”وہ پانچ وقت کی نماز ادا کر تی تھی وہ مجھ سے بے انتہا پیار کر تی تھی“

سر فارس میرے دل میں بر سوں سے ایک بو جھ ہے آپ کی قلم کے صدقے شاید مجھے سکون آ جا ئے پلیز اسے شئیر ضرور کر نا جوانی کے جوش میں محبت کی تھی وہ دل کی شہزادی اسے زمانے کے فریب کا کیا علم تھا پانچ وقت کی نماز ادا کر تی تھی مجھے اس سے محبت ہو گئی میرا نام ہاتھ پہ لکھتی تھی مہندی سےاس نے مجھے ایک بار مصلی اور تسبیح دی تھی کہنے لگی

نکاح کے بعد پہلی رات یہ منہ دکھائی میں لوں گی آپ سے میں مسکرا یا عجیب لڑکی ہو تم کیسا گفٹ دیا ہے وہ مسکرانے لگی ارے پا گل یہ میری محبت کی نشانی ہے تمہارے پاس مجھے یاد ہے میں نے مذاق میں کہا تھا کتنی محبت کر تی ہو مجھ سے کہنے لگی آزما کر دیکھ لو میں نے میسج کیا اچھا ایسا کر و اپنا ہاتھ جلا کر دکھاؤ میں مذاق کر رہا تھا۔رات کے ایک بج رہا تھا وہ مسکرائی پاگل بس اتنا سا کام مجھے لگا تھا کہو گے شہزادی مر کر دکھا ؤ تو خدا کی قسم دوسرا سانس نہ لیتی تم مجھ سے محبت کر تے ہو اور محبت میں لازم ہے

محبوب کی ہر بات پہ قبول کیا جا ئے میں میسج کر تے کر تے سو گیا صبح اٹھا مو بائل دیکھا میری چیخ بلند ہو ئی میری ماں بہن میرے پاس آگئے کیا ہوا میں نے اپنی سانسوں پہ قابو کیا کچھ نہیں کہا کمرے سے با ہر چلا گیا پا گل نے اپنا پورا ہاتھ جلا لیا تھا مجھے تصویر بھیج کر کہنے لگی میرے ہمنو دیکھ نا تیری کہی بات پہ میں نے ہاتھ جلا لیا پاگل محبت کر تی ہوں تم سے میں رو رہا تھا شہزادی میں نے مذاق کیا تھا مجھے کہنے لگی سب کچھ سہہ لوگں گی جو کہ گے کروں گی جس رنگ میں کہو گے ڈھل جاؤں گی

بس اللہ کے لیے مجھے مت چھوڑنا بہت خواب دیکھ چکی ہوں تمہارے ساتھ جینے کے اب راستہ بد لو گے نا تو م ر جاؤں گی میں اسے اپنی محبت کا یقین دلا تا رہا میری اچھی جاب لگ گئی میں کا میاب ہو گیا۔ میرے لیے بڑے بڑے گھروں سے رشتےآ نے لگے میرے لیے پڑھی لکھی میرے لیول کی لڑکیوں کے رشتے آ نے لگے پھر ایک دن یوں ہوا میں بے وفا ہو گیا میں نے ایک ڈاکٹر لڑکی سے شادی کر لی میں نے سوچا وہ پینڈو سی لڑکی کہاں میں کہاں وہ بس و ہ نادانی کے دن تھے جسے ہم محبت سمجھ بیٹھے تھے ویسے بھی شادی کوئی مذاق نہیں ہے آخری تھا مجھے ملی جب میں دلہا بنا ہوا تھا اس کا گھر ہماری گلی میں تھا

وہ دروازے میں کھڑی تھی مجھے مسلسل دیکھنے جا رہی تھی شاید کچھ کہنا چاہتی تھی سب محلے کی عورتیں مجھے اپنے دروازے کے سامنے روک کر پانی پلا رہی تھیں جب اس کے گھر کے سامنے پہنچا تو اس نے پانی کا گلاس آ گے بڑھا یا اس کا ایک ہاتھ بالکل ختم ہو چکا تھا جلا ہوا ہاتھ آ گے بڑھا کر مسکرا رہی تھی میں اس سے نظر یں نہ ملا پا رہا تھا جس میں اس کی دی ہو ئی تسبیح اور مصلی تھا ۔ سینے سے لگا یا بہت رویا میں نے اسے میسج کیا ہیلو شہزادی ایک پل میں جواب آ یا اس کا کیسے ہو میں رونے لگا شہزادی معاف کر دو وہ مسکرانے لگی ارے پاگل معاف تو اس دن کر دیا تھا جب تم کسی اور کے ہو گئے تھے

میں میں نے اسے بتایا مجھے اللہ نے بیٹی دی ہے وہ بہت خوش تھی مبارک ہو اللہ نصیب اچھے کرے پھر کہنے لگی وہ مصلی پاس ہی ہے نا میں نے کہا ہاں وہ خاموش ہو گئی کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس کی آواز کا نپنے لگی بہت درد ہو تا ہے بہت درد اب جانتے ہو مسکراتی بھی ہوں دکھاوے کے لیے جب کو ئی مجھے کہتا ہے نا میرا یقین کرو تو میں ڈر جا تی ہوں میں کئی کئی دن پاگلوں کی طرح سہمی رہتی ہوں دیکھ نا پا گل تیرے وعدوں نے کتنا ظلم ڈھا یا ہے مجھ پہ کہا تھا نا بہت خواب دیکھے ہیں وہ مسکرائی اللہ تم کو دنیا کی ہر خوشی دے اس کا نمبر ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور میں فارس میں آج نماز ادا کر واتی ہوں کیا میں بخشا جاؤں گا کسی معصوم کے ساتھ کھیل کر بدل جانے والا۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *