میں مایوس ہو چکی تھی سات سال سے اولاد نہیں تھی

ایک ایسا عمل لے کر حاضر ہوا ہوں جو کہ شادی شدہ ہیں اور اولاد کی نعمت سے محروم ہیں آپ کی طرف سے سوالات آ تے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کر یں کہ اللہ پاک ہمیں اولاد عطا فر ما ئیں ہماری شادی کو اتنا اتنا ٹائم گزر چکا ہے۔ ہمارے لیے دعا کر یں۔ کوئی عمل بتائیں کہ جسے کرنے سے اللہ پاک ہمیں اولاد کی نعمت عطا فر ما ئیں۔ تو آج میں آپ کے لیے ایک ایسا قرآنی عمل لے کر حاضر ہوا ہوں جو حضرت زکر یا ؑ کی دعا تھی ۔حضرت زکر یا ؑ نے اللہ رب العزت سے دعا کی تھی اس دعا کی بر کت سے اللہ رب العزت نے حضرت زکر یا ؑ کو اَسی سال کی عمر میں اولاد کی نعمت حضرت یحییٰ سلام عطا فر ما ئے تھے آج میں اسی دعا کے بارے میں بتاؤں گا۔ آگے بڑھنے سے پہلے میری آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے کیونکہ اس وظیفے سے میں جانتا ہوں کہ آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہونے والا ہے۔

واضح ارشاد فر ما رکھا ہے کہ اللہ رب العزت جسے چاہتا ہے جس کا مفہوم میں آپ لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں اللہ رب العزت کا فرمان ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کر تا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کر تا ہے جسے چاہے دونوں بیٹے بیٹیاں عطا کر تا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے۔ہمیں آقا کریم ﷺ نے ایک ایسا طریقہ سکھا یا ہے کہ جس کے کرنے سے تقدیر کو بدلا جا سکتا ہے ہم میں سے ہر انسان جانتا ہے کہ دعا کرنے سے اللہ ہماری پریشانیوں کو دور فر ما تے ہیں ہماری بڑی سے بڑی مشکل ہو وہ اللہ کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی اگر ہم سچے دل کے ساتھ اللہ سے مانگیں۔ اپنے آپ کو محتاج کر کے اگر ہم اللہ کے سامنے خود کو پیش کر یں۔ تو اللہ رب العزت آج بھی ہماری سنے اور ہماری ہر پکار پر اس کا بدلہ عطا فر ما ئے گا۔ آپ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ایسے اعمال کرنے کی توفیق عطا فر ما ئیں اور ایسی دعائیں کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے جو کہ فوری طور پر عرش کو ہلا دے اور اللہ رب العزت ہمیں فوری طور پر اس کا حل بتا دیں گے۔ تو میرے ایسے تمام بہن بھائی جو کہ بے اولاد ہیں آپ نے کر نا کیا ہے ۔ آپ نے کر نا کچھ یوں ہے کہ آپ نے کہ میاں بیوی دونوں کوشش کر یں کہ دونوں اس عمل کو کر لیں۔ آپ نے کرنا کیا ہے اس آیتِ مبارکہ یہ سورۃ الا نبیاء کی آیت نمبر ننانوے ہے ۔ اس کو پڑھنا ہے

Categories

Comments are closed.