نکاح کے وقت مولوی صاحب نے دولہے سے جب اس کے باپ کا نام پوچھا

تقریب نکاح جاری تھی ۔ نکاح خوان نے دلہا سے اس کا نام پوچھ کر لکھا اور پھر اسکے والد کا نام پوچھا ۔ دلہا اس سوال سے گھبرا گیا اور نکاح خوان سے کہا : ہم دو ماں بیٹا ہیں میں نے بھی اپنی والدہ سے والد کا نام پو چھاہی نہیں اپنی والدہ سے پوچھ کر آتا ہوں ۔ یہ کہا اور گھر چلا گیا ۔ محفل میں موجود لو گو میں سے کسی کو بھی اس کے والد کا نام معلوم نہ تھا ۔ گھر میں

داخل ہو کر اس نے والدہ سے اپنے والد کا نام پوچھا ۔ والدہ بھی گھبراگئی اور گم سم خاموش_دلہا نے کئی بار اپنی والدہ سے پوچھا اور آخر کار شدید طیش میں آ گیا اور غصے میں اپنی ماں سے نہ جانے کیا کیا بکتا رہا ۔ گھر میں جمع تمام عور تیں بھی خاموشی سے ماں بیٹے کا مکالمہ سنتی رہیں اور حیران تھیں کہ ، آج تک یہ سوال کرنے کا خیال ہمیں کیوں نہیں آیا ۔ جبکہ ماں بیٹے

کی زند گی اسی محلے میں گزری ہے ۔ یہ چھوٹا سا تھا جب سے ہم ان دونوں کو اپنی گلی میں اسی مکان میں دیکھ رہے ہیں ۔اس عورت نے شاید اپنے بچے کو اسکول بھی اسی لیے داخل نہیں کر وایا کہ اس کے باپ کا نام تو جانتی نہیں ۔ اچانک اس نے اپنی ماں سے کہا : اگر تو مجھے میرے باپ کا نام نہیں بتاسکتی تو اس شرمندگی کی زند گی سے بہتر ہے میں خود کشی کر لوں ۔ جیسے ہی

ماں نے بھاگ کر اسے روکا اور کہا میری بات سن لو پھر جو بی میں آۓ کر لیناچند عور تیں آگے بڑھیں اور نوجوان کو اپنے اقدام سے روک لیا کہ پہلے اس کی بات تو سنو ۔ پورے گھر میں خاموشی طاری تھی سبھی اس عورت کے لب ہلنے کے منتظر تھے کہ وہ بولی : ” پاکستان بننے کے بعد ہمارے والد چا ، بھائیوں اور خاندان کے تمام مردو و عورت ہجرت کر کے پاکستان کی طرف روانہ ہوۓ ،

راستے میں کسی جگہ ہمارے قافلے پر ہند و بلوائیوں نے حملہ کردیا ۔ ہمارے مرد حضرات ٹوٹ کر لڑے ، لیکن انکی تعداد اور اسلحہ کی وجہ سے ہماری حفاظت نہ کر سکے اور سب شہید ہو گئے۔لڑائی کے دوران میرے والد نے رات کے اند ھیرے کا فائدہ اٹھا کر ہم عورتوں کو نکالنا چاہا لیکن میرے علاوہ کسی کو بھی بچانے میں چاہا ، کامیاب نہ ہو سکے ۔ میرے خاندان کی باقی عورتوں کا کیا حال ہوا

میں نہیں جانتی ۔ مردوں اور عور توں میں سے کوئی زندہ بچا بھی ، یا نہیں ۔ مجھے کچھ پتہ نہیں ۔ وہاں سے بھاگنے کے بعد میں انتہائی خوفن دہ حالت میں دن تو چپ کر گزار دیتی ، اور رات کو اللہ کا نام لے کر اس راستے پر چل پڑتی ۔ جو روانگی سے پہلے ہمارے مرد حضرات آپس میں تذکرہ کرتے رہتے تھے ۔ایک رات دوران سفر میں نے کسی جگہ پہ ایک بچے کے رونے کی آواز سنی ۔ آگے

جا کر دیکھا تو کئی لاشوں کے در میان ایک شیر خوار بچہ پڑا ہوا تھا ۔ میں نے اسے اٹھالیا ، سینے سے لگاۓ سفر کرتی آخر میں کار پاکستان پہنچ گئی ۔ مہاجر کیمپوں میں کسی جگہ بھی مجھے اپنے خاندان کا کوئی فرد نظر نہ آیا ۔ اور یوں میری دنیا صرف میرے اور اس بچے تک محدود رہ گئی ۔ میری عمر کم تھی اور ابھی میری شادی بھی نہ ہوئی تھی ۔ اپنی باقی زندگی میں نے اس بچے کی

خاطر تنہا ہی گزار دی اور آج وہ بچہ میرے سامنے کھڑا ہے ۔اب بتاؤ رات کے اندھیرے میں لاشوں کے در میان سے اٹھاۓ کئے بچے کے والد کا نام مجھے کون بتاتا ؟ بچے کا نام تو میں نے خود سے رکھا ہوا تھا ۔ ماں کی بات مکمل ہونے تک ہر آنکھ اشکبار تھی اور وہ بیٹا جو کچھ دیر پہلے ماں کو الٹی سیدھی سنا رہا تھا ، حیرت اور ممنونیت کا پہاڑ

بنا کھڑا تھا ۔ پھر شرمندگی کے ساتھ آگے بڑھا اور اس عورت کے احسانات کا بوجھ اٹھاۓ اس کے قدموں میں گر کر رونے لگ گیا ۔

Categories

Comments are closed.