م و ت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا سناء مکی

سناء مکی ایک بہترین جڑی بوٹی ہے اور بہت سی بیماریوں کے لیے شفاء بخش ہے۔ صدیوں سے ادویات میں استعمال ہوتی آرہی ہے۔ سناء مکی خودرو جھاڑی ہے جو حجاز مقدس کے پہاڑوں پر پیدا ہوتی ہےمحقیقین نے حتمی طور پر یہ بات ثابت کی ہے کہ اس کا اصل وطن مکہ معظمہ اور اس کے اطراف ہیں۔ آٹھ سو پچاس عیسوی اور نوسو عیسو ی کے دوران ایک عرب سناء کا پودا مصر لے گیا۔ جس کی وہاں کاشت کی گئی۔ تو مصر کی سرزمین نے اس پودے کو قبو ل کرلیا۔ اب دریائے نیل کے ڈیلٹا میں سناء کی باقاعدہ زراعت ہوتی ہے۔ طب میں سناء کے استعمال دسویں صدی سے پہلے کتابوںمیں نہیں ملتا ۔ اور یہ بات طے ہے کہ اسے دوائی کے طور پر اطباء نے دسویں عیسوی سے شروع کیا۔ وہاں سے مغربی اطباء کو پسند آئی ۔ وہاں سے برصغیر پہنچی۔ اور برصغیر کے اطباء سناء اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے جنوبی ہند میں کاشت کیا۔

اس طرح تقریباً یہ ساری دنیا میں پھیل گئی ہے۔ سناء مکی کا ذکر متعدد احادیث مبارکہ میں بھی ملتا ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ عبداللہ بن ام حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ کو فرماتے سنا۔ کہ بس سنا ءاور سنوت بعض حکمات نے سنوت سے سیاہ زیرہ مراد لیا ہے۔ تو استعمال کیا کرو۔ اس لیے کہ ان دونوں میں سام سمیت ہر بیماری کےلیے شفاء ہے۔ پوچھا گیا کہ رسول اکرم ﷺ ” سام ” کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: موت۔ جب آپ ﷺنے مکہ فتح کیا۔ تو کچھ دن وہاں ٹھہرےرہے۔ اور ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی تھے۔ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ارد گرد کے پہاڑوں پر گئے تو انہیں ان پتھروں سے آواز آنے لگی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اس جگہ ہمارے علاوہ نہ انسان ، نہ چرندپرند ہے۔ تو یہ آواز کیسی ہے؟ تو وہ حیران ہوکر نبی پاک ﷺکی بارگاہ میں آئےاور عرض کی اے اللہ کے رسول اللہﷺ ! ہم مکہ کےپہاڑوں میں گئے تو کچھ آوازیں آرہی تھیں۔ ہم واپس آپ کے پاس آئے ہیں۔

آپ بھی ساتھ چلیں اور وہ آواز سنیں۔ آپﷺ صحابہ کےساتھ مکہ کےپہاڑوں پر گئے۔ تو دیکھا کہ پتھروں کےدرمیان کچھ پودے ہیں۔ اور وہ آپﷺ پر درود سلام پڑھ رہے ہیں۔آپ ﷺ ان پودوں کے قریب گئے۔ اور ان سے کچھ پتے توڑ کر اپنے صحابہ کو کھانے کےلیے دیے۔ پھرآپ ﷺنے فرمایا: اے صحابہ ! جو بھی ان کو کھائے گا وہ معدے اور پیٹ کی بیماریوں سے شفاء پائےگا۔ یہ پودا سناء مکی ہے۔ یہ پودا مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھتا ہے۔ اس کو مجھ سے محبت ہے۔او رمجھ کو اس سے محبت ہے۔ اب آپ کو طب جدید اس کے فوائد بتاتےہیں۔ و ہ نوٹ کرلیں۔ طبی تحقیق کے مطابق سناء ان ادویات میں سے ایک ہے جن کے فوائد بے انتہاء ہیں۔ا ور اطباء قدیم کو جہاں بھی کوئی مرض ٹھیک سمجھ نہ آیا۔

وہاں سناء کو استعمال کیا۔ ان کے خیال میں اس کی افادیت کی اہم وجہ یہ ہے کہ یہ جسم سے غلیظ اور زہریلے مادے باہر نکال دیتی ہے۔ اور اس طرح غلاظتوں کے اخراج سے جسم میں تندرستی کاعمل شروع ہوجاتا ہے۔ سناء کے کھانے سے آپ اپنے سارے جسم کو ڈی ٹاکس کرسکتے ہیں۔ یعنی صرف سناء مکی آپ کےجسم کا سارا گند باہر نکا ل سکتی ہے۔ ابن سینا نے اسے امراض قلب میں کام آنے والی ادویہ میں سر فہر ست قرار دیا ہےیہ پیٹ کے صفراء کو خارج کرتی ہے۔سوداء کو نکالتی ہے۔ قلب کو مضبوط کرکے دل کےپردوں کو تقویت دیتی ہے۔ پٹھوں اور عضلات سے ایٹھن کو دور کرتی ہے۔ بالوں کوگرنے سے روکتی ہے اور صحتمند بناتی ہے۔ جسمانی دردوں کو مٹاتی ہے اوربد ن کی تھکاوٹ کو دور کرکے عضلات کو چست بناتی ہے۔

Categories

Comments are closed.