نبی کریمﷺ کی عمر پینتیس سال ہوئی تو قریش نے کعبہ کی ازسرنوتعمیر کی

خانہ کعبہ مکہ مکرمہ کے ایک ایسے نشیبی علاقے میں واقع ہے ،جہاں پرانے زمانے میں بارش اور سیلاب کا پانی جمع ہوجایا کرتا تھا ۔ اس سے اس کی دیواروں اور اندرونی حصہ کو کافی نقصان پہنچتا تھا ۔ پانی کی روک تھام کیلئے اس زمانے میں خانہ کعبہ کے باہر ایک بند بنوایا گیا تھا ۔ لیکن یہ بند بھی پانی کے ریلوں کے آگے نہ ٹھہر سکا اور بار بار ٹوٹنے کے بعد آخر کار بلکل منہدم ہوگیا

جس کے بعد عمارت کو زیادہ نقصان پہنچتا رہا ۔ صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ ایک زمانے میں یوں دکھائی پڑنے لگا جیسے کعبہ کی خستہ عمارت عنقریب دھڑام سے آگرے گی ۔اہل مکہ کی صورتحال سے بہت پریشان رہتے تھے ۔ وہ کعبہ کے خستہ اور بوسیدہ حصوں کو گرا کر انہیں ازسر نو تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔ مگر بات یہ تھی کہ ایام جاہلیت سے ان کے ہاں یہ تصور چلا آتا تھا کہ خانہ کعبہ کا کوئی حصہ گرانے سے خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے ۔اس لیے کسی کو بھی مرمت کا حوصلہ نہیں پڑتا تھا ۔ ادھر مسلسل سیلابوں اور شہر سے آنے والے پانی نے کعبہ کی فصیل کو اس قدر کمزور کردیا تھا کہ فوری مرمت لازمی ہوگئ تھی ۔ حضوراکرمﷺ تبعاً بے حد خلیق اور ملنسار تھے ۔ آپﷺ اجتماعی اور فلاحی معاملوں میں اہل مکہ کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ۔ آپﷺ کو بھی خانے کعبہ کی خستہ حالی کا فکر دامن گیر رہتا تھا ۔ بلکہ اس عوامی تشویش کا احساس آپ کو سب سے زیادہ لاحق تھا ۔ خانہ کعبہ کی تعمیر نوکو اولیت میں کئی باتوں کا دخل ہے ۔ کعبہ کے بیچ میں ایک کنواں ہوتا تھا۔ زیارت کیلئے آنیوالے اس کنواں میں اپنے نذرانے پھینک دیا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ کسی نے اس کنویں سے کئی قیمتی اشیاء چرا لیں چور کو چوری میں اس لیے بھی آسانی ہوئی تھی کہ کعبہ کی دیواریں نیچی بھی تھیں اورکچی بھی ۔ ان پر کوئی چھت بھی نہ تھی ۔ بہت کوشش کے بعد چور پکڑ لیا گیا ۔

جرم کی پاداش میں اس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے گئے ۔ مگر نذرانوں والے کنویں سے مال ودولت کو مزید چوری سے بچانے کیلئے خستہ دیواروں کو گرا کر پختہ دیواریں بنانا اور ان پر چھت تعمیر کرنا پہلے سے کہیں زیادہ لازمی دکھائی دینے لگا اس کے علاوہ ایک دلچسپ واقعہ بھی اس کام پر فوری توجہ کا سبب بن گیا ۔ کعبہ کے کنویں میں ایک پھندا ر ناگ بھی رہتا تھا ۔ وہ دن کے وقت کنویں سے نکل کر کعبہ کی منڈیر پر بیٹھ جاتا اور مزے سے دھوپ سینکا کرتا تھا اگر کوئی شخص اس کے نزدیک جانے کی جسارت کرتا تو وہ پھن پھیلا کر خوفناک پھنکار کرتا اور ڈسنے کو لپکتا جس سے سب لوگ بھاگ کھڑے ہوتے ۔ مرمت اور تعمیر نوکاکام شروع ہونے میں اس ناگ کا خ و ف بھی حائل تھا ۔ مگر پھر ہوایوں کے انہیں دنوں ایک بڑا عقاب اڑتے ادھر آنکلا ۔ وہ بجلی کی طرح ناگ پر لپکا اسے دبوچ کر لے اڑا ۔

یہ واقعہ اس قدر دلچسپ اور معنی خیز تھا کہ ایک شاعر زبیر نے اس پر بڑے خوبصورت شعر بھی لکھے ناگ کے خاتمے کے بعد لوگ یوں محسوس کرنے لگے جیسے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کیلئے خدا نے ان کا راستہ صاف کردیا ہے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ عین انہی دنوں ایک یونانی تاجر اور کاریگر باقوم کا جہا ز طوفان کی زد میں آگیا اور بندرگاہ جدہ کے ساحل کے نزدیک آکر کنارے سے ٹکرا کر تبا ہ ہوگیا ۔ باقوم اپنے وقت کا ہنر مند کاریگر تھا ۔ اسے معماری اور نجاری میں بھی دسترس حاصل تھی ۔ اہل مکہ کو جہاز کی تباہی کی خبر ہوئی تو انہوں نے باقوم کے پاس لوگوں کو روانہ کیا ۔ لوگوں نے اس کا ٹوٹا پھوٹا جہاز خرید لیا تاکہ اس کی لکڑی کے تختے خانہ کعبہ کی تعمیر نو میں استعمال کیے جاسکیں۔ لوگوں نے باقو م کو اپنے ہمراہ مکہ چلنے اور کعبہ کی مرمت کے کام کی نگرانی کرنے پر راضی کرلیا ۔ چنانچہ باقوم کی معاونت کیلئے مکہ کے ایک تجربہ یافتہ کاریگر کی خدمات بھی حاصل کرلی گئیں اور پھر بڑے زوروشور سے کام شروع کردیا گیا ۔ خانہ کعبہ کی تعمیر نو کے اس تاریخی کام میں تمام قبیلے متحد ہوکر پورے جوش وخروش سے مصروف ہوگئے

اور کوئی قبیلہ بھی اس شرف سے محروم نہ رہا ۔ حضوراکرمﷺ بھی اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے ۔ ہر قسم کا مطلوبہ تعمیری سامان فراہم کرلیا گیا ۔ مکہ کے آس پاس کی پہاڑیوں سے نیلے پتھر جمع کرلیے گئے اور تعمیر کاکام بڑی سرعت اور جانفشانی سے آگے بڑھنے لگا ۔ جب دیواریں پانچ چھ فٹ کے لگ بھگ اٹھ گئیں تو حجر اسود کو اس کی پرانی جگہ پر نصب کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا ۔ اس مقدس پتھر کو اٹھا کر اس کی قدیم روایتی جگہ پر رکھنا ایک ایسا بڑا اعزاز تھا ۔ جسے حاصل کرنے کیلئے ہر قبیلہ بے حد مضطرب تھا ۔چنانچہ اس نازک معاملے پر گرم گرما بحث بازی کا سلسلہ چھڑ گیا اور جلد ہی نوبت تلخ کلامی اور تو تو میں میں تک جا پہنچی ۔ کوئی قبیلہ اپنے حق سے دستربردار ہونے پر رضا مند نہ تھا ۔ تکرار لمبی ہوتی گئی تو معاملہ جنگ وجدل کی سی صورت اختیار کرنے لگا ۔ آناً فاناً تلواریں کھچ گئیں اور وہ خونخوار درندے مرنے مارنے پر آمادہ ہوگئے ۔ ایک جنگجو قبیلے نے توحد ہی کردی ۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ کسی اورقبیلے کو حجر اسود نصب کرنے کی ہر گزاجازت نہیں دینگے ۔

پرانے زمانے میں عرب میں دستور تھا کہ جب کوئی شخص کسی مفاد کیلئے جان دینے کی قسم کھاتا تو انسانی خ و ن سے بھرے ہوئے پیالا میں اپنی انگلیاں ڈبو لیتا تھا ۔ اس وحشی قبیلے کا سردار خ و ن سے لبالب کٹورہ خانہ کعبہ میں اٹھا لایا۔قبیلہ کے سب تندوتیز نوجوانوں نے خ و ن میں ہاتھ ڈبو کر عہد کیا کہ اگر کسی اور قبیلے نے حجر اسود نصب کرنے کی جرات کی تو وہ سب کٹ مریں گے ۔ غرض کہ پورے چار دن تناؤ اورتصادم کی یہ خوفناک کیفیت لوگوں کے اعصاب پر بری طرح سوار ہی اور یوں دکھائی دیتا تھا کہ ق ت ل وغارت کا سلسلہ کسی وقت بھی سارے مکہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔ قریش کا ایک بوڑھا سردار بہت دانشمندانہ اور صلح جو تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ حجراسود کا ہنگامہ کسی خ و ن خرابے کے بغیرطے ہوجائے ۔ چنانچہ اس نے مشورہ دیا کہ کل صبح جو شخص کوہ صفاء والی جانب سے سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل ہوا اسے ثالث مان لیا جائے اور حجر اسود نصب کرنے کے بارے میں پھر جو بھی فیصلہ وہ دے اسے تمام قبیلے حتمی طور پر تسلیم کرلیں ۔ بوڑھے سردار کی تجویز پر سب کا اتفاق ہوگیا ۔

دوسری صبح سب لوگ خانہ کعبہ کے باہر بیٹھ کربے تابی سے انتظار کرنے لگے کہ کوہ صفاء کی طرف سے سب سے پہلے کون شخص اندر داخل ہوتا ہے ۔ خدا کی قدرت جو شخص اس جانب سے سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل ہوا وہ حضور اکرمﷺ ہی تھے ۔ حضورکا احترام تو سبھی کرتے تھے ۔ بلکہ یہاں تک کہ اصل نام پکارنے کی بجائے آپ کو احتراماً امین او ر صادق کے معزز ترین القابوں سے یاد کیا جاتا تھا ۔ چنانچہ جونہی آپﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے ہر طرف خوشی کے نعرے بلند ہونا شروع ہوئے لوگ بے ساختہ پکار اٹھے یہ تو وہی امین ہے جنہیں ہم خوب جانتے ہیں ۔ ہم انہیں بخوشی اپنا ثالث تسلیم کرتے ہیں حضورﷺموقع کی نزاکت سے بخوبی آگاہ تھے آپﷺ نے فرمایا ایک چادر لاؤ چادرفوراً مہیا کردی گئی ۔آپﷺ نے اسے زمین پر بچھا دیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے حجراسود اٹھاکر چادر کے بیچ میں رکھ دیا۔

پھر تمام قبیلوں کے منتخب نمائندوں سے فرمایا اب تم سب اس چادر کے کنارے تھام لو اور اسے اٹھا کر اس مقام تک لے جاؤ جہاں حجر اسود نصب ہونا ہے سب لوگ چادر کے کنارے تھا میں خوشی خوشی اس مقام پر پہنچ گئے ۔ ۔آپﷺ نے فرمایا اب اسے زمین پر رکھ دو ۔ پھر آپﷺ آگے بڑھے حجر اسود اٹھایا اور اسے مقررہ مقام پر رکھ دیا ۔ آپﷺ کی اس معاملہ فہمی اور دانشمندانہ فیصلے سے سارے قبیلے بے حد مسرور اور مطمئن ہوگئے ۔ حضوراکرمﷺ کی اس دانشمندی سے وہ قبیلے ایک خونخوارخانہ جنگی سے بچ گئے ورنہ وہ اکھڑ لوگ تو م رنے م ارنے کیلئے تیار ہوکر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے وہ جاہل لوگ جو ذرا سی باتوں پر تلواریں تان کر تصادم کے شعلوں کو د پڑنے کے عادی تھے ۔ بھلا عزت اور ناموس کے اتنے بڑے معاملے پر صبروتحمل اورفہم وفراست سے کیسے کام لے سکتے تھے ۔ حجراسود کے اس مشہور واقعہ کو بہت تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ دور نبوت میں حضورﷺکی یہ حدیث بھی اس واقعہ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ میں نبوت کی عمارت کا آخری پتھر ہوں۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *