نادان نعیمہ اور بارہ

نعیمہ بہت چنچل سی لڑکی تھی۔ ایسی کہ ہر ایک کو ہنس کو بلانے والی۔ اخلاق ایسا کہ پہلی گفتگو میں ہی دل میں اتر جائے ۔ وہ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ ماں باپ کی لاڈلی۔ اس کی ماں ثمرین جو کہ اسے دیکھ کےہی جیتی تھیں ۔ اور ابا محمد عارف گھرمیں لائی گئی ہر چیز پہلے نعیمہ کےسامنے رکھتے تھے۔ اور بھائی ان کی توجان تھی نعیمہ میں۔ بھائی تو ویسے بھی بہنوں کا مان ہوتے ہیں۔ وہاں نعیمہ نے منہ سے بات نکالی نہیں کہ پوری بھی ہوگئی۔

مختصراً ایک خوشحال اور مکمل گھرانہ بعض دفعہ حالات ایسے بدلتے ہیں کہ خوشیوں کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ ازیتوں کی سولی چڑھنے والی ہیں۔ صیحح کہا ہے کسی نے زندگی سب سے بڑا کڑا امتحان اسی سے لیتی ہے۔ جو زندگی کا سب سبے بڑا لاڈلہ ہوتاہے۔ بلال نعیمہ کی کمیونٹی کا ہی لڑکا تھا۔ نعیمہ جب بھی کالج جاتی راستے میں آتے جاتے اسے دیکھتا تو مشکل سے ہی دل کو سنبھال پاتا مگر عمروں کا تقاضاایسا ہوتاہے کہ زندگی میں کب کوئی شخص اہم ہوجائے پتا ہی نہیں چلتا کچھ ایسا حال ہی بلال کا تھا۔ وہ تھی ہی اتنی خوبصورت کہ کوئی اسے ایک نظر دیکھے تو دوبارہ دیکھنے کی خواہش پیدا ہو۔ بلال پڑھائی سے فارغ ہوچکا تھا اور نوکری نہ ملنے کے باعث محلے کے کونے پر کھڑا پایاجاتا تھا۔۔ ایک دن نعیمہ کالج کےلیے نکلی ۔ راستے میں بلال نے اسے روک لیا۔ وہ بہت سہم گئی تھی مگر بلال نے پرواہ کئے بغیر دو ٹوک الفاظ میں محبت کا اظہار کردیا۔ دن گزرتے گئے وہ روز بلال کو رستے میں کھڑا پاتی اور نظرانداز کر دیتی۔

ایک دن بلال نے اسے پھر روکا۔ اس نے نعیمہ کا ہاتھ پکڑا تھا ۔ نعیمہ کے دل کی دھڑکن رک گئی تھی۔ اچھے گھروں کی لڑکیاں یو ں بازاروں میں لڑکے کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتیں۔ اس نے اسے ایک بار بات کرنے کا کہہ کر نمبر پکڑایا اور ہاتھ چھوڑ دیا رات کافی ہوگئی تھی مگر نیند تھی آنکھوں سے کوسوں دور کیسے آتی آسانی سے۔۔۔رات انھی سوچوں میں گزرگئی نعیمہ کوروز اسے دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی ۔۔۔ ایک دن بلال اسے رستے میں نظر نہ آیا۔ نہ چاہتے ہوئے گھی اسے تلاش تھی اسی انسان کی وہ ڈر سے چھپے چورے رستے میں نظر دوڑاتی آئی۔۔ مگر کہاں تھا وہ جو اسے دکھائے نہیں دے رہا تھا۔ دو دن ایسے ہی گزر گئے نعیمہ کا دل بے چین سے بے چین ہوگیا۔ بلال میں جو وہ اس کی طرف کھنچ رہی تھی اس کی فکر کر رہی تھی۔ محبت کے نامعلوم جذبات نے نعیمہ کو اپنے رنگ دکھا ہی دیے۔ تیسری رات نعیمہ نے بلال کو کال کردی۔۔ ہیلو کی آواز نے نعیمہ کی دھڑکنیں تیز کردیں۔۔۔ اس کی آواز سے جیسے کائنات میں رنگ واپس آگئے تھے۔ایک ہی پل میں ہر چیز حسین ہوگئی تھی۔ وہ چپ تھی ایک بار پھر ہیلو نے اسے چونکا دیا۔ “تم کہاں تھے دو دن سے ” وہ بےساختہ بولی۔ میں دو دن سے نوکری کی تلاش میں مصروف تھا۔

وہ پرسکوں ہوگئی تھی ۔ بلال نے کال کی وجہ پوچھی بے یقینی میں ۔۔۔وہ توقف کے بعد بولی”مجھے تمہیں روز دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے۔ تم نہیں دکھتے توہر شے ویران لگتی ہے۔ تم دو دن نظر نہیں آئے تو میں پریشان ہوگئی تھی۔ دوسری طرف بلال کی کیفیت آسمانوں میں اڑنے جیسی تھی ۔ اچانک انسان کو پر تو لگ ہی جاتے ہیں۔ اس کی زندگی کا مقصد جیسے پورا ہوگیا تھا۔دن گزرتے گئے محبت پروان چڑھتی گئی۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کےلیے ج۔ینا شروع کر دیا تھا۔ کال پر ڈھیروں باتیں کرنا معمول بن گیا تھا۔ زندگی ہر طرز سے حسین تھی ۔ نعیمہ ابھی پڑھ رہی تھی ۔ اس لیے پڑھائی چھوڑ کر شادی کی بات پر خاص زور نہ دیا۔ ایک دن نعیمہ کالج گئی اورجیسے واپس آنا بھول گئی ہو ثمرین اور عارف سمیت اس کے تینوں بھائیوں کی سانسیں گلے میں اٹکی ہوئی تھیں۔ لڑکی رات بنابتائے گھر سے باہر رہے تو گھر والوں پر کیا گزرسکتی ہے۔ انہوں نے ہر جگہ پتا کر لیا تھا مگر نعیمہ کی کوئی خبر نہ تھی۔ دودن بعد عارف کو کال آئی کہ فلاں ہوٹل سے اپنی بیٹی کو آکے لے جاؤ۔ جب عارف اور اس کے بیٹے ہوٹل پہنچے تو نعیمہ کو اد ھ موئی حالت میں دیکھ کر ایسا لگا کہ جیسے کسی نے ان کے پیروں کےنیچے سے زمین کھینچ لی ہو۔

نعیمہ شدیدزخمی تھی ۔ جسمانی اذیت کا شکار جگہ جگہ سگ۔ریٹ کے کش لگے ہوئے تھے۔ وہ نعیمہ کو ہسپتال لے گئے ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ نعیمہ گ۔ین۔گ ری۔پ کا وک۔ٹم بنی ہے۔ اس روز بلال نے نعیمہ کو کال کر کے ملنے کا کہاتھا ۔ نعیمہ کےلاکھ منع کرنے کے باوجود وہ بضد رہا تو وہ مان گئی ۔ کالج کے اختتام پر بلال اسے ایک ہوٹل میں لے گیا۔ جہاں اس کے بارہ دوست موجود تھے۔ نعیمہ محبت کے پردے کےپیچھے بلال سمیت تیر ہ لوگوں کی ح۔وس کا نشانہ بنی تھی۔ اس معصوم کو تو خبر بھی نہ ملی تھی۔ کہ بلال اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔ وہ تو اس سے محبت نہیں عشق کرتا تھا۔ وہ سب کے سامنے ہاتھ جوڑتی رہی واسطے دیتی رہی ۔ منتیں کی اس نے اس کی عزت کو بخش دیا جائے۔ مگر شیطانوں میں انسانیت کہاں پائی جاتی ہے۔ پورے دو دن اس پر ظلم کرنے کے بعد بلال نے اس کے گھر فون کر دیا۔ جب محمد عارف نے ڈاکٹر کی بات سنی تو بے ساختہ منہ سے نکلا کہ “زمین کے دو ٹک۔ڑے کر کے میں اس میں سما جاؤں ” ایک باپ کےلیے اس بڑھ کر اذیت کیا ہوسکتی ہے۔ کہ اس کی بیٹی گینگ ریپ کا شکار ہوئی ہو۔ ماں مرمر جارہی تھی اور بھائی ان کی تو غیرت کو ٹھیس لگی تھی ۔ ایک ہفتہ ہسپتال میں گزر گیا۔

نعیمہ کی طبیعت سنبھلی تو اسے گھر لے آئے۔ عارف نے ثمرین ، نعیمہ اور خود کوکمرے میں بند کر لیا اور چپ چاپ زہر کا پیالہ سامنے رکھ دیا اور ثمرین اور نعیمہ کو کہا کہ تم دونوں میں سے کوئی پیے یا میں خود پی لوں گا۔ نعیمہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ جب زہر اٹھانے لگی تو ماں تڑپ کر رو پڑی ۔ نعیمہ نے ایک ہی گھونٹ میں سارا زہر نکل گئی۔ کچھ ہی پلوں میں وہ مٹی کےڈھیر کے سوا کچھ نہ تھی۔ اس کی ساری شوخی، لاڈ، پیار، مان ، عزت، غیرت سب کچھ اس کے ساتھ ہی اس کی ق۔ب۔ر میں دفنا دیاگیا تھا۔ ایک ہنستابستا گھر زندہ لوگوں کا ق۔برستان بن گیا بلال اور اس کے ساتھی آج بھی جیل میں ہی ہیں۔ نعیمہ کے بھائی اور باپ آج بھی نعیمہ کی قبر پر جا کے روتے ہیں اور کہتے ہیں۔ “کچھ غلطی تمہاری تھی ، کچھ غلطیاں ہماری تھیں ،ثمرین کو بیٹی کے غم کی چپ لگ گئی تھی ، ٹوٹے ہوئے یقین کی کر چیاں کتنے لوگوں کے سینے میں ایسے لگیں تھیں کہ وہ نہ جی رہے تھے نہ م۔ر رہے تھے ۔

Categories

Comments are closed.