میری نند اتنی بہادر اور دلیر ہو سکتی ہے تواس نے کھڑکی میں سے چھلانگ لگا دی اور باہر کو چلی گئی

یں شہر میں رہا کرتی تھی میری شادی جب سے گاؤں میں ہوئی تھی میری زندگی میں عجیب و غریب واقعات پیش آرہے تھے ۔ پہلا حادثہ تو یہ ہوا کہ میرا شوہر ملک سے باہر کمانے کی غرض سے چلا گیا ۔ اب میں اپنے گھر میں اکیلی تھی ۔ سسرال میں مجھے کوئی پہچانے والا , سہارا دینے والا کوئی نہیں تھا ۔ میں بس اپنی مدد آپ چل رہی تھی ۔ ایک رات کا ذکر ہے کہ میں اکیلی اپنے کمرے میں سونے کی تیاری کر رہی تھی

کہ مجھے باہر کسی کے قدموں کی آواز آئی ، یہ آواز اتنی واضح تھی کہ میرے ذہن پر ایک خوف سوار ہو گیا ۔ اس کے بعد میں سونے کے لئے لیٹ گی مگر پھر بھی میرا دماغ خوف کے زیر اثر رہا ۔ فجر تک مجھے نیند نہ آئی اس کے بعد نہ جانے کب میری آنکھ لگی ۔ میں ابھی ایک گھنٹہ ہی سوئی تھی کہ میری ساس نے میرے کمرےکا دروازہ بجایا بہو ابھی تک سو رہی ہو ۔ ان کی آواز سن کر میں چونک گئی مجھے تو سوۓ ہوۓ ابھی ایک ہی گھنٹہ ہوا تھا ۔ میں آنکھیں ملتی باہر آئی وہ میری سرخ آنکھیں دیکھ , کر حیران رہ گئی کیا ہوا بیٹی سب خیریت تو ہے نہ و تب میں نے انہیں سب بتا دیا کہ رات کو کسی کے قدموں کی آواز سن کر میں ڈر گئی تھی ۔ ہاں بیٹی یہ ،گھر ہی اتنا بڑا ہے کہ اچھے خاصے انسان کو ڈر لگنے لگتا ہے تم ایسا کرو کل سے اپنی نند کے کمرے میں سو جاؤ آخر وہ تمہاری بہنوں کی طرح ہے ، یہ بات مجھے عجیب سی لگی اپنی بیٹی کی بجاۓ وہ اسے میری نند کہہ رہی تھی اچھا ٹھیک ہے میں کل سے ساریہ کے کمرے میں سو جاؤں گی میں نے خوش دلی سے سر ہلایا اور آ کر ناشتہ بنانےلگی ۔

ابھی تک ساریہ سو کر نہیں اٹھی تھی اماں نے اسے جگایا ۔ ہم سب نے ناشتہ کیا اور پھر وہ کالج چلی گئی ۔ دن بھر میں نہیں سوچتی رہی کہ آخر رات بھر وہ آواز میں کس چیز کی آ رہی تھیں میں نے اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کیا ۔ شام ہوئی تو میں یہ بات بھول گئی مگر رات کو سونے سے پہلے مجھے یاد آیا کہ اماں جی نے مجھے ساریہ کے کمرےمیں سونے کا کہا تھا ۔ میں نے ساریہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ اس نے دروازہ کھولا تو اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار تھے کیا ہوا بھابی خیریت تو ہے ناو اماں جی نے مجھے کہا تھا کہ میں تمہارے کمرے میں میں سو جاؤں میں ، نے ساریہ سے کہا بھابی میں آپ کو اپنے کمرے میں نہیں سونے دے سکتی میں رات دیر تک پڑھتی ہوں کمرے کی بتی چلتی رہتی ہے آپ کو نیند نہیں آۓ گی ۔ساریہ کی اس بات پر میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا نہیں ساریاں کوئی بات نہیں مجھے نیند آ جاۓ گی ۔ میں ہر طرح ، میں مجھے ڈر کے ماحول میں سو میں ہوں بس اپ کے لگتا ہے تم فکر نہ کرو میں تمہیں ذرا بھی ڈسٹرب نہیں کروں گی میری بات پر ساریہ نے ایک بار پھر منہ بنایا اور بولی ٹھیک ہے بھابھی کل سے آپ میرے کمرے میں سو جائے گا ۔

نہیں ساریہ میں آج بھی اپنے کمرے میں نہیں سو سکتی کل رات میں نے عجیب سی آواز میں باہر والی راہداری میں سنی تھیں اس کے بعد سے میرا من نہیں کر ں رہا کہ میں اپنے کمرے میں جا کر سو جاؤں اور میں وعدہ کرتی ہوں تمہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں چلی گئی تاکہ اپنا بستر وغیر ہ لا کر ساریہ ےکے کمرے میں ڈال دوں لیکن جب میں کمبل وغیرہ لے ۔ کر واپس آئی تو ساریہ دروازہ بند کر چکی تھی مجھے بہت برا لگا میں اپنے کمرے میں جا کر سو گئی مگر رات بھر وہی ہوتا رہا عجیب سی آواز نے میرا دل ہلا کر رکھ دیا ۔

اگلی صبح ساس نے پوچھا تو میں نے وہی شکایت کر دی ۔ ان سے کہا کہ ساریہ نے اپنے کمرے میں مجھے جگہ نہیں دی ۔ اس ، نے سامیہ کو ڈانٹ دیا اور بولا کل سے تم اسے اپنے ساتھ سلاؤ گی ۔ اب مجھے شکلیت کا موقع نہ ملے ، اب ساریہ کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا ۔ رات کو اس کے کمرے میں میں نے اپنی جگہ بنا لی اور کمبل تان کر سو گئی ۔ رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا کہ ساریہ کو پیاس لگی اس نے مجھے ہلا کرجگایا اور بولی بھابی بات سنیں مجھے بہت پیاس لگ رہی ہے ایسا کر میں میرے لیے جا کر پانی کا گلاس لے آئیں ۔ بہت پیاس لگ رہی ہے طبیعت میں گھٹن محسوس ہو رہی ہے ۔ ساریہ کی بات سن کر میں فورا گھبرا گئی کیا ہوا سار یہ تم نے رات کو کیا کھایا تھا ۔ بھابی ڈاکٹر میں ہوں آپ نہیں جائے میرے لیے جا کر پانی لے آئیں ، ساریہ نے کہا توجائے میرے لیے جا کر پانی لے آئیں ، ساریہ نے کہا تو میں شرمندہ سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی دروازے سے باہر جاتے میں نے دیکھا کہ ساریہ غصے بھری نگاہوں سے مجھے ۔ گھور رہی تھی ۔ خیر میں پانی لینے چلی گئی پانی لے کر جیسے ہی میں نے دروازے پر آ کر دروازہ بجایا تو یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دروازہ اندر سے بند تھا ۔سار یہ دروازہ کھولو میں اس وقت کہاں جاؤں گی میں نے ہلکی سی آواز میں کہا گھر میں زیادہ شور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے خاموشی سے ہلکی ہلکی دستک دے رہی تھی مگر ساریاں نے دروازہ نہیں کھولا ،

میری تو جیسے خوف کے مارے جان ہی نکل گئی رات کے اندھیرے میں گھر بھی اتنا کھلا تھا کہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتے ، ے ہوئے ڈر لگتا تھا مگر کیا کرتی پورے دس منٹ ساریہ کےکمرے کے باہر کھڑی رہی مگر اس نے جواب نہیں دیا مجبوری میں ڈرتے ڈرتے اپنے کمرے کی طرف بڑھی ۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے کوئی میرے کمرے میں پہلے سے موجو ہو ۔ میں نے باہر کی راہ داری کی روشنی چلائی اچھی طرح سے اپنے کمرے میں دیکھ کر اندر گئی اور پھر دروازے کو کنڈی لگائی بیڈ پر لیٹے کافی دیر یوں ہی گزر گئی رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا کہ شور سے میری آنکھ کھل گئی بالکل ویسا ہی شور مجھے محسوس ہوا تو گھبراہٹ سر پر طاری ہو گئی ۔ ڈر کے مارے میں اپنے بستر میں ہی رہی کافی دیر گزر گئی ں اور شور آنا بند ہو گیا اب مجھے اطمینان تھا میں واپس سونے کے لیے لیٹ گئی اور صبح کو میری آنکھ کھلی مگر اب میں نے تہیہ کر لیا کہ ساریہ کی اس چلا کی میں نہیں آؤں گی ۔ آخر وہ مجھے اپنے کمرے میں سونے ، کیوں نہیں دیتی ۔ میں نے نہ ہی ساس سے گلہ کیا اور نہ ہی ساریہ سے اس بات کا شکوہ کیا لیکن پھر رہا نہ گیا ۔ اگلے دن ساریہ مجھ سے کہنے لگی بھابی رات کو میں نے آپ کو پانی لینے بھیجا تھا اس کے بعد نہ جانے اب کہاں چلی گئی میں آپ کا انتظار کرتی رہی ,

ساریہ کی بات سن کر میری حیرتکی انتہا نہ رہی لوگ بھی کتنے منافق اور جھوٹے ہوتے ہیں ۔ خیر کیا کہہ سکتی تھی ۔ میں نے خاموشی اختیار کر لی ۔ اگلی رات میں پھر ساریہ کے کمرے میں سو گئی ، رات کو پھر وہی تماشا ہوا اس نے مجھے پانی کے لیے جگایا میں نے ساریہ سے وعدہ لیا کہ وہ دروازہ بند نہیں کرے گی لیکن اس نے پھر وہی حرکت کی دروازہ بند کر دیا اور جب میں آئی تو مجھےاپنے کمرے میں جا کر سونا پڑا ۔ اب میں نے سوچ لیا تھا کہ میں ساریہ کو پانی دینے نہیں اٹھوں گی ۔ اگلے دن میں نے خوش اسلوبی سے کام لیا ۔ ساریہ سے کسی بات کا گلہ نہیں کیا اسی طرح دن گزر گیا اور رات کو میں اس کے کمرے میں سو گئی ، رات کے ٹھیک دو تین بجے اسنے مجھے ویسے ہی جگایا دیار بولی کہ بھائی گھبراہٹ ہو رہی ہے میرے لیے ذرا پانی تو لے آؤں مگر اب کی بار میں نے آنکھ نہیں کھولی اور سونے کی بھر پور اداکاری کی ۔ ساریہ رات بھر مجھے جگانے کی کوشش کرتی رہی مگر میں نے بھی آنکھ نہ کھولی ۔ وہ سمجھ گئی کہ میں اٹھنے والی نہیں ہوں اور پھر اس نے مجھے دو تین بار اونچی آواز میں پکارا میں نے جواب نہ دیا تو اسے یقین ہو گیا کہ میں سو رہی ہوں ، تب وہ دھیرے سے اٹھی اپنے کمرے کی الماری کھولی جس کی چابی اس نے اپنے پاس رکھی ہوئی تھی ۔ الماری سے ایک گھٹڑی نکال کر دوبارہ مجھ پر نظر ڈالی اور پھر کمرے کی کھڑکی کھول کر پہلے ادھر ادھر دیکھا اور پھر اس نے کھڑکی میں سے چھلانگ لگا دی اور باہر کو چلی گئی ۔ یہ دیکھ کر میرے تو پسینے چھوٹ گئے یا خدا یا لڑکی رات ے کے وقت کہاں جا رہی ہے ، اسے کچھ تو معلوم ہونا چاہیےکہ یہ گھر کی عزت ہے بھائی پر دیس کمانے کئے ہیں تاکہ یہ اپنی تعلیم مکمل کر سکے اور اسے دیکھو کیا چکر چلا رہی ہے ۔

ایک لمحہ تو میرا دل چاہا کہ میں جا کر اپنی ساس کو بتا دوں کہ ساری رات کو کسی سے ملنے گئی ہے مگر پھر ا با توان سوچا کہ اس میں ہم بھی کی بدنامی ہے ، پہلے میں ساریہ کو خود سمجھا کر دیکھو گی میں ابھی بستر میں لیٹی ہی تھی کہ دوبارہ کھٹڑ کی کھلنے کی آواز آئی میں نے اٹھ کر کھٹڑ کی بھی بند نہیں کی تھی شاید میں بہت ڈر گئی تھی کہ ساریہ کی وجہ سے خاموش ہی لیٹی رہی ۔ پھر دیکھا تو ساریہ کھٹڑ کی سے اندر آ رہی تھی ۔ اس نے وہ گھٹڑی ویسے ہی الماری میں بند کی اور پھر حالی اپنے پاس رکھ کر سو گئی ۔

میں حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی ساریہ تو بڑی دلیر نکلی , اب میری سمجھ میں آیا کہ ساریہ مجھے رات کو پانی کے بہانے سے باہر کیوں بھیجتی تھی ۔ پھر میں چپ ہو گئی میرے ہاتھ میں ایک سراغ تو آ ہی گیا تھا اگلے دن ساریہ کے کمرے میں سونے سے پہلے میں نے اسے سختی سے منع کیا کہ وہ رات کو مجھے جگایا نہ کرے میری نیند میں خلل پڑتا ہے ۔اگر پانی پینا ہے تو خود جنگ میں ڈال کر یہاں رکھ لے بلکہ میں نے خود ہی پانی ڈال کر اس کے ٹیبل کے پاس رکھ دیا ۔ اب ساریہ کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا کہ وہ مجھے جگا ۔ سکے رات کے اس پہر وہ دوبارہ اپنے بستر سے اٹھی اور و الماری میں جھانکنے لگی میں مکمل طور پرالرٹ ہو چکی تھی میرے کان اسکی آہٹ پر لگے ہوئے تھے ۔ اس نے بالکل ویسے ہی کھٹڑ کی کھولی اور باہر کود گئی ۔ میں حیرت سے اسے دیکھے جارہی تھی پھر مجھ سے صبر نہ ہوا میں بھی دھیرے سے اپنے بیڈ سے اتری اور ساریہ کی طرف کھٹڑ کی سے کود گئی ۔ اس کی اونچائی زیادہ نہیں تھی یہ گھر کی پچھلی طرف کھلتی تھی میرے پاؤں میں جوتے اد بھی نہیں تھے ایک پاؤں میں بہت چبھن ہو رہی تھی ۔اس پاس کانٹے اور چھوٹی چیزیں میرے پاؤں میں چب کر تکلیف دے رہی تھی مگر ساریہ شائد پہلے سے انتظام کر اد کے آئی تھی ورنہ وہ اتنی تیز رفتاری سے نہ چلتی میں دیکھ رہی تھی کہ ساریہ کافی تیز تیز قدم اٹھاتی آگے کی جانب بڑھ رہی تھی ۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی ۔

اگرچہ مجھے ڈر لگ رہا تھا مگر پھر میں نے سوچا کہ اگر میری نند اتنی بہادر اور دلیر ہو سکتی ہے تو مجھے کیا مسئلہ ہے ، جبکہ میں توحق سچ کی تلاش میں جا رہی ہوں ، اس کی عزت بچانا چاہتی ہوں ، تھوڑی دور جا کر ساریہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا مگر خدا کا شکر ہے کہ اس کی نظر مجھ پر نہ پڑی ۔ یہ ایک پرانا باغ کی تھا ساریہ نے چھوٹی سی دیوار عبورکی اور اندر چلی گئی ۔ وہاں جا کر اس نے نہ جانے کیا کیا وہ زمین پر بیٹھ کر مٹی کھودنے لگی میرے پاؤں میں سے جان نکلتی محسوس ہوئی میں نے اور کچھ نہ کیا اور الٹے قدم وہاں سے واپس آگئی ۔ اب میں سوچنے لگی کہ ساریہ کو قابو کیسے کروں ، پھر بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں ایک خیال آیاد میں ساری حقیقت جانا چاہتی تھی ۔ چونکہ گھر کے سارے دروازے بند تھے اس لیے ساریہ کے آنے جانے کا واحدراستہ کھٹر کی تھی ۔ میں نے وہ کھٹر کی جہاں سے ساریہ نکل کر باہر گئی تھی اسے اندر سے بند کر دیا اور خود پاس ہی بیٹھ گئی میں ساریہ کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ، تقریبا ایک گھنٹے بعد مجھے ساریہ کے آنے کی آہٹ محسوس ہوئی ۔

میں چو کئی کر بیٹھ گئی ساریہ نے ہلکے سے کھٹڑ کی کھولنے کی کوشش کی مگر کھٹڑ کی اندر سے بند تھی تھی میں نے سرگوشی کی آواز میں کہا ساریہ مجھے تمہاری حقیقت کا اندازہہو گیا ہے لیکن جب تک مجھے تم ساری بات نہیں بتاؤ گی میں کھٹڑ کی نہیں کھولوں گی صبح تیک تم گھر سے باہر رہو گی ۔ نہ تو تمہارے گھر والے تمہارے بارے میں کیا سوچیں گے اس کا اندازہ تم خود ہی لگا لو میری بات پر ساریہ غصے میں آگئی ، بھائی تم پاگل تو نہیں ہو گئی ۔ جلدی دروازہ کھولو مجھے اندر آنا ہے سردی لگ رہی ہے ، ساریہکی جلد بازی بتا رہی تھی کہ وہ بھی خوفنردہ ہے ، مگر میں نے صاف انکار کر دیا کہ میں کھڑ کی نہیں کھولوں گی جب تک وہ مجھے ساری بات نہیں بتا دیتی , بھابی تم ایک بار کھٹر کی تو کھولو اندر آ کر تمہیں ساری بات بتاتی ہوں ۔ اب وہ میری منتیں کرنے لگی پھر میں نے اس سے قسم لی کہ وہ مجھے ساری بات سچ سچ بتاۓ گی تب میں نےکھٹڑ کی کھول دی ۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی کھڑکی سے اندر داخل ہوئی اور مجھے غصے سے دیکھنے لگی ۔ بھابی خدا کا خوف کرو مجھ پر شک کرو گی میں پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہوں مجھے اپنے بھائیوں کی کمائی کا احساس ہے میں کوئی غلط کام کرنے نہیں گئی یہ کہتے ہوۓ ساریہ الماری کی طرف بڑھی اور وہ گھڑی رکھنے لگی میں نے وہ گھٹڑی اس کےہاتھ سے پکڑ لی اور کہنے لگی کہ مجھے ساری بات بتاؤ جیسا کہ تم نے وعدہ کیا تھا ورنہ میں اماں جان کو سب بتا دوں گی میری دھمکی پر وہ ڈر گئی اچھا بیٹھو میں تمہیں سب بتاتی ہوں گھٹڑی میں کیا ہے یہ بھی دکھا دوں گی

یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب میڈیکل کالج میں میرا پہلا سال تھا ۔ پہلے ہی دن لڑکوں نے مجھے تنگ کرنےکی کوشش کی ۔ آپ تو جانتی ہیں میں بات بات پر ڈر جاتی ہوں شاید میری یہی معصومیات ایک وڈیرے کے بیٹے کو پسند آگئی بس پھر کیا ہوا وہ تو میرے پیچھے ہی پڑ گیا میں و ا نے اس سے جان چھڑوانے کی بہت کوشش کی مگر میں جہاں بھی جاتی وہ مجھے وہاں پہلے سے ہی کھڑا ملتا ۔ کچھ دنوں کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ شکاری اور میں اس کا شکار ہوں ۔ اب میں جتنی بھی کوشش کر لیتی ہے اسسے بچ کر نہ جاتی ۔ ایک دن میں نے اس سے منت کی کہ خدا کے لئے میرا پیچھا چھوڑ دو میرے بھائی پردیس میں ہیں وہ میرے لئے پیسے کماتے ہیں میری فیس بھیجتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں کالج آ کر ایسی باتیں کروں میری بات پر وپ خوب ہنسا اور کہنے لگا کہ میں تمہاری جان چھوڑ دوں گا لیکن اس کے لیے پہلے تمہیں مجھ سے ایک ملاقات کرنی ہو گی تاکہ میں اپنی محبت کا اظہار کر سکوں ، فکر نہ کرومیں کسی اکیلی تنہا جگہ پر تمہیں کچھ نہیں بولوں گا تم ایک بڑے ہوٹل میں آ جانا جہاں سب لوگ کھانا کھاتے ہیں کرو میں تمہیں مجھ سے ملور بات اپنے دل کا حال بتاؤں , اگر میں تم کو معقول آدمی نہ لگا تو مجھے چھوڑ دینا میں کچھ بھی نہیں کہوں گا ۔ مجھے اس کی یہ تجویز پسند آئی ، سوچا کہ شاید ایک بار مجھ سے ملنے کا خواہشمند ہو ۔ مقررہ دن پر میں اسی ہوٹل میں چلی گئی جہاں اس نے مجھے بلایا تھا میں اس لیے بے فکر تھی کہ اس ہوٹل ۔ میں میں پہلے بھی جا چکی تھی ۔

اکثر یہاں پر دو تین سو لوگ بیٹھے ہوتے تھے اس لئے ڈر والی کوئی بات نہیں تھی ۔ ہم نے ہوٹل کے دوسرے فلور پر ملنا تھا جہاں پر تقریبا تین چار سو کر سی اور میز لگے ہوتے تھے ۔ مقررہ وقت پر میں نیب کے ساتھ وہاں پہنچ گئی ۔ میں نے غیب سے کہا کہ ہم نیچے بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں وہ کہنے لگا ۔ وہ پھر وہاں زیادہ لوگ ہوں گے ہم آرام سے بات نہیں کر سکیں گے ۔ یہاں تو دو چار لڑکے ہی بیٹھے ہیں ایسے اچھا نہیں لگتا کہ میں اپنی عزت کو بازاروں میں رسوا کروں , اس کی یہ فلمی لائن مجھے بڑی پسند آئی ۔ اوپر جا کر میں نے جب دیکھا وہاں تو پورا مال خالی تھا ایک بھی آدمی وہاں موجود نہیں تھا اوردروازے پر بھی کوئی نہیں تھا ۔ اب مجھے ڈر کا احساس ہوا ۔ میں نے کہا منیب یہ تم مجھے کہاں لے آۓ یہاں تو کوئی نہیں ہے کیا تم نے یہ حال بک کروایا ہے ۔ غیب نے ہاں میں سر ہلایا اور ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نظر آگئی تم مجھے اس لیے یہاں لاۓ ہو ۔ میں نے غصے اور نفرت سے اسے دیکھا اس نے مجھے آگے بڑھ کر رسوا کرنے کی کوشش کی تو میں نے اس کے منہ پر تھوک دیا ۔ اس بات پر وہ غصے سے تلملا اٹھاد میں جلدی سے باہر بھاگی دروازہ کھول کر ایک قدم آگے ہی رکھا تھا کہ اس نے مجھے بازو سے کھینچ کر اندر کرنا چاہا ۔ اتنے میں ایک لڑکا وہاں آ گیا نہ جانے کیسے وہ فرشتہ بن کر اوپر آیا اس نے منیب کو گریبان سے پکڑا اور مجھے اس سے آزاد کروایاد میں اس کی شکر گزار ہوئی اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہی نے آگئی ۔ غیب کی نیت پتہ چلنے کے بعد میری آنکھوں سے آنسو ہنے لگے پھر میں گھر آگئی ۔ اس دن میرا کالج میں دل نہیں لگا ۔ میں اپنے اس محسن کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ جس نے مجھے منیب کے عذاب سے بچایا تھا ۔ پھر تین دن بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ ہمارے ہی کالج میں پڑھتا ہے اور یہ کہ اسے میرے اور منیب کے معاملاتکا بھی پتہ تھا تھی

وہ میرا مچپ کر پیچھا کرتا تھا ۔ جب میں بات مجھے معلوم ہوئی تو میں اس کی بہت شکر گزار ہوئی اس کا نام احسان تھا میں نے اس سے مل کر اس کا شکریہ ادا کیا مجھے احسان کی یہ بات بھی پسند آئی کہ اس نے ملنے پر بھی مجھ سے اظہار محبت نہیں کیا اور خاموشی سے میرا حق ادا کر دیا ۔ پھر اس بات کی خبر جلد ہی منیب کو ہو گئی ۔ منیب اثر ورسوخ والا لڑکا تھا اس نے اپنے اثر ورسوخ کواستعمال کرتے ہوئے احسان کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ اس کی جان لے لیتا مگر وہ ایسا نہ کر سکا یہاں تک کہ ہمارا آخری سال آ گیا ۔ اب نیب نے اپنی کمینگی دکھانا شروع کر دی ۔ پورے سال کا اجر ہمیں ملنا تھا جب ہمارے ایک پروفیسر نے احسان کو ایک ایسا تجربہ کرنے کو دیا جسے ہمارے لئے کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔ منیب نے اپنے اثر ورسوخ سے ایسا حال بچھایاکہ احسان کم از کم ہے اس تجربے میں فیل ہو جائے اور اسے پروفیسر کے سامنے ذلت اٹھانی پڑے , اس تجربے کے لیے ہمیں انسانی ہڈیوں سے ڈانچہ بنانا تھا جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں سے ملیں گی ۔ احسان نے بہت کوشش کی مگر نیب کے ۔ اثر ور سوخ کی وجہ سے یہ ممکن نہ تھا ۔ کالج کے اس پاس -اس کی جان پہچان بہت تھی اس لیے احسان کو ہر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاد ایسے میں میں نے اس کا ساتھ دینے کی ٹھان لی کیونکہ اس نے ایسے وقت پر میری مدد کی تھی جب میں بالکل بے بس تھی ۔

میں نے پرانی قبروں کی تلاش شروع کر دی مجھے کسی نے بتایا کہ یہاں پاس ہی جو باغ ہے وہ جنوں بھوتوں کے حوالے سے مشہور ہے اور وہاں پر انسانی ڈھانچے اکثر پڑے نظر آتے ہیں ۔ اس بات نے مجھے ہمتدی تھی میں دن کو تو یہ کام نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یہ جگہ بھی کالج کے پاس ہے ، منیب کی نظر پڑتی تو وہ میرے ب لیے ایک اور ہی مشکل کھڑی کر دیتا ۔ اس لئے میں نے سوچا کہ میں یہ کام رات کے اندھیرے میں کروں گی ، میں دن کو جگہ کا تعین کر لیتی اور رات کو وہاں پہنچ جاتی , آج کچھ کچھ آخری چیز رہ گئی تھیں جو میں نے مکمل کر لی ہیں ۔ یہ دیکھو اب سب کچھ پورا ہو گیا ہے اس نے خوشی سے اپنیلٹھڑی کھول کر مجھے دکھائی تو میں حیران رہ گئی میں نے اسے سونے کا کہہ دیا اور خود اپنے بستر پر آ کر لیٹ گی ، پھر وعدہ کیا کہ میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گی میری نند کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد میں نے اپنی کوشش کے ساتھ اس کی شادی احسان سے کروا دی کیونکہ یہ بات سچ ہے جو لوگ ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہوں ان کے درمیان نہیں آنا چاہیے ، مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ساریہ اور احسان کو ملانے میں کچھ نہ کچھ ہاتھ تو میرا بھی ہے اللہ میری نند کو ہمیشہ خوش رکھے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *