میں ایک پرائیویٹ سکول میں بطور ٹیچر کام کرتی تھی ۔

انام نگہت جبین ہے میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے ۔ میں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد برائیویٹ اسکول میں بطور ٹیچر ملازمت اختیار کر لی اور بعد ازاں اسکول کے مالک افراہیم سے لو میرج کر لی ۔ میتری پسند کی شادی کرنے پر میرے والدین نے مجھ سے سارے تعلق توڑ دیے اور میرے شوہر افراہیم کے والدین نے بھی نہ صرف مجھے قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ افراہیم کو بھی دوٹوک انداز میں بتا دیا

جو لڑ کیاں اپنے گھر والوں سے اپنے والدین سے وفا نہیں کر تیںکسی اور کا ان سے وفا کی امید لگانا بیوقوفی ہے ۔ اور ساتھ ہی میرے شوہر کو واضح الفاظ میں کہا کہ اپنے والدین یا بیوی میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو ۔ میرے شوہر نے بی وفا کی تمام حدیں توڑتے ہوۓ مجھے چن لیا ۔ اور میری خاطر اپنے والدین کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ دیا ، اور مجھے لے کر دوسرے شہر کرائے کے مکان میں نتقل ہو گیا ۔ تقریبا تین سال تک ہم دونوں کے ہاں جب کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی تو مجھے اپنا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگا ۔پھر میں نے اپنے شوہر کو بہلا پھسلا کر اور محبت کے نام پر ور غلا کر سکول کی رجسٹریشن اور پیر وغیرہ اپنے نام کروا لیے ۔ اس کے بعد مجھے پتہ چلا کہ میرے شوہر کے نام پر کچھ دوکانیں اور زمین بھی ہے تو میں نے ہمت جاری رکھی اور ایک دکان بھی اپنے نام کروا لی ۔ میرا شوہر محبت کے نام پر مجھ پر اندھا اعتماد کرنے لگا ۔ اپ میری نظر باقی دکانوں پر تھی مگر ایسا نہ ہوسکا کیونکہ ابراہیم کو فالج کا اٹیک ہوا اور اس کی دونوں سائیڈز مفلوج ہو گئیں ۔

اور اس کا گردن سے نچلا حصہ بالکل ناکارہ ہو گیا ۔ اب وہ پانی پینے کے لئے بھی میر امحتاج ہو کر رہ گیا میں نے کچھ عرصہ تواس کی بی جان سے خدمت کی مگر بعد میں اس میں کمی آنے لگی ۔ یہاں تک کہ میں آخر کار اپنے پانچ شوہر سے اکتاگئی – افراہیم جب سے بستر کا ہو کر رہ گیا تھاتو اسکول کے امور بھی میرے ذمے تھے ۔اسی دوران میرے اسکول میں ایک انگلش ٹیچر کی ضرورت پڑگئی میں نے آسامی کے لئے در خواستیں طلب کیں اس کے بعد شارٹ لسٹڈلڑ کے انٹر ویو کے لئے آۓ ۔ انٹر ویو کے دوران مجھے ایک لڑکا پسند آ گیا جس کا نام فرقان تھا ۔ میں نے اسے سکول میں رکھ لیا اور بعد ازاں اس سے قربتیں بڑھانے گی ۔ یہاں تک کہ وہ بھی مجھ سے محبت کا دعوی کر بیٹھا ۔ میں نے اسے اپنے سارے حالات سے آگاہ کیا تو اس نے مجھ سے بہت ہمد ردی جتائی ۔ اور افراہیم سے طلاق مل جانے کی صورت میں مجھ سے نکاح کی حامی بھر لی ۔ جیسے ہی مجھے فرقان کی طرف سے مثبت اشارہ ملا میں نے افراہیم سے طلاق کا مطالبہ کر دیالڑ کے انٹر ویو کے لئے آۓ ۔ انٹر ویو کے دوران مجھے ایک لڑکا پسند آ گیا جس کا نام فرقان تھا ۔ میں نے اسے سکول میں رکھ لیا اور بعد ازاں اس سے قربتیں بڑھانے گی ۔ یہاں تک کہ وہ بھی مجھ سے محبت کا دعوی کر بیٹھا ۔ میں نے اسے اپنے سارے حالات سے آگاہ کیا تو اس نے مجھ سے بہت ہمد ردی جتائی ۔

اور افراہیم سے طلاق مل جانے کی صورت میں مجھ سے نکاح کی حامی بھر لی ۔ جیسے ہی مجھے فرقان کی طرف سے مثبت اشارہ ملا میں نے افراہیم سے طلاق کا مطالبہ کر دیاافراہیم نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ اس کے بعد میں نے افراہیم کو طرح طرح سے اذیتیں دے کر طلاق کے لیے مجبور کرنا شروع کر دیا ۔ میرے ہاتھوں ذلیل رسوا ہونے پر افراہیم روتا پیٹتا اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور مجھ سے گڑ گڑاتے ہوئے کہتا کہ ایک بار میرے والدین سے میری بات کروا دو تاکہ میں ان کو اپنی پیاری اور حالات سے آگاہ کر سکوں ۔ مگر میں کہتی پہلے طلاق پھر تمہاری بات- افراہیم میرا ظلم جبر سہ لیتا مگر طلاق دینے پر راضی نہ ہوتا ۔فرقان نے میری بات پر رضامندی ظاہر کر دی مگر مجھے مشورہ دیا کہ پانی کی جگہ دودھ استعمال کرو کیونکہ اگر بالفرض افراہیم کی بولنے کی قوت متاثر نہ ہو اور وہ تمہارے خلاف کچھ الٹا سیدھا بولے تو تم اپنی صفائی میں یہ کہہ سکو کہ میں نے تو اس کو خوراک کے طور پر دودھ دیا ۔

چونکہ برتن مٹی کا تھا اس لئے میں دودھ کے گرم ہونے کا اندازہ نہ لگا سکی ۔ میں نے فرقان کی بات سے رضا مندی ظاہر کی اور دودھ کو اچھی طرح ابالنا شروع کر دیا ۔جب دودھ کڑکنے لگا تو اسے ایک چینک نما بر تن میں ڈالا فرقان نے افراہیم کا سر پکڑ کر قابو کر لیا جب کہ میں نے ایک ہاتھ سے افراہیم کی ناک پکڑ کر بند کر دی افراہیم نے سانس لینے کے لئے منہ کھولا تو میں نے چینک نما کا اس بر تن کی ٹونٹی افراہیم کے منہ میں ڈال دی ۔ جس سے نہ صرف افراہیم کی زبان بلکہ معدے تک خوراک لے جانے والی نالیاں بھی جل کر رہ گئیں۔افراہیم کے منہ اور زبان پر پندرہ منٹ بعد ہی بڑے بڑے چھالے نکل آۓور د کے مارےآخر کار میں نے تمام حالات سے فرقان کو آگاہ کیا اور پھر افراہیم سے جان چٹرانے کا فائنل منصوبہ بنایا کہ چونکہ افراہیم گردن سے نچلا حصہ ہلانے سے بالکل قاصر ہے اس لئے کھولتا ہوا گرم پانی افراہیم کے منہ میں ڈال دیا جاۓ ۔ اس طرح اس کی زبان اندر سے گل ‘ جاۓ گی اور اس کے آواز والے ٹشو بھی متاثر ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد میں دعویٰ کر دوں گی کہ افراہیم نے مجھے طلاق دے دی جبکہ دوسری طرف افراہیم اپنی صفائی میں کچھ کہنے سے قاصر ہو گا ۔فرقان نے میری بات پر رضامندی ظاہر کر دی مگر مجھے مشورہ دیا کہ پانی کی جگہ دودھ استعمال کرو کیونکہ اگر بالفرض افراہیم کی بولنے کی قوت متاثر نہ ہو اور وہ تمہارے خلاف کچھ الٹا سیدھا بولے تو تم اپنی صفائی میں یہ کہہ سکو کہ میں نے تو اس کو خوراک کے طور پر دودھ دیا ۔

چونکہ برتن مٹی کا تھا اس لئے میں دودھ کے گرم ہونے کا اندازہ نہ لگا سکی ۔ میں نے فرقان کی بات سے رضا مندی ظاہر کی اور دودھ کو اچھی طرح ابالنا شروع کر دیا ۔جب دودھ کڑکنے لگا تو اسے ایک چینک نما بر تن میں ڈالا فرقان نے افراہیم کا سر پکڑ کر قابو کر لیا جب کہ میں نے ایک ہاتھ سے افراہیم کی ناک پکڑ کر بند کر دی افراہیم نے سانس لینے کے لئے منہ کھولا تو میں نے چینک نما کا اس بر تن کی ٹونٹی افراہیم کے منہ میں ڈال دی ۔ جس سے نہ صرف افراہیم کی زبان بلکہ معدے تک خوراک لے جانے والی نالیاں بھی جل کر رہ گئیں۔افراہیم کے منہ اور زبان پر پندرہ منٹ بعد ہی بڑے بڑے چھالے نکل آۓور د کے مارےبولنا تو دور افراہیم زبان کو ہلانے سے بھی قاصر تھا ۔ میں نے افراہیم کے والدین کو اس کی حالت سے آگاہ کیا افراہیم کے والدین اس وقت اپنے کچھ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ پہنچ گئے ۔ افراہیم کو ہسپتال پہنچایا تو ڈاکٹرز نے بتایا کہ کوئی گرم چیز کھانے سے منہ جبل گیا ہے ۔ میں نے بتایا کہ نیم گرم دودھ پلایا ۔ اسی دوران افراہیم کی زبان اور منہ اندر سے جل چکے تھے وہ بول کر اپنے والدین کو کچھ نہ بتا سکا بس انہیں دیکھ کر آنسو بہاتا رہا اور چوتھے دن افراہیم کی موت ہوگئی ۔افراہیم کی موت کے بعد میں نے اس کے والدین کو بتایا کہ سکول اور ایک دکان افراہیم مجھے دے چکا ہے ۔ اس کے والدین نے بنا کوئی بحث کیے ان چیزوں سے دستبر دار ہونا بہتر سمجھا اور مجھ سے قطع تعلق کر لیا ۔

میں فرقان کے ساتھ سکول کے قریب ہی ایک عمارت میں شفٹ ہو گئی اور عدت پوری کرنے کے بعد فرقان سے نکاح کر لیا ۔ فرقان نے بھی محبت کے نام پر مجھے خوب لوٹا بزنس کرنے کے نام پر مجھ سے سکول اور دکان ہتھیا لئے ۔اور شادی کے محض پانچ سال بعد مجھے یہ کہتے ہوۓ طلاق دے دی کہ اے بھانجھ عورت میں تیرے ہاتھوں افراہیم کی طرح اذیت ناک موت نہیں مر نا چاہتا ۔ میں نے لاکھ قسمیں دیں وعدے کئے مگر فرقان نے میری بات نہ سنی اور مجھے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا ۔ فرقان نے جس دن مجھے طلاق دے کر گھر سے نکالا اسی دن میر اروڈ کراس کرتے ہوۓ ایکسیڈنٹ ہو گیا اور میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ مجھے ہسپتال منتقل کیا گیا میر اعلاج ہوا مگر میں صحت یاب نہ ہو سکی ۔مجھے ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا اور میرا کوئی وارث نہ پا کر مجھے گورنمنٹ کی طرف سے بناۓ کئے دار الامان بھیج دیا گیا ۔ میں آج بھی دارالامان کے کمرے میں فرش پر پڑے ایک گدے پر لیتی ہوں ۔ میں اپنی مدد آپ کے تحت سائیڈ نہیں بدل سکتی , بہت ٹائم تک ایک ہی سائیڈ بستر پر رہنے کی وجہ سے میرا جسم نیچے سے گرنا شروع ہو چکا ہے ۔

پچھلے تین چار دنوں سے مجھے محسوس ہو رہا ہےجیسے میرے جسم پر زخم بن چکے ہیں ۔ اب میں بھی موت کا انتظار کر رہی ہوں کہ کب مجھے موت آۓ اور میری اس عذاب سے جان چھوٹ جاۓ , مگر شاید میرا نشان عبرت بنا ابھی باقی ہے ۔ میں اپنی کہانی کے زریعے عورتوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ شوہر تمہارا مجازی خدا ہے جس طرح اللہ تعالی کے سوا کسی کو شریک ٹھرانا گناہ کبیرہ ہے ۔ اس طرح شوہر کے ہوتے ہوۓ غیر محرم سے تعلق رکھنا بلکہ غیر محرم کو ارادتا دیکھنا بھی گناہ کبیرہ ہے

Categories

Comments are closed.