میں سر ریاض کے پاس شام کو ٹیوشن پڑھنے جاتی تھی ایک دن

یری ایک بڑی بہن ھے سعد یہ اسکی شادی کراچی میں ہوئی تھی ۔ میں کلاس میں پڑھتی تھی ۔ پر میرا قد کاٹھ کسی 18 سال کی لڑکی جتنا تھا ۔ قدرت نے حسن اور دل کھول کر دیا تھا ۔ مجھے ابو جشنی کے نام سے پکارتے تھے میرے ہمسایے میں ابو کے دوست ریاض رہتے تھے جن کے پاس میں ٹیوشن پڑہتی تھی وہ

اکیلے رہتے تھے ۔انکی بیوی فوت ھو چکی تھی وہ ایک گورنمنٹ ٹیچر تھے ۔ وہ ایک جون کی سخت دو پہر تھی ویسے میں شام کو جاتی تھی پڑھنے پر پیپر ز سر پر تھے اور مجھے تیاری کرنی تھی تو میں سکول سے آ گر کھانا کھا کر چل پڑی ٹیوشن پڑھنے ۔ ریاض صاہب کے گھر کی بیل بجائی کافی دیر تک کوئی نہیں نکلا میں

واپس جانے کے لیے مڑ ہی رہی تھی تو دروازہ کھلنے کی آواز آئی سر ریاض نے دروازہ کھولا سر کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں سرنے کپڑے بھی سونے والے پہنے ہوئے تھے انہوں نے بنیان اور دھوتی پہنی ہوئی تھی ۔ مجھے شرمندگی ہوئی میں نے سر کو نیند سے اٹھادیا ۔ میں نے کہا : سر آپ آرام کر میں میں

شام کو آجائو گی سر : نہیں کوئی بات نہیں اندر آجاؤ میں اندر آگئی سر مونھ ھاتھ دھونے واش روم میں چلے کئے میں اندر آکر بیٹھ گی ۔ اور کتابیں کھول لیں تھوڑی دیر بعد سر بھی آکر بیٹھ گئے ۔ سر کی عمر تقریبا 45 سال کے لگ بھگ تھی سر کار نگ کالا تھا اور سر کار عب ایسا تھا محلے کے چھوٹے بڑے سب سر

سے ڈرتے تھے ۔ سر جب ڈانتے تھے میں خود ڈر جاتی تھی ۔ حالا نکہ آج تک سر نے مارا نہیں تھا ۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو سر اونگھ رہے تھے میں نے دل میں سوچا سر میری وجہ سے ڈسٹرب ھورے تھی میری اتنی ھمت نھیں ھو رہی تھی کہ سر کو جگاسکوں ۔ میں پھر سے کتابوں میں مگن ھو گئی تھی۔ایک

سوال سمجھ نہیں آ رہا تھا میں نے سوچا سر سے پوچھتی ہوں میں نے کتاب سے سر اٹھایا ۔ میرے آوسان خطا ہو گئے سر نیند میں تھے اور بے خیالی میں انکی دھوتی سائیڈ پر ھو گئی تھی اور یہ دیکھ کر مجھے شرمندگی ہو رہی تھی میر اسانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا میں نے جلدی سے نظر میں دوبارہ کتاب

پر جمالیں ۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی مرد کو دیکھا تھا ۔ میرے دماغ میں وہی منظر چل رھا تھا میں نے دوبارہ نظر میں اٹھا کر دیکھا کے شاید سر نے دھوتی سی کر لی ہو میں نے پھر نظریں جھکالی پتا نہیں کیسی کشمکش چل رہی تھی میرے اندر میں چاہ کر بھی کتاب میں دھیان نھیں لگا پارہی تھی ۔ میں ایسے

دیکھ رہی تھی کہ اچانک سر کی آنکھ کھل گئی اور مجھے اپنے جسم کو دیکھتے ھوۓ دیکھ لیا میں نے جلدی سے سر جھکالیا سر نے جلدی سے اپنی دھوتی کو ٹھیک کیا مارے شرمندگی کے میرادل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سا جاوں سر پتا نہیں کیا سوچ رہے ہونگے میرے بارے میں کہ میں کیسی لڑکی ہوں ۔

سراب مجھے غور سے دیکھ رہے تھے سر نے کہا کو نساسوال ہے جو سمجھ نہیں آرہا میں آٹھ کر سر کے پاس آکر بیٹھ گئی اور سر مجھے سوال سمجھانے لگے پر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا میرے دماغ میں مارے شرمندگی کے اور کچھ نہیں تھا ۔ سر نے سوال سمجھا کر کہا جاؤ جا کر سوال کر کے دکھاؤ میں نے سر جھکا کر کاپی پڑنی

چاہی جو انہوں نے گود میں رکھی ہوئی تھی ۔ سر نے جان بوجھ کر کاپی سائیڈ پر کر لی جسکی وجہ سے میرا ھاتھ انکے بازو سے جا ٹکرایا میراگھبرا کر ھاتھ پیچھے کرنے لگی تو سر نے میرا ھاتھ پکڑ کر اپنے بازو پر رکھ دیا ۔ گھبراہٹ کے مارے ایسا لگ رہا تھا گویا جسم میں جان بھی ناھو ۔ سر نے مجھے پکڑ کر کہا بیٹا میں آپکا استاد ہوں کوئی شوہر نہیں جو غلط حرکتیں کر رہے ہو اس لیے مہربانی کرو میں تمہاری باپ کی جگہ ہوں مجھے ایسے تنگ نہ کرو کہ میں

Categories

Comments are closed.