میں حیران تھا کہ وہ تندرست ہونے کے باوجود بھی میرے کلینک

آپ کیسے کہہ سکتے ہیں ڈاکٹر صاحب کہ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے آج آپ مجھے ٹال  کر نہیں بھیج  سکتے میں نے اتنی دیر اپنی باری کا انتظار کیا ہے باقی مریضوں کی طرح آئی ہوں جب تک آپ میری ویکسینیشن نہیں  کر یں گے میں آپ کے کمرے سے باہر نہیں جا ؤں گی وہ ہڈ دھرمی سے اپنی دونو ں کہنیاں ڈاکٹر کی میز پر جماتے ہوئے بولی ڈاکٹر نے ایک بار پھر اس لڑ کی کی پرچی پر دیکھا ستائیس سالہ   جوان لڑکی  کی آنکھوں میں ایک اجنبیت اور وحشت ضرور تھی مگر میڈیکلی وہ بالکل ٹھیک تھی وہ شاید کسی پٹھان گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اچھی جسامت تھی ایک صحت مند لڑکی تھی لیکن پچھلے کئی دنوں سے وہ روزانہ ہی ڈاکٹر سے دماغ چاٹنے آجا تی کہ میرا علا ج کر یں ڈاکٹر نے دو سے تین بار ٹالنے کی خاطر ہلکی پھلکی دوا بھی تھی مگر آج وہ جانے والی نہ تھی آپ کو تھوڑے آرام کی ضرورت بندہ روٹین سے اکتا جا تا ہے۔

کچھ دن کے لیے آفس سے چھٹی  کر لیں کسی پر فضا مقام پر چلی جا ئیں آب و ہوا بدلے گی تو بہتر محسوس ہو گا ڈاکٹر مسکر ا یا کچھ دن بعد کیا ہوگا ڈاکٹر کچھ دن بعد بھی آرام نہ آیا تو دوبارہ آ جانا ڈاکٹر زبردستی سے مسکرا  ایک دفعہ پھر  اس کو ٹالنے کے چکروں میں تھا اس کی آنکھوں کی  وحشت بڑھنے لگی آپ کو میرا مسئلہ کیوں سمجھ نہیں آرہا اس کی آواز میں تکلیف کی شدت تھی بے بس تھی وہ ڈاکٹر نے اپنی عینک  میز پر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا اچھی خاصی  لگتی ہیں آپ اور عجیب ضد ہے آپ کی خود کو بدلنے کی ویکسین بھلا ڈاکٹرز کیسے تیار کر سکتے ہیں کیوں نہیں کر سکتے ایک بیماری جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے  اس کا علاج کیوں نہیں کرتے آپ۔ آپ اسے بیماری نہیں کہہ سکتیں محترمہ  عائشہ پر انسان وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں حاصل کر تا ہےیہ تو قدرتی  مسئلہ ہے پھر اس سے گھبر ا نا کیسا اب اتنی لمبی عمر یں کہاں ہیں کہ جب ہم آدھی زندگی لگا کر کچھ حاصل کر چکے کہ احساس ہو کہ جو ہمیں چاہیے تھا۔

اور پھر یہ احساس کامیابی کی ساری  خوشیاں چھین  لیتا ہے وہ کچھ لمحے خاموش رہی پھر بولی اماں بتاتی ہے کہ ہمارے  گاؤں میں پو لیو کے بہت سارے مریض تھے اسی طرح اور بہت ساری وبائی امراض تھیں جو جان لیوا  تھیں اور پھر ترقی ہوتی گئی علاج دریافت ہو تے گئے اب کوئی  مریض نظر آتا ہے اور بعض بیماریوں پر تو سو فیصد قابوپا لیا گیا ہے آپ بہت بڑے ڈاکٹر ہیں پلیز اس احساس نامی بیماری کو کوئی نہ کوئی علاج کیجئے  تا کہ ہم جیسے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ ان ترقی یافتہ لوگوں کے ساتھ کام کر سکیں ان لوگوں کی جتنی ڈگریاں لے کر بھی ہم لوگ پیچھے کیوں رہ جاتے ہیں ہمارے چہروں پر ان جیسی مسکراہٹ کیوں نہیں آتی۔  ڈاکٹر مسکرانے لگا اچھا تو یعنی آپ احساس کو بیماری کہہ رہی ہیں  اور آپ یہ کہنا چاہ رہی ہیں  کہ آپ شہر کے لوگوں کے ساتھ صحیح طریقے سے کام نہیں کر پا رہیں۔

میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا کیوں نہیں کر پا رہیں کام کرتی ہوں کام بہت کام کرتی ہوں محنت سے ایمانداری سے لیکن احساس واقعی ہی بیماری ہے جو اتنی محنت کے بعد بھی میر ی تھکن دور نہیں ہونے دیتا  میں اسی  احساس کو دوسروں کو چہروں پر ان کے رویوں میں تلاش کر تی رہتی ہوں۔ اس احساس کو ان سے شئیر کر نا چاہتی ہوں اور جب میں ان لوگوں سے ملتی ہوں تو آپ جیسی ہی رسمی مسکراہٹ سب لوگو ں کے چہرے پر ہوتی ہے  ایک پیشہ وارانہ مسکراہٹ جس کے پیچھے خلوص نہیں  ہوتا میں کسی سے ہاتھ ملاتی ہو ں تو کوئی گرمی موجود نہیں ہوتی احساس نام کی یوں لگتا ہے کہ تمام جسموں پر ایک ہی  جیسا ایک مصنوعی چہرہ لگا ہوا ہے  مسکراتا ہوا چہرا اس مسکراہٹ میں میرا  دم گھٹ رہا ہوتا ہے  ڈاکٹر صاحب احساس اگر وبائی مرض نہیں ہے تو بہت ہی زیادہ تکلیف دہ عمل ہے ۔

یہ بات کہہ کر ڈاکٹر مسکرا یا وہ چپ چاپ اٹھی اور ماسک  اٹھا کر چل پڑی ڈاکٹر کو شاید اس کے آسانی سے جانے کی امید نہ تھی بو لا آپ یہ ماسک استعمال کر یں گی مس  عا ئشہ  وہ بغیر مڑے بو لی نہیں ڈاکٹر صاحب شاید میرا مرض اب پرانا ہو چکا ہے اور آپ کے پاس اس کا کوئی علاج نہیں ہےمگر میری چھوٹی بہن بھی اسی زندگی کو اپنا نا چاہتی ہے ابھی اس کی آنکھوں میں صرف خوف  ہے ترقی   کو حاصل کرنے کے خواب ابھی وہ ان ہنستے ہوئے چہروں سے بہت متاثر ہے۔ مگر میری طرح وہ بھی اپنے ساتھ احساس کو پلو سے باندھ کر لا ئے گی میں یہ ماسک اس کو دے دوں گی شاید وہ شروع سے استعمال کر ے  تو اسے آپ کے ہسپتال کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ پیارے دوستو! زندگی میں بہت کچھ ایسا بھی ہوتا ہے جس کو دیکھنے  کے لیے آنکھوں کی احساس کی ضرورت ہوتی ہے بے حسی شرط ہے جینے کی اور ہم کو تو صاحب احساس کی بیماری ہے۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *