وہ مجھ سے اتنی محبت کرتی تھی کہ میرے آزمانے پر اس نے اپنا ہاتھ جلا لیا اور کہنے لگی تمہیں خدا کا واسطہ مجھے کبھی نہ چھوڑنا

وانی کے جوش میں محبت کی تھی ۔ وہ دل کی شہزادی اسے زمانے کے فریب کا کیا علم تھا ۔ پانچ وقت کی نماز ادا کرتی تھی وہ مجھے اس سے محبت ہو گئی مہندی سے میرا نام اپنے ہاتھ پر اس نے مجھے ایک بار جائے بعد پہلی رات میں منہ سے میں مسکرانے لگا عجیب لڑکی ہو تم کیسا گفٹ دیا ہے ۔ وہ مسکرانے لگی ارے پاگل یہ میری محبت کی نشانی ہے تمہارے پاس مجھے یاد ہے میں نے مذاق میں کہا تھا کہ کتنی محبت کرتی ھی نکاح کے اور بیچ دی

ہو مجھ سے کہنے لگی آزما کر دیکھ لوں میں نے میچ کیا اچھا ایسا کرو اپنا ہاتھ جلا کر دیکھاؤ میں مذاق کر رہا تھا ۔ رات کا ایک بیچ رہا تھا وہ مسکرائی پاگل اتنا سا کام مجھے لگا تھا کہو گے شہزادی مر کر دکھاؤ تو خدا کی قسم دوسرا سانس نہ لیتی تم مجھ سے پر محبت کرتے ہو اور محبت میں لازم ہے کیا تم مجھ سے قبول کیا جائے ، میں میچ کرتے کرتے سو گیا صبح اٹھا موبائل دیکھا میری تو چیخ بلند ہو گئی ۔ میری ماں اور بہن میرے پاس آ گئے کیا ہوا ۔ میں نے اپنی سانسوں پر قابو کیا کچھ نہیں پھر

میں کمرے سے باہر چلا گیا پاگل نے اپنا پورا ہاتھ ملا لیا تھا ۔ مجھے تصویر بھیج کر کہنے لگی میرے ہمنو د کچھ نا تیری کہی بات پر میں نے ہاتھ جلا لیاد پاگل محبت کرتی ہوں تم سے ، میں رو رہا تھا شہزادی میں نے مذاق کیا تھا ۔ مجھے کہنے لگی سب کچھ سہ لوں گی جو کہو گے کروں گی جس رنگ میں کہو گے ڈھل جاؤں گی ۔ بس اللہ کے لیے مجھے مت مچوڑنا , بہت خواب دیکھ چکی ہوں تمہارے ساتھ جینے کے اب راستہ بدلو گے نا تم , مر جاؤں گی میں ، میں اسے اپنی محبت کا یقین دلاتارہا ۔ پھر میری

انچی جب لگ گئی میں کامیاب ہو گیا میرے لئے بڑے بڑے گھروں سے رشتے آنے لگے میرے لئے پڑھی لکھی میرے لیول کی لڑکیوں کے رشتے آنے لگے ۔ پھر ایک دن یوں ہوا میں بے وفا ہو گیا میں نے ایک ڈاکٹر لڑکی سے شادی کر لی ۔ میں نے سوچا وہ پینڈوں کی لڑکی کہاں میں کہاں وہ بس وہ نادانی کے دن تھے جسے ہم محبت سمجھ بیٹھے تھے ۔ ویسے بھی شادی کوئی مذاق نہیں ہے ۔ آخری بار مجھ سے تب ملی جب میں دولہا بنا ہوا تھا ۔ اس کا گھر ہماری گلی میں تھا وہ دروازے میں کھڑی تھی مجھے

مسلسل دیکھے جارہی تھی ۔ شاید کچھ کہنا چاہتی تھی ۔ سب محلے کی عور تیں مجھے اپنے دروازے کے سامنے روک کر پانی پلا رہی تھیں جب اس کے گھر کے سامنے پہنچا تو اس نے پانی کا گلاس آگے بڑھایا ۔ میں نے دیکھا کہ اس کا ایک ہاتھ بالکل ختم ہو چکا تھا جلا ہوا ہاتھ آگے بڑھا کر مسکرارہی تھی ۔ میں اس سے نظریں نہی ملا پا رہا تھا میں اس کی دی ہوئی جائے نماز اور تسبیح کو سینے سے لگا کر بہت رویا ۔ میں نے اسے میچ کیا ہیلو شہزادی ایک پل میں اسکا جواب آیا کیسے ہو میں رونے لگا شہزادی معاف کر دو

میں اسکا جواب آیا کیسے ہو ، میں رونے لگا شہزادی معاف کر دو وہ مسکرانے لگی پاگل معاف تو اس دن کر دیا تھا جب تم کسی اور کے ہو گئے تھے ، میں نے اسے بتایا کہ مجھے اللہ نے بیٹی دی ہے وہ بہت خوش تھی مبارک ہو اللہ نصیب اچھے کرے پھر کہنے لگی وہ جائے نماز پاس ہے نا میں نے کہا ہاں , وہ خاموش ہو گئی کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس کی آواز کانپنے لگی ۔ بہت درد ہوتا ہے بہت درد اب جانتے ہو مسکراتی بھی ہوں تو بس دکھاوے کے لیے جب کوئی مجھے کہتا ہے نہ میرا یقین کرو

تو میں ڈر جاتی ہوں میں کئی کئی دن پاگلوں کی طرح سہمی رہتی ہوں , دیکھ نہ پاگل تیرے وعدوں نے کتنا ظلم ڈھایا ہے مجھ پر کہا تھا نہ بہت خواب دیکھے ہیں ، پھر وہ مسکرائی اللہ تم کو دنیا کی ہر خوشی دے اور پھر اس کا نمبر ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *