وہیں تھی اکیلی گم سم پتھر پہ بیٹھی ساتھ لگے میں اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر سامنے دیکھنے لگی ناراض ہو؟ میں نے سوال کیا۔ وہ چپ رہی میں نے اس کو خاموش دیکھ کر پھر وہی سوال کیا اس کا جواب پھر خاموشی تھا بچوں کا باپ بن گیا ایک بیٹھا تھا

جس کا نام آیا ن علی تھا اور ایک بیٹی جس کا نام آبش تھا میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں اپنی بیٹی کو اس کا نام دو نگا اسے کسی بھی صورت اپنے قریب رکھوں گا ہر روز اس کو دیکھوں گا پیار کر ونگا ڈھیر ساری باتیں کر و نگا شا ید ایسا کر نے سے میرے دل کو کچھ سکون مل سکے۔ ایک سردیوں کی جاڑے والی شام میں لا ہور کی مارکیٹ میں کسی کام سے گیا تھا۔

جب مجھے اپنے سامنے ایک خاتون بہت دیر سے مجھے تکتی نظر آئی اس کے چہرے پر نقاب تھا نجانے وہ کیا پوچھنے کی سعی کر رہی تھی چاچے کو آبش بہت پسند تھی اسی لیے وہ اس دور میں جب دس روپے میں بھی ایک قلفی نہیں ملتی تھی وہ چار آنے میں دو قلفیاں اسے دیتے تھے

جانے آبش نے چاچتے سے اس “چار آنے” کے کے بارے میں کیا بتا رکھا تھا آبس نے ایک قلفی خود لے لی اور دوسری قلفی میری طرف بڑھا دی میری آنکھوں سے آنسو بہتے رہے سالوں گزر گئے میری انگلی پہ اس کی انگو ٹھی سے بننے والے نشان آج بھی موجود ہیں اس نشان والی جگہ کو دارئے کی شکل میں سوئی سے کھر چتا رہتا ہوں۔

جس سے وہ زخم بن جا تا ہے اور وہ زخم مجھے آبش کی یاد دلا تا ہے۔ آج اس بات کو آدھی صدی گزر گئی ہے میری انگلی پر وہ نشان آج بھی باقی ہے۔ اس دن کے بعد میں اس سے کبھی نہیں ملا نا ہی اس شہر پھر کبھی لوٹ کر گیا مگر وہ کھو ئے والی قلفی کا سواہ آج بھی میری زبان پہ محسوس ہوتا ہے اسکی ہنسی آج بھی اپنے قریب محسوس ہوتی ہے میں رہوں یا نہ رہوں ، تم مجھ میں کہیں باقی رہنا ، مجھے نیند آئے جو آخری، تم خوابوں میں آتے رہنا، بس اتنا ہے تم سے کہنا ، بس اتنا ہے تم سے کہنا۔

Categories

Comments are closed.