میری شادی کو اکیس سال گزر گئے تھے

میری شادی کو اکیس سال گزر گئے تھے ، آج میرکے بیوی چاہتی تھی کہ میں کسی اور عورت کو باہر رات کے کھانے کے لئے لے کر جائوں ، میری بیوی نے کہا کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے لیکرج وہ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ دوسری عورت بھی مجھ سے محبت کرتی ہے اور وہ عورت بہت خوش ہوگی اگر میں اسے ساتھ کچھ وقت گزاروں گا ، وہ عورت جس کا ذکر میری بیوی کر رہی تھی وہ اور

کوئی نہیں میری امی تھیں ، وہ انیس سال پہلے بیوہ ہو چکی تھیں لیکرج میر اکام اور پھر میرے تین بچے میرے لئے بہت بڑی ذمہ داری تھے کہ میں بمشکل ہی اپنے ان سے مل پاتا تھا ، اس رات میں اپنی ای کو کال کیے اور انھیں کھانے لیئے مد عو کیا ، انھوں نے مجھ سے پو چھا کہ میں ٹھیک تو ہوں کیونکہ آج سے پہلے میں نے کبھی ان کے لئے شاید ایسے وقت نہ نکالا تھا ، میںنے کہا کہ میں

اج کے ساتھ کچھ وقت گزار نا چاہتا ہوں وہ یہ کہے کر بہت خوش ہوئیں کیونکہ اتنے سال بعد انھیں اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا ، جمعے کے درج آفس سے فارغ ہو کر میں انھیں لینے کیلئے پہنچا میں کچھ کھبرا رہا تھا کو نکہ کچھ بھی ہواتنے سال بعد اپنی ای سے ملنے میں بھی مجھے کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی ، جب میں پہنچا تو میری ان ہی انتظار کر رہی

تھی ، وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگیں ۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے اپنے سب دوستوں کو بتا یا کہ آج ارب کا بیٹا صرف ارج کے لئے وقت نکال کر انھیں کھانے پر لے جارہا ہے ، یہ سن کراج کے سب دوست بہت متاثر ہوۓ ، ہم ایک ریسٹورینٹ پہنچے وہاں کا ما حول بہت خوشگوار اور اچھا تھا ، بیٹھنے کے بعد مجھے مینیو پڑھنا تھا کیونکہ اب ای تو صرف وہی لفظ پڑھ پارہی

تھیں جو بڑے حروف تھے میں نے جب ای کے طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہیں تھیں ، ان کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی ، انھوں نے مجھے کہا کہ وہ ہمیشہ مجھے مینیو پڑھ کر سناتی تھیں جب میں چوٹھا تھا میں نے اب سے کہا کہ آج وہ مجھے اس موقع سے مستفید ہونے دیں ، کھانے کو دوران ہم نے بہت ساری باتیں کیں ، ایک دوسرے کی زندگیوں کے بارے میں بات

چیت کے جب ہم گھر پہنچے توانھوں نے مجھے کہا کہ میں سے تمہارے ساتھ دوبارہ جائوں گیے لیکن اس دفعہ میں تمہیں مد عو کر وں گے میں رانی ہو گیا ۔ جب میں گھر پہنچاتو میری بیوی نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری ملاقات کیے رہی ہمیں نے کہا بہت اچھی میری سوچ سے بھی زیادہ نچی ، پچھ درج بعد اچانک میری ای کو ہاٹ اٹیک آیا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ، یہ

سب اتنا اچانک ہوا کہ مجھے ان کے لیے کچھ کرنے کا موقع ہی نہ ملا ، کچھ دن بعد مجھے ایکا لفافہ موصول ہوا ، اس میں اس ریسٹورینٹ کی رسید کے کاپیے تھی ساتھ ہی ایک خط بھی تھا جس میں لکھا تھا کہ میں نے ایڈوانس میں کا بل جمع کروادیا ہے مجھے پتہ نہیں کہ میں وہاں ہو گی یا نہیں لیکن پھر بھی میں نے دولو گوں کے لئے جمع کروایا ہے ایک تمہارے لئے اور ایک تمہاریبیوی کے لئے اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس راس کی میرے لئے کتنی اہمیت ہے ، میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں میرے پیارے بیٹے ۔اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وقت پر پیار کا اظہار کر نا کتا ضروری ہے اور خاص کر اپنی فیمیلی کو وقت دیا جس کے وہ حقدار ہیں ، زندگی میں فیمیل سے زیادہ ضروری کچھ بھی نہیں ہے ، میری

آپ کے لئے یہی نصیحت ہے کے اپنے فیملی کو وقت دیں کیونکہ اس وقت کو پھر بھی کے انتظار میں نہیں چھوڑا جاسکتا پھر شاید کبھی وقت تو ہو پروہ نہ ہو جسے اس وقت کی ضرورت تھی ۔۔۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *