میں ہوں۔اک ماں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں کون ہوں میں ہوں۔۔شاہ زیب کی ماں امید ہے آپ ٹھیک ہونگے۔۔شاہ زیب میرا پہلا اور اکلوتا بیٹا ہے ۔میں بہت پیار کرتی ہوں اس سے۔۔وہ جب پیدا ہوا تو میں بہت چھوٹی تھی۔۔اس کے کھانے پینے کا مجھے کوئی اندازہ نہیں ہوتا تھا۔۔وہ اکثر بھوکا رہتا تھا۔۔خیر انھوں نے بھوک پیاس برداشت کرلی۔۔جب پانچ سال کا ہوا تو اس کے گاؤں کی تعلیمی حالات ٹھیک نہیں تھی۔۔اس وجہ سے بہت سوچ بیچار کے بعد اسے اپنے باپ کے گھر بھیج دیا۔۔اس کو لینے عصر کے وقت اس کا ماموں آیا اسے لے گیا۔۔اس کے لے جانے کے بعد جب شام ہوئی تو میں شاہ زیب کی آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ آئے گا۔۔کھیل کھود سے لیکن وہ نہیں آیا۔۔۔مجھے یاد آیا کہ میں نے اسے بیج دیا ہے۔۔میں بے چین سی ہو رہی تھی۔۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا۔۔رات کو سب گھر والوں نے کھانا کھایا۔۔لیکن میرا دل نہیں کر رہا تھا۔۔کیونکہ میرا جگر کا ٹکڑا میرے پاس نہیں تھا۔۔رات کے سونے کے وقت جب چارپائی کے پاس آ گئی۔۔تو میرے ساتھ کے چارپائی شاہ زیب کی خالی پڑی تھی۔۔میں آپنے چارپائی کے بجائے اس کی چارپائی پر بیٹھ گئی۔۔میرے آنکھوں سے آنسو آ نے لگے۔۔بے تحاشا روئی۔۔روتے روتے سو گئی۔۔جب آدھی رات ہوئی تو شاہ زیب کی آواز کانوں میں آئی۔۔ امی اے امی امی مجھے پانی دو۔۔جب میں اٹھی تو کوئی نہیں تھا۔۔افففف وہ رات میں نے روتے ہوئے گزاری۔۔صبح شاہ زیب کی آبو کو معلوم ہوا کہ مجھے سب گھر والے سنا رہے تھے کہ آپ نے شاہ زیب کو ماموں کے گھر کیوں بھیج دیا۔۔ایک ہی بیٹا تو ہے۔۔۔لیکن شاہ زیب کی آبو نے ہمت دی اور کہا کہ شاہ کو ہم نے تعلیم کیلئے بھیجا ہے جو یہاں حاصل کرنا نا ممکن ہے۔۔اور ان شاءاللہ ایک دن وہ بڑا آدمی بنےگا۔۔اور اپنے گاؤں آور سب لوگوں کی مدد کریں گا۔۔۔ خیر میں ایک ماں تھی مجھے بہت تکلیف تھی۔۔تو شاہ تو ابھی بہت چھوٹا تھا۔۔اس نے بہت تکالیف برداشت کئے ہیں۔۔وہ سکول کے چھوٹیوں میں میرے پاس آ تا تھا۔

وہ کہتا ماں مجھے کوئی اچھی بات سناؤ ۔۔جس سے میں بڑا آدمی بن کر واپس آپ کے پاس اجاو۔۔میں بہت ہنسی اس پر وہ بچپن سے بولاکو ہے۔ ۔ میں نے سب سے پہلے کہا بیٹا سب سے پہلے بڑا آدمی وہ ہے جو دوسروں کیلئے جیئے۔۔اس نے فٹا فٹ بولا اور۔۔میں نے کہا بیٹا ہمیشہ آپنا دل صاف رکھنا کھبی کسی کو دھوکا نہ دینا۔۔مخلص رہنا۔۔ ۔۔8..7سال گزرنے کے بعد میں سخت بیمار ہوئی شاہ بھی میرے پاس آیا۔۔۔وہ مجھے تسلیاں دے رہا تھا کہ ماں آپ بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گے۔۔ماں میں بھی آؤ گا۔۔میں اب بڑا آدمی بن گیا ہوں۔۔میں ہمیشہ سکول میں فسٹ آتا ہوں۔۔کہ اچانک مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔۔اور میری روح میرے جگر کے گود میں اٹھانا شروع ہوئی ۔۔ جو کہ سخت نا انصافی تھی۔۔اس نے ایک چیخ ماری اور وہ بھی بے خوش میرے دامن میں آ گرا۔۔ لوگ نے مجھے اپنی اصلی گھر قبر لے گئے۔۔شاہ آتا تھا اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے رب سے میرا شفارش کرتا۔۔جس کو اللہ نے قبول بھی کیا ہے۔۔۔۔اس کی جب بھی کوئی بات ہوتی ہے مجھے سنا دیتا ہے۔۔ ایک دن بہت خوشی خوشی وہ میرے قبر کے کنارے بیٹھ گیا کہنے لگا۔۔ماں آج میں بہت خوش مجھے آپ جیسا پیار کرنے والا ایک انسان ملا ہے۔۔جو ہے تو بہت دور لیکن میری خوشی پہ خوش اور غم پہ غمزدہ ہوتا ہے۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوئی کہ پہلی بار میرے بیٹے نے مجھے خوش خبری سنائی۔۔میں بہت خوش ہوئی۔۔اپ کو دل ہی دل میں دعائیں دینے لگی۔۔کیونکہ میرا بیٹا مجھ سے بچپن میں بچھڑ گیا تھا۔۔میری محبت انھیں نصیب نہیں ہوئی۔۔جیسے آپ خود سوچیں جب انسان بچپن میں اپنی آمی کے پیار سے محروم ہو جائیں۔۔اپ خود بھی محسوس کیا ہے مجھے معلوم ہے۔۔کہ جب آپ کو اپنی امی ابو یاد آتے ہیں۔۔تو آپ ایک کونے میں جا کر رو لیتی ہیں۔۔جب آپ کو اپنے والدین کی یاد آتی ہے بچپن سے تو آپ اکیلے میں رو لیتی ہیں۔۔۔۔ویسی حالات شاہ کی بھی تھی۔۔اپ سے ملنے کے بعد وہ بہت خوش ہوا کرتا تھا۔۔اور آپ کی ساری باتیں مجھے سنایا کرتا تھا۔۔۔ کہتا تھا امی مجھے میری نخرے اٹھانے والی مل گئی ہے۔۔وہ ہنس کر کہتا تھا ماں کھبی کھبی میں اسے بہت تنگ کرتا ہوں لیکن پھر مجھے افف تک نہیں کرتی۔۔کھبی خوب ہنساتی ہوں۔۔

۔کل اچانک میرے قبر کے نزدیک آیا اور کہا ماں آج ان کو میں نے گپ شپ میں کہا کہ آپ سے بات نہیں کرنی جیسے میں آپ سے کہتا تھا۔۔ لیکن اس نے کہا مت کریں اور چلی گئی۔۔مجھے بہت سخت دکھ۔ہوا۔لیکن پھر بھی میں نے ایس ایم ایس کئے لیکن جواب نہیں دیا۔۔اور رونے لگا۔۔ مجھے کھبی بھی ایسا دکھ نہیں ملا قبر میں بھی جو اس بات سے ملی۔۔۔ دیکھیں میں اپنے بیٹے کو خوب جانتی ہوں۔۔۔ایک بات کی انسان ہے۔۔صاف دل ہے۔۔تھوڑا سا آپ کو پاگل بھی لگے گا۔۔کھبی کھبی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو بھی دیتا ہے۔۔۔ کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اسے ماں کی محبت بھی نہیں ملی۔۔۔لیکن میں یہاں سے گارنٹی دیتی ہوں کہ میرا بیٹا میرا غرور ہے۔۔انہوں نے کیسی ماں بہن بیٹی کو بری نظر سے نہیں دیکھا۔۔اس وجہ سے تھوڑا نادان بھی ہیں۔۔کیونکہ عورت کی مزاج اسے معلوم نہیں کہ کس بات سے عورت خوش ہوتی ہے اور کس پہ خفا۔۔جس وجہ سے آپ اسے سمجھایا کریں۔۔وہ دوبارہ غلطی نہیں کرے گا۔۔۔۔ لیکن پلیز میں آپ سے گزارش درخواست کرتی ہوں کہ جب ایک بار میرے بیٹے نے آپ کو سب کچھ آپ کو مانا تو ممکن نہیں کہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں۔۔اس کی اکلوتا سہارا ہیں آپ اس کو ناراض کرنے کی کوشش نہ کریں۔۔اس سے چھوڑنے کا امتحان کھبی مت لینا۔۔یہ میں سیریس کہتی ہو کہ پھر آپ کو افسوس ہوگا ۔۔اور ہاں اگر کھبی آپ کو مجبوری پیش آئیں تو اسے بتانا ۔۔ساری زندگی بھی انتظار کرے گا۔۔اگر کسی سے آپ کے ہونے سے خوشی ملتی ہیں۔۔تو ان کی آرمان ضرور پورا کرنا۔۔ وسلام

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *