میرے پاس کلاس کے ایک بچے کی والدہ نے

میرے پاس کلاس کے ایک بچے کی والدہ نے کافی مرتبہ لکھ کر بھیجا کہ بچہ گھر میں بات بلکل نہیں مانتا بہت بدتمیزی کرتا ہے گالی گلوچ کرتا ہے اور مجھ پر ہاتھ بھی چلاتا ہے, میں نے بچے کو نصیحت کی سمجھایا اور وعدہ لیا کہ آئندہ ایسی شکایت نہ آئے,

پرسوں اسی بچے کی والدہ خود آئی اور بچے کی شکایت لگائی کافی رو رہی تھی کہ بچہ مجھے اپنی ماں سمجھتا ہی نہیں آگے سے بہت غلیظ اور گندی گالیاں دیتا ہے اور مارتا بھی ہے اس کے باپ کو بتاتی ہوں تو مجھے ہی ڈانٹتے ہیں اس عورت کو تسلی دی نصیحت کی اور اس بچے کے والد کو آنے کا کہا,

اس کا والد آیا تو میں نے اسے کہا آپ کا بچہ مدرسہ میں اتنا اچھا اور معیاری ہے گھر میں اتنا ضدی اور بدتمیز کیوں ہے؟

والد نے لاعلمی کا اظہار کیا میں نے پھر بچے کی والدہ کا بتایا کہ یہ ان کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے بات نہیں مانتا گالیاں دیتا ہے,

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیوی کو بچوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں گالیاں دیتے ہیں بُرابھلا کہتے ہیں اور اس کا بہت بُرا اثر بچوں پر پڑتا ہے

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مرد حضرات بیوی کو بچوں کے سامنے گالیاں دیتے ہیں بچوں کے سامنے لڑنا جگھڑنا شروع کر دیتے ہیں اور مرد حضرات بیویوں پر زیادہ غالب ہوتے ہیں گالیاں دیتے ہیں تو بچوں کے دلوں سے ماں کی عظمت اور تقدس نہیں ہوتا, بچے کے دلوں سے ماں کی قدر ختم ہو رہی ہوتی ہے,

میرا اپنا مشاہدہ ہے جن ماں باپ کی بچے عزت نہیں کرتے اس میں زیادہ قصور ماں باپ کا اپنا ہوتا ہے تھوڑی تھوڑی بات پر بچوں کے سامنے لڑنا جگھڑنا شروع ہو جاتے ہیں, بچے لاشعوری طور پر نفرت سیکھ رہے ہوتے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچوں کے سامنے جو بات ہو بچے ایک دم سے اس کا اثر لیتے ہیں,

اس لئے اگر آپ دونوں میں کوئی مسئلہ ہے تو الگ سے حل کریں لڑنا جگھڑنا ضروری ہے تو کمرے میں بند ہو کر لڑ لیں ایک دوسرے کو گالیاں دے لیں بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں مت کریں آپ کے بچے آپ کی وجہ سے خراب ہوں گے بعد میں گلا کریں گے…

حامد حسن سعدی

Categories

Comments are closed.