میں اور میرا دوست لڑکیوں کے ساتھ رات گزارنے کے لئے

یرا نام عرفان احمد ہے اور میرے والد صاحب ایک بہت بڑے کار و باری انسان تھے ۔ جب میں نے ان کے کاروبار کو سنجالا , تو کار و بار کو مزید بڑھا دیا ۔ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے چھ مزید یونٹ لگوا دیے ۔ مگر پھر لوڈ شیڈ نگ شروع ہو گئی جس کی وجہ سے میں نے بھی باقی تاجروں کی طرح اپنا کاروبار بنگلہ دیش میں شفٹ کر لیا ۔ بنگلہ دیش میں

لے میں نے ایک آدمی کے ساتھ پارٹنر شپ شروع کر لی , پھر ہم دونوں نے بزنس کے ساتھ ساتھ عیاشی بھی شروع کر دی ۔ جب برما میں حالات خراب ہوۓ تو بہت سارے مہاجرین برما سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش آ گئے ۔ ایک دن میرے بزنس مین بنگالی دوست نے مجھ سے کہا کہ مہاجر کیمپ میں بہت ہی خو بصورت لڑ کیاں آئی ہیں , چلو وہاں چلتے ہیں ۔

لے میں بھی بنگالی دوست کے ساتھ چل پڑا اور ہم دونوں مہاجر کیمپ جا پہنچے ۔ ہماری گاڑی کو رکتے دیکھ کر بہت ساری لڑ کیاں , عور تیں اور مرد لیکے , لیکن میرے بنگالی دوست نے سب کو جڑک کر پیچھے ہٹا دیا ۔ اس کے باوجود بھی ایک لڑ کی جس کا منہ آگ میں جلنے کی وجہ سے مجلس چکا تھا , وہ میری طرف آ پہنچی ۔ اس نے ڈیڑھ سال کا معصوم

بچہ پڑا ہوا تھا , جو کہ رشتے میں اس کا بھائی تھا ۔ پھر اس نوجوان لڑکی نے انتہائی معصومانہ انداز میں کہا کہ صاحب بی میرا چہرہ آگ میں حجلس گیا ہے ، لیکن میں نیچے سے بالکل ٹھیک ہوں , چاہو تو آپ تسلی کر لو ۔ صاحب آپ مجھے لے چلوں میں تیار ہوں ، مجھے پیسے اور سامان نہیں چاہیے ۔ بس آپ مجھے پیٹ بھر کر روٹی کھلا دینا اور

لے میرے بھائی کے لیے دودھ خرید دینا ۔ نہ جانے کیوں میں لڑ کی کی بات سن کر لرز اٹھا , میرے سامنے وہاں بہت سارے لوگ گاڑیوں میں آ کر نوجوان لڑکیوں کو لے جارہے تھے یہاں تک کہ عرب اور یورپ کے باشندے بھی شامل تھے ۔ میں نے اپنے بنگالی دوست سے ان عرب اور یورپ کے باشندوں کے بارے میں پو چھا ! تو وہ بتانے لگا کہ یہ عرب لوگ یہاں

سے گھریلو ملازمہ کے نام پر لڑکیاں لے کر جاتے ہیں اور وہاں ان کا جنسی استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے گھریلو کام بھی لیتے ہیں ۔ جبکہ یورپی باشندوں کے بارے میں بنگالی دوست نے بتایا کہ یہ لوگ لڑکیوں کو لے جا کر خود استعمال کرنے کے بعد آگے چ دیتے ہیں , یا کسی کلب میں رکھوا کر ان سے پیسے کماتے ہیں ۔ بنگالی دوست کی

یہ بات سن کر میں اندر تک لرز گیا اور مجھے خیال آیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اتنا دولت مند امتی ہوں اور مجھے سب کچھ ان کے صدقے اور وسیلے سے ملا ہے میرے پاس اتنی دولت ہونے کے باوجود میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی بیٹیاں روٹی کے عوض اپنا جسم چ رہی ہیں اور گناہ کبیرہ کر رہی ہیں تو

میں کس منہ سے روز محشر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت کے طلب کروں گا ۔ میں طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے واپس آ گیا ۔ پھر اسی وقت میں نے چند ایماندار لوگوں کی ایک کمیٹی بنائی ۔ اور بنگالی دوست کا حصہ الگ کرنے کے بعد اپنا سارا کار و بار اللہ کی راہ میں برما کی مہاجرین کے لیے عطیہ کر دیا ۔ اور اس سے آنے والی رقم سے لوگوں ک

کھانا فراہم کرنے کا حکم دے کر میں کپڑوں کے ایک جوڑے میں پاکستان واپس آ گیا ۔ الحمد اللہ میرے دونوں بچے پڑھ لکھ کر لندن اور امریکہ میں سیٹ ہو چکے ہیں ۔ اور انہوں نے کبھی مجھ سے میرے فیصلے کے بارے میں نہیں پوچھا ۔ بلکہ وہ مجھے ہر مہینے مخصوص رقم بیجھتے ہیں جو میں اللہ تعالی کی راہ میں صدقہ خیرات کر دیتا ہوں

Categories

Comments are closed.