مکہ کے اردگرد کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے مقیم تھے ان ہی میں سے ایک قبیلہ بنوعراش تھا ۔

مکہ کے اردگرد کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے مقیم تھے ان ہی میں سے ایک قبیلہ بنوعراش تھا ۔ایک شخص جو کہ بنو عراش قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اس کے پاس کوئی مستقل روزگار نہ تھا اور نہ ہی وہ اعلیٰ درجے کا کوئی تاجر تھا تاہم اس دور میں کیونکہ تجارت کا پیشہ خاصہ اہم ہوا کرتا تھا لہٰذا اس نے بھی ویسا ہی کیا وہ اپنے پاس موجود رقم کے مطابق اپنے قبیلے سے مویشی خریدتا اور مکہ چونکہ بڑے بڑے سردار وہاں موجود تھے تو انہیں لاکر بیچ دیا کرتا تھا اور اپنی قیمت خرید سے کچھ پیسے اضافی منافع حاصل کر لیتا۔ یہ کام اس کا معمول بن چکا تھا وہ اکثر جانور مکہ کے بازار میں لا کر بیچتا۔کسی بدبخت اسے یہ بھی کہہ رکھا تھا کہ نعوذباللہ یہاں پر ایک جادوگر ہے بس تم اس کے بہکاوؤں سے بچ کر رہنا ،اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔اب اس تاجر کے لئے یہ جگہ نئی تھی اس لئے اس نے اس بتانے والے شخص کا یقین کر لیا اور مزید کوئی سوال نہ کیا۔

ایک دن وہ تاجر اپنے ہمراہ دو بہترین اونٹ فروخت کے لئے لایا لیکن اس کی بدقسمتی کہ اس دن اس سے وہ اونٹ ابوجہل خرید لیے اور جب قیمت ادا کرنے کی باری آئی تو کہنے لگا کل میرے گھر آ کر پیسے وصول کر لینا تاجر نے کہا میں آپ کا گھر کہاں تلاش کروں گا؟ ابوجہل نے اسے اپنے گھر کا راستہ سمجھا دیا۔ خیر وہ بے چارہ مرتا کیا نہ کرتا، ابوجہل کی ظالمانہ سرداری کا کچھ علم تو تھا ہی اس لیے اس نے زیادہ زور نہیں دیا اور اگلے روز قیمت لینے پر راضی ہو گیا ۔مکہ میں اس تاجر کا کوئی نہ تھا ،نہ کوئی گھر، نہ ٹھکانا ،رات اس نے گلیوں میں گزاردی ۔اگلی صبح وہ ابو جہل کے گھر پہنچا ،دروازے پر دستک دی ابوجہل باہر آیا، اسے دیکھ کر اس شخص نے اپنی قیمت کا تقاضا کیا تو کہنے لگا ابھی میرے پاس پیسے نہیں ہیں تم کل آ جانا ۔وہ تاجر بہت ما یو سو کر آگیا ۔اگلے روز بھی ایسا ہی ہوا ،خیر تین دنوں تک ابو جہل کے دروازے پر جاتا رہا لیکن ابوجہل نے اس کی قیمت ادا نہیں کی۔ اسی طرح تین دن گزر گئے۔ چوتھے روز وہ ابو جہل کے دروازے پر گیا اور بات کو ذرا زور دے کر کہا جناب میں تین دن سے بھوکا ہوں اور گلیوں میں رات بسر کر رہا ہوں میں یہاں پر بیگانہ ہوں میرا یہاں اپنا کوئی نہیں ہے میرے پاس واپسی کا ذریعہ بھی نہیں ہے مہربانی فرمائیے اور میرے جانوروں کی قیمت دے دیں۔ ابو جہل جو تھا ہی بے ایمان ، دل کی بات زبان پر لے آیا کہنے لگا چل دفع ہو جا یہاں سے میں تمہیں تمہارے پیسے نہیں دوں گا جس سے ملے لے لینا ۔

وہ تاجر تو جیسے حواس باختہ ہو گیا۔ تین دن کے مسلسل انتظار اور بھوکے پیٹ کے ساتھ اس کی محنت کے پیسوں کی ادائیگی سے اس کو کورا جواب مل گیا ۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں آس پاس کے لوگوں سے پوچھنے لگا کوئی مجھے بتا دو کہ مکہ کے سردار کہاں ملیں گے تاکہ میں ان سے شکایت کروں شاید وہ میری مدد کریں۔ اسے بتایا گیا کہ خانہ کعبہ میں چلے جاؤ مکہ کے سردار وہیں پر موجود ہوں گے۔ وہ پوچھتا پوچھتا خانہ کعبہ کے پاس آ گیا ۔وہ تاجر کہتا ہے کہ میں حرم شریف میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک ٹولی میں ابوسفیان، عتبہ، شیبہ اور دیگر سردار بیٹھے ہیں میں ان کے پاس گیا اور کہنے لگا مجھے آپ لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے میں پردیسی ہو یہاں جانور فروخت کرنے آیا تھا لیکن ایک شخص نے مجھ سے جانور تو لے لیے مگر اب میرے پیسے نہیں دیتا ،عتبہ نے گرج کر کہا کون ہے جو تمہارے پیسے نہیں دیتا مجھے بتاؤ میں اسے دیکھتا ہوں تاجر کہتا ہے کہ میں نے کہا اب کہ اس کا نام ابو جہل ہے۔ وہ سب خاموش ہو گئے، ان کی گردنیں جھک گئیں اور کہنے لگے کہ تم بہت برے آدمی کے ہاں پہنچ گئے ہو ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہم سے بھی زیادہ طاقتور سردار ہے۔ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی میں کانپنے لگا کہ اب میں کیا کروں میرے پاس تو اب کچھ بھی نہیں۔ اب وہ تاجر کہتا ہے کہ عتبہ نے مذاق کیا اور کہا کہ وہ جو کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ہے اس کے پاس جاؤ وہ تیرا مسئلہ حل کروا سکتا ہے۔ لیکن یہ کہتے ہی وہ سب سرداران ہنسنے لگے۔ تاجر کہتا ہے کہ میں حیران ہوا کہ مجھے ان کے پاس جانے کو بھی کہتے ہیں اور میرا مذاق بھی کرتے ہیں میں کروں تو کیا کروں لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ۔

اب وہ تاجر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب چل پڑا ۔وہ آپ کو نہیں پہچانتا تھا لہٰذا اس نے آپ کووظائف پڑتے دیکھا تو ایک طرف بیٹھ گیا یہ سوچ کر کہ جب آپ فارغ ہوں گے تو وہ عرض کرے گا مگر سبحان اللہ شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسے ہی وہ آدمی پیچھے آ کر بیٹھا آپ نے اپنا رخ اس کی طرف پلٹ لیا اور صرف دو باتیں کہیں فر مایا پردیسی لگتے ہو اور پریشان معلوم ہوتے ہو وہ تاجر کہتا ہے کہ مجھے ایسا لگا کہ جیسے مجھے میری بچھڑی ماں مل گئی ہو ،ان کی شفقت اور پیار کی دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو کی لڑیاں بہہ نکلی، جیسے ہی میری آنکھوں سے آنسو نکلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ میرا نام پوچھا اور کام بلکہ میرے کندھے پر تھپکی دی اور فرمایا فکر نہ کر تو جیسے کہے گا تیرا کام ہو جائے گا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا بازو تھاما اور مجھے گھر لے آئے ، ایک ٹوٹی چٹائی پر مجھے بٹھا دیا اور میرے لیے اپنے مبارک ہاتھوں سے ایک پیالے میں کھجور اور دودھ پیش کیا۔ میں تین دن کا بھوکا تھا میں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ جب کھا چکا تو مجھ سے فرمانے لگے اب مجھے بتاؤ تمہارا مسئلہ کیا ہے، میں نے سارا ماجرا بیان کرڈالا وہ فرمانے لگے فکر مت کرو وہ خود تمہارے پیسے دے گا ۔

مجھے اپنے ہمراہ لے آئے اور ابو جہل کے دروازے پر پہنچے دستک دی دروازہ کھلا سامنے ابوجہل تھا۔اسی لمحے میں نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی جھکی ہوئی نظروں کو اٹھتے ہوئے دیکھا، ابوجہل سامنے کھڑا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بس ایک جملہ ادا کیا مگر اس جملے میں کیا طاقت تھی کہ ابو جہل لرز گیا۔ حضور نے فرمایا ابوجہل تیرا کیا خیال ہے کہ پیسے دبانے والے اور لوگوں کو ستانے والے بڑے سردار ہوتے ہیں ؟غریبوں کا خون چوس کر سردار بنے گا ؟لا جلدی اس کے پیسے لوٹاؤ ۔ابوجہل کی ٹانگیں کانپنے لگی اور کہنے لگا جی میں ابھی اس کے پیسے دیتا ہوں ۔اس کے اونٹوں کی قیمت ابوجہل نے ادا کی اور یہ واقعہ اس تاجر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا سبب بننا جس کو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیانی کرکے بدظن کر دیا گیا تھا، تاجر کو اس کے پیسے مل گئے۔جب وہ جانے لگا تو اس نے پوچھا اے مہربان انسان آپ کون ہے اور آپ کا نام کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑئیے جناب آپ کا کام ہو گیا آپ جائیے۔ وہ تاجر کہتا ہے کہ میں جیسے ہی پلٹا مجھے راستے میں مکے کا وہی آدمی ملا جس نے مجھے بتایا تھا کہ مکہ میں ایک جادوگر رہتا ہے۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا ارے بھائی تم اس جادو گر کے پاس کیسے پھنس گئے ہو، یہ تو وہی جادو گر ہے جو اپنے آپ کو نبی مانتا ہے۔ تاجر کہتا ہے کہ میں نے اس آدمی کا ہاتھ جھٹک کر کہا ارے بدبخت میں نے دنیا دیکھی ہے مگر میں نے آج تک ان جیسا نہیں دیکھا۔ اس کے بعد تاجر پلٹ کر حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاتا ہے،ان کے پاؤں سے لپٹ جاتا ہے اور کہتا ہے میں اقرار کرتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول اور نبی ہیں ،مجھے بھی اپنے دین مین شامل کر لیجیے ۔

اس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو کلمہ پڑھاتے ہیں اور وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔اس واقعہ میں ہم سب کے لیے بہت بڑا سبق موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ کیا وہ آدمی اپنے پیسوں کے ملنے کی وجہ سے مسلمان ہوا ؟نہیں بلکہ اس کے پیسے مل چکے تھے وہ جانے والا تھا لیکن جس چیز نے اس کے دل پر اثر کیا وہ تھے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق،آپ کا اعلیٰ کردار اور آپ کی بے پناہ شفقت۔ یہی وہ چیز تھی جس نے اس کے دل کو پگھلایا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔تاریخ اسلام پر اگر نظر دوڑائیں تو کسی بھی آدمی پر زبردستی نہیں کی گئی، کسی کو بھی زبردستی مسلمان نہیں کیا گیا بلکہ جتنے لوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے جتنے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور ان کے پیچھے وجہ صرف ایک تھی، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق ۔اس لیے قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ ہم نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کیا ہے ۔ نماز، روزہ، حج اور تمام نیکیاں اپنی جگہ لیکن جس انسان کے اندر اخلاق نہ ہو اس کے لیے ساری نیکیاں کوئی معنی نہیں رکھتی اس لئے اپنے اخلاق کو بلند کیجئے یہی وہ چیز ہے جو آپ کو لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.