میں فلیٹ میں رہتی تھی میرے شوہر کا دوست ایک دن بن بتاۓ ہمارے فلیٹ میں آگیا جب وہ

یرا نام صائمہ ہے۔دو سال قبل گرمیوں کے موسم میں میراشوہر پشاور گیا تھا کام کے سلسلے میں اور میں اکیلی تھی اور گرمی خوب زور پر تھی۔۔میں اپنے شوہر کے دوست نوید کے بارے میں سوچ رہی تھی جس نے میرے شوہر کے کہنے پر ایک بار پیار میری قسمت دیکھیں کہ اتنے میں ہی نوید کا فون آ گیا ۔ اس نے پوچھا کیا کر رہی ہو ۔

میں نے کہا کہ اکیلے مقابلہ کر رہی ہیں و ۔ اس نے کہا کہ میں آجاؤں ؟۔ میں نے کہا کہ آجاؤ لیکن تھوڑا لیٹ آنا کوئی دیکھے نہ ۔ اس نے کہ کہا ٹھیک ھے۔پھر میں نے شوھر کو فون کیا کی نوید آنا چاہتا ہے ۔ اس نے کہا ٹھیک ہے ۔ ہمارا یہ فلیٹ 3 کمروں کاہے ۔ یہ پہلی دفعہ ھو گا کہ کوئی غیر بندہ ہمارے فلیٹ پر آرہا تھا ۔ ہم چوتھے فلور پرکا ہے ۔ یہ پہلی دفعہ ھو گا کہ کوئی غیر بندہ ہمارے فلیٹ پر آرہا تھا ۔ ہم چوتھے فلور پر رھتے تھے ۔ اس بلڈنگ میں سیڑھی اور لفٹ کیساتھ ایک سایڈ پر 8 فلیٹ تھے اور 8 دوسری طرف ۔ ہمار ا فلیٹ سب سے آخر میں تھا ۔

نوید کو میں نے فون کیا اور سمجھایا کہ جب آپ نزدیک پہنچے مجھے کال کرو ۔ اس نے کہا ٹھیک ہے ۔ اور میں شدت سے اسکا انتظار کر رھی تھی ۔ اور طرح طرح کے پروگرام کے بارے میں سوچ رھی تھی رات 10 بجے کے قریب نوید آگیا ۔ اس وقت بجلی چلی گئی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ۔ اس میں صرف ہمارے فلیٹ کے دروازے پر لائٹ تھی جو کہ ہمارے یو پی ایس کی تھی ۔ میں نے فورآ چادر اوڑ لی اور کاریڈور میں آگئی ۔ اتنے میں نوید اوپر پہنچ گیا میںھی ۔ میں نے فور آچادر اوڑ لی اور کاریڈور میں آئی ۔ اتنے میں نوید اوپر پہنچ گیا میں نے آہستہ سے آواز دی ۔ میں چادر میں تھی اس لیے وہ نہ پہچان سکا ۔ اللہ کا شکر تھا اس وقت کاریڈور میں کوئی نہیں تھا ۔ میں نے فور نوید کو فلیٹ کے اندر کیا

اور دروزہ لاک کیا ۔ نوید نے فورا مجھے بہت پیار دیا ۔ میں حیران رہ گئی کہ نوید کھانے پینے کے لیے بہت کچھ اٹھا کے لایا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ اتنا سامان کیا لاۓ ہو ۔ بھی ، تھے ، چکن ،، چائنیز چاول ، فروٹ جوسز اور بہت کچھ ، اس نے کہا ۔ بہر حال نوید کو میں نے کولڈ ڈرنک دی۔اسنے کہاں مجھے مزے کی چاۓ پلاؤ ۔ اتنے میں وہ واش روم میں چلا گیا ۔ اور اس نے منہ ہاتھ دھویا جس میں اسکا منہصاف ہو گیا ۔ نوید آج بہت خوش تھا ۔ میں نے بھی سلیو لیس شرٹ اور ٹائٹس پہنی ھوی تھی ، ویسے بھی بہت گرمی تھی ۔ میں نے چاۓ رکھی ، اس نے کہا کہ سموسے ہیں اسمیں وہ نکلو ۔ میں نے ایک شاپر سے سموسے چلیبی نکال کر چاۓ کیساتھ رکھ دی ۔ نوید نے کہا آجاو میرے ساتھ بیٹھو ۔ میں نوید کیساتھ بیٹھ گئی یہ چیزیں کھا کر آج مجھے بہت مزا آرھا تھا ۔ وہ ساتھ ساتھ مزے مزے کی باتیں بھی کر رھا تھا ۔ میں نے گرمی کی سے اوپر چادر نہیں کی تھی ۔

پھر اس نے اپنا بیگ کھولا اسمیں سے میرے لیے پرفیوم ، میک اپ کا سامان لیپ سٹک ، فاونڈیشن اور گاؤن نکال کر مجھے دیا ۔۔۔ اف میں حیران رہ گئی ۔ نومد نے کہا کہ یہ والے کپڑے پہن کر دیکھو ۔ میں اسکے سامنےکپڑے پیج کرنے لگی اور یہ والے کپڑے بہت ھی فٹ سائز لا یا تھا ۔ پھر نوید نے کہا کہ یہ چادر بھی پہنو۔۔ایک بالکل ریڈ ایک پریل اور ایک بلیک سیٹ تھا ۔۔۔ اس نے کہا کہ بالکل ریڈ والا پہنو ۔ میں نے کہا جو حکم سرکار کا ۔ اس نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور ہم چاۓ پی رھے تھے اور وہ میرے منہ میں تھوڑے تھوڑے سموسے کے ہیں ڈالتا اور ساتھ پیار بھری باتیں بھی کر رہا تھا ۔ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ پر رکھا اور میں نے فورا ایسے پکڑا جیسے کہ میں بالکل بھو کی تھی ۔ اب اسکا ہاتھ میرے ساتھ میں تھا ۔

نوید نے کہا کہ کبھی کسی کے ہاتھ میں ایسے ہاتھ ڈالا میں نے کہا نہیں ۔ اس نے پوچھا میرے بارے میں کیا خیال ھے ۔ میں نے کہا جس طرح آپ کہیں گے ۔ میں صوفے سے نیچے سکے سامنے بیٹھی تھی ۔ وہ میرے بالوں میں ہاتھ مار رہا تھا اور ۔ میں نے بلا جھجک کچھ نہ کہا مجھے بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا ۔ اور میں بالکل پاگل ہورہی تھی ۔ ہاۓ میں پہلی دفعہ ایسے کر رھی تھی ، میرے جسم آگ لگ لا چکی تھی آخر میں صرف میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہم نے اس دن خوب انجوائے کیا تھاجیسا کہ کرنے کا حق تھا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *