میں نے چلا کر کہا اللہ کرے تو مر جاۓ اتنےمیں ایک لڑکا فون پر بات کر رہا تھا یار اکبر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر گیا

یں پاگل ہو جاؤں گی میری شکل تو دیکھو میں بھکارن بن گئی ہوں ۔ میرا شوہر میرے پاس بیٹھ کر کہنے لگا تو ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے بھی تو مجھ سے پیار سے بات کر لیا کرو میں نے اسے سائیڈ پر دھکا دیا تو وہ خاموش ہو کر بیٹھ گیا ۔ اب میں سوچ رہی تھی کہ بس اس سے طلاق ہی لوں گی ۔

میں نے اپنے کزن سے بات بھی کی تھی جو وکیل تھا اس نے مجھے تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم اس کمینے سے طلاق لے لو ۔ میں سوچ رہی تھی کہ آج جب گھر آۓ گا تو بس اس کو بول دوں گی کہ مجھے طلاق دےدو ۔ میں انتظار کر رہی تھی وہ رات کے دس بجے گھر آ گیا ۔ بچے سو رہے تھے اس نے پہلے تو دونوں بچوں کے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ان کے ہاتھ چومنے لگا پھر چار پائی پر بیٹھ کر مجھے آواز دی ، شہتار مجھے روٹی دو لیکن میں کروٹ بدلے لیٹی رہی ، اس نے پھر آواز دی کہ شہناز مجھے روٹی دور میں چپ ہی رہی وہ میرے پاس آیا تو میں نے سونے کا ناٹک کر کے آنکھیں بند کر لیں ۔ مجھ پہ کمبل اوڑھ کر بولا کہ سارا دن کام کر بھاری تھک جاتی ہے ، پھر وہ خود ہی کچن میں جا کر کھانا کھانے لگا

لیکن کھانے کے لیے اسے کچھ بھی نہ ملا ۔ پھر اایک پیالی میں نمک مرچ ڈال کر اس میں تھوڑا سا پانی ملا کر سوکھی روٹی کھانے لگا ۔ میں یہ سب دیکھ رہی تھی اور دل میں سوچنے لگی کہ کتا مرتا بھی نہیں ہے ۔ کھانا کھا کر وہ سو گیا ۔ دوسرے دن صبح ، صبح ہم کسی بات پر جھگڑنے لگے میں نے اسے کہا کہ بس مجھے طلاق دے دور میں اب برداشت نہیں کر سکتی ۔ وہ طلاق کا نام سنتے ہی چپ ہو گیا ۔ اس کے بعد وہ جلدی سے اٹھاد بائیک پڑی اور باہر جانے لگا ۔ میں نے چلا کر کہا اللہ کرے تو مر جاۓ میری جان تو نچھوٹ جاۓ گی نہ تم سے ۔ وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرےچھوٹ جاۓ گی نہ تم سے ۔ وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرے میں دوبارہ آیا اور ایک کاپی پر کچھ لکھنے لگا اور پھر چلا گیا ۔ میں اسے گالیاں دے رہی تھی ۔ رو رو کر تھک گئی تھی ۔ میں نے ارادہ کر لیا کہ بس اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہوں گی ۔ دو چار گھنٹے گزرنے کے بعد میں میکے جانے لگی ۔ بچوں کو ساتھ لیا اتنے میں گلی میں ایک شور سا برپا ہوا ۔

میں رو رہی تھی کہ میرے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ۔ میں حیران تھی کہ کیا ہوا ہے ۔ اتنےمیں ایک لڑکا فون پر بات کر رہا تھا یار اکبر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر گیا ہے ، یہ سنتے ہی جیسے مجھ پر قیامت آ گری میں ساکت ہو گئی ۔ چار پائی صحن میں رکھی گئی ۔ سب لوگ قبر کھودنے کی بات کرنے کے کچھ جنازے کا ٹائم دیکھنے لگے مسجد میں اعلان ہونے لگے لگا ۔ اکبر میرے سامنے چار پائی پر لیٹا ہوا تھا پھر میں چیخنے چلانے لی اکبر اٹھ جا میں کچھ نہیں مانتی مجھے کچھ نہیں چاہئے میں طلاق کی بات بھی نہیں کرتی ، میں اس کے پاؤں چومنے لگی اکبراٹھو میری جان دیکھ میں کہیں نہیں جارہی مجھے تیرے ساتھ ہی , رہنا ہے ، میں بھوکی پیای رہ لوں گی ۔ مجھے یوں چھوڑ کر نہ جالیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ۔ اب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا ۔ میں چیختی : رہی ۔ اس کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے رنگ نظر آنے لگے ۔ مجھے رشتے بدلتے دکھائی دینے لگے پھر جو اپنے تھے وہ سب منہ موڑنے لگے ۔ میں اکبر کے بعد در بدر ٹھوکر میں کھانے لگی اب بچے بھی کچھ فرمائش نہیں کرتے وہ جانتے ہیں بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے ، میرے بھائی بھی مجھ سے منہ موڑگئے ، پھر میں لوگوں کے گھروں میں نوکرانی بن کے کام کرنے گی ،

ایک دن مجھے اس کی ڈائری ملی جس پر لکھا تھا ۔ شہناز سے شادی کر کے میں بہت خوش ہوں ، میں شہناز سے بہت پیار کرتا ہوں وہ پاگل ہے بالکل سمجھتی ہی نہیں ، جھگڑا کرتی رہتی ہے مجھے , سے دیکھو آج اس نے مجھے کھانا نہیں دیا وہ کہتی ہے مجھے مہنگا موبائل لا کر دور میں اسے کیسے بتاؤں کہ نہیں لا سکتا ۔ آج میرے بچوں کو میرے بھائی نے گالی دی میں بہت رویا ہوں میرے بچے میری جان میں اللہ نے چاہا تو ہمارے حالات بدل جائیں گے ، پھرشہند کو دنیا کی ہر خوشی دونگا ۔ آج میری کمر میں اینٹ لگی ہے زخم بہت گہرا ہے لیکن شہناز کو نہیں بتاؤں گا ۔ بیچاری پریشان ہو جاۓ ن گی مجھ سے کہہ رہی ہے طلاق دے دور میں اس کے بنا مر جاؤں گار ابھی غصے میں ہے ٹھیک ہو جائے گی ۔ میں ڈائری کو سینے سے ۔ ا جیا بھی کر چیخ چیخ کر رونے لگی ۔ ہمسفر تو ہمسفر ہوتا ہے تھا میرا سایہ تھا ۔ میری ڈھال تھا ۔ اس کے بعد زمانے کی ٹھوکر میں کھا کر میں سمجھ گئی ہوں ، میرے دونوں جہاں تھے کیوں اس کو ستاتی تھی میں کیوں میں لوگوں کو دیکھ کر بڑے بڑے خوابدیکھتی تھی ۔ کیا میں بخشی جاؤں گی کیا اللہ مجھے معاف کر دے گا ۔ میں مشکل وقت میں بھی اس کا سہارا اور اس کی ہمت نہ بن سکی ۔ میں مطلب پرست اور لالچی ہو گئی تھی ۔ اب تو اکثر لوگ میری مدد کرتے ہوۓ میرے جسم کی بات بھی کرتے ہیں

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *