نامرد

ایک دفعہ ایک نوجوان حسین و جمیل لڑکی  بھاگتی ہوئی تنی صاحب کے پاس آئی اور کہا کہ میر اشوہر گاؤں کے خوبصورت لڑ کوں کے ساتھ بدکاری کر کر کے نامر د ہو گیا ہے ۔۔ اور مجھے وہ خوشی نہیں دے پاتاجوایک شوہر اپنی بیوی کو دیتا ہے اور آپ ہی بتائیں کہ ایک نوجواج لڑکی ایک نامر دشوہر کے ساتھ

کیسے زندگی گزارسکتی ہے اور خاص طور پر وہ مر دجوساری زندگیے لڑکوں کے ساتھ بدکاری کر تار ہاہو ۔ پانی صاحب نے اس نوجوان لڑکی کی باتوں کو سن کر بہت پریشان ہوااور کہا کہ اگلے ہفتے کی شام کو تم عدالت میں حاضر ہو جانا ۔ وہ لڑکی خاموشی سے چلی گئی

قاضی بہت پریشان ہواکہ اس لڑکی نے بہت ہی مشکل صور تحال میں ڈال دیا ہے ۔ مقرر وقت پر وہ لڑکی اور اس کا شوہر اس قانی کی عدالت میں پائی گئے جب پانی نے اس کے شوہر سے پو چھاتو اس نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو بہت پسند کرتا ہوں اور دنیاکی

ہر آسائش اس کے قدموں میں ڈال دی ہے لیکن میری بیوی میرے قریب آنے سے بھی گھبراتی ہے۔اور نکاح سے لے کر آج تک میری بیوی نے کمرے میں میرے بول ساتھ ایک لمحہ بھی نہیں گزارا ۔ یہ سراسر جھوٹ بول رہی ہے قاضی کی حیرت پر یشانی میں تبدیل ہو گئی

لڑکی کے شوہر کا بیان سن کر اس کے بعد قاضی نے کہا ایک شرط پر میں تمہار افیصلہ کروں گا دونوں نے کہا اپنی شرط بتاؤ تو پانی نے کہا کہ آج کی رات میں میں جو کچھ تمہیں کرنے کاکہوں گاوہ تمھیں کر ناپڑے گا ۔ قاضی نے کہا کہ تم دونوں

میاں بیوی کو ایک کمرے میں برہنہ ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ پوری رات گزارنی ہوئی گیے ۔ لڑکی کو مجبور پانی کے شرط مانے پی جب صبح ہوئی تو دونوں میاں بیوی حاضر ہوئے تو قاضی صاحب نے شاہی حکیم کو بلایا اور کہا کہ اس لڑکی کامعائنہ کرو ۔ جب

حکیم صاحب نے معائنہ کر لیاتواس نے کہا کہ یہ لڑکی اب کنواری نہیں رہی اس نے رات کو کسی کے ساتھ ہمبستری کی ہے ۔ قاضی صاحب نے جیسے ہی سناتولڑ کی سے پوچھا کہ کیاتم بد کردار ہو یا تمہاراشوہر کے مردانگی رات جب ہم دونوں ایک کمرے میں ایک

دوسرے کے سامنے برہنہ ہوۓ تو میری بیوی اپنے جذبات قابومیں نہیں کرسکیں اور میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت شروع کر دی اور اب بھی میری بیوی اپنے بات پر ساکت ہے ۔ تہنی نے لڑکی سے پو چھا تو لڑکی نے سر جھکائے ہاں میں جواب

دیا ۔ قاضی نے کہاب پھر تو نے یہ سارا کھیل کیوں کھیلا اور اپنے شوہر پر اتنے گھناؤنے الزامات کیوں لگائے تولڑکی نے جواب دیا میں اپنے ماموں کے بیٹے کے ساتھ پیار کرتی ہو اور اس کے ساتھ شادی کر نا چاہتی تھی اس لئے میں نے یہ جھوٹ

بولا کیوں کہ یہ آدمی شری طور پر تو میرا شوہر ہے لیکن اس اس کے قریب جانے سے میر ا دل عبر اتا ہے قانی صاحب نے کہا اب بتاؤ تم کیا کر نا چاہتی ہو تو اس لڑکی نے جواب دیا پانی صاحب مجھے اپنے شوہر زندگی میں اس کے ساتھ گزار نا چاہتی ہوں

اور میں آپ کاشکر یہ ادا کر ناچاہتی ہوں کہ آپ نے میرے ہاتھ سے ایک قیمتی چیز جانے سے روک دیں جسے میں خود سے دور کررہی تھی ۔

Categories

Comments are closed.