میں نے پچھلے دنوں ایک شخص کا انٹرویو سنا

میں نے پچھلے دنوں ایک شخص کا انٹرویو سنا انٹرویو دینے والا دنیا کی کسی بڑی یونیورسٹی یا کالج تو دور کی بات شاید مڈل سکول تک بھی نہ گیا ہو گا

مگر کامیابی کا وہ راز بتا دیا کہ شاید ہی کوئی ڈگری والا کسی کو بتا پائے وہ شخص ایک بکریاں پالنے والا چھوٹا سا فارمر ہے اس سے پوچھا گیا کہ آپ کے پاس کتنی بکریاں ہیں اور سالانہ کتنا کما لیتے ہو
اس نے کہا میرے پاس اچھی نسل کی بارہ بکریاں ہیں اور جو مجھے سالانہ چھ لاکھ روپے دیتی ہیں جو ماہانہ پچاس ہزار بنتا ہے

مگر کیمرہ مین نے جب بکریوں کا ریوڑ دیکھا تو اس میں تیرہ بکریاں تھیں اب اس نے تیرہویں بکری کے بارے میں پوچھا کہ یہ آپ نے کنتی میں شامل کیوں نہیں کی ؟تو بکری پال کا جواب جو تھا وہ کمال کا تھا اور وہی جملہ دراصل کامیابی کا راز تھا اس نے کہا کہ بارا بکریوں سے میں چھ لاکھ منافع حاصل کرتا ہوں اور اس تیرہویں بکری کے دو بچے ہوتے ہیں ایک کی قربانی کرتا ہوں اور دوسرا کسی مستحق غریب کو دے دیتا ہوں
اس لئے یہ بکری میں نے کنتی میں شامل نہیں کی
گویا یہ تیرہویں بکری بارہ بکریوں کی محافظ ہے اور باعث خیر وبرکت ہے

یقین کریں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں کے فلسفے ایک طرف اور اس بکریاں پالنے والے نوجوان کا جملہ ایک طرف اپنا بڑا مقام رکھتا ہے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو اس بکروال نوجوان کی طرح اپنی حلال کمائی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Categories

Comments are closed.