میرے استاد نے جر منی سے تعلیم حاصل کی وہ کہتے ہیں

میرے استاد نے جر منی سے تعلیم حاصل کی وہ کہتے ہیں کہ شام کو میں آفس میں نو کری بھی کرتا تھا جس آفس میں کا م کرتا تھا اس آفس میں میرے ساتھ والے کاؤنٹر پہ ایک لڑکی بیٹھتی تھی ایک دن وہ دیر سے آفس پہنچی اور بہت پریشان دکھائی دے رہی تھی میں نے پو چھا کیا کوئی مشکل در پیش ہے کہتی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ مکان میں رہتی ہوں میرے والد  مجھ سے بہت زیادکرایہ وصول کرتے ہیں کچھ دنوں سے ایک آدمی نے انکو زیادہ کرایہ آفر کر دیا ہے رہنے کے لیے میرے باپ نے کہا کہ گھر میں رہنے کے لیے یا تو تم بھی کرایہ بڑ ھا و یا پھر میں دوسرے آدمی سے معا ملات نمٹا دیے دیتا ہوں میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری سالانہ ترقی آنے والی  ہے۔

اس کے بعد میں بھی زیادہ کر  ایہ آپ کو دینے لگوں گی دور وز پہلے میرے والد آئے اور کہا کہ میں نے اس آدمی کے ساتھ معا ملات طے کر لیے ہیں۔ لہٰذا تم اب اپنے لیے رہنے کی جگہ کا انتظام کسی اور جگہ کر دو مجھے نئے مکان کا بندوبست کر کہ سا مان شفٹ کر نا پڑا جس کی وجہ سے میں بہت تھکی ہوئی ہوں اور پریشانی کے حالت میں آفس پہنچی ہوںَ اب آتے ہیں ہم اپنے اسلامی معاشرے کی طرف ایک مغربی معاشرہ جہاں باپ اور بیٹی  میں کتنی محبت ہوتی ہے۔  اور دوسری طرف اسلام کی بر کتیں تو دیکھیں کہ اسلام نے بیٹی کو جہنم کی آگ سے پروانہ قرار دیا ہے۔

جب بیٹی شادی کر کہ اپنے گھر سے رخصت ہوتی ہے باپ اپنی بیٹی کو اپنی زندگی بھر کی ساری کمائی تو پہلے ہی پیش کر چکا ہوتا ہے پھر اس موقع پر باپ کے آنکھوں سے آنسو بھی آرہے ہوتے ہیں ماں بھی رو رہی ہوتی ہے بھائی اور بہنیں بھی روتی ہے کہ بہن آج جا رہی ہے۔ وہ منظر بتا تا ہے کہ دلوں میں پیار ہے دلوں میں محبتیں باقی ہے اتنا پیار دنیا میں بیٹی کو کہاں نصیب ہوا تھا جو آج اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی وجہ سے ایک باپ اپنی بیٹی کو پیش کر رہا ہوتا ہے۔ اب آپ ان دونوں میں فرق خود کر سکتے ہیں۔

ایک تیس سالہ نوجوان اپنی ماں کو لیڈی ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے لا یا نوجوان کی ماں چیک اپ کے لیے بیٹھنے کی بجائے اٹھ اٹھ کر شرارتیں کر نا اور بھا گنا چاہتی تھی وہ بار بار اپنی چادر اتار پھینکتی لیکن اس کا بیٹا پیار کے ساتھ اسے بہلا تا اور اس کی چادر درست کر دیتا۔ اس دوران اس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ پر کاٹ بھی لیا اور اس کے چہرے پر ما را لیکن اس کا بیٹا مسکر ا تا رہا اور بہت پیار سے اپنی ماں کا دھیان رکھتا رہا اور ڈاکٹر کو ماں کے مرض و تکلیف کی بابت بتا تا رہا ڈاکٹر نے اس لڑ کے سے پو چھا کہ یہ عورت کون ہے تو اس نے جواب دیا ، میری ماں تب ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اس کی یہ حالت کب سے ہے۔

Categories

Comments are closed.