مکہ میں ابو سفیان بہت پریشان تھا آج کچھ ہونیوالا ہے طبیعت گھبرا رہی ہے میں ذرا گھوم کر آتا ہوں

مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ، آج کچھ ہونے والا ہے وہ بڑبڑایا اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رہی تھی ۔اسکی بیوی ہندہ جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئی تھی کیا بات ہے کیوں پریشان ہو ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں طبیعت گھبرا رہی ہے میں ذرا گھوُم کر آتا ہوں وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باہر نکل گیا. مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھااچانک اسکی نظر شہر سے باہر ایک وسیع میدان پر پڑی ، ہزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرہی تھی

اور بھ۔نب۔ھ۔ناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رہے ہوں اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ہیں اتنا تو وہ سمجھ ہی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائی کےلیئے ہی آیا ہےوہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون ھیں وہ آہستہ آہستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھاکچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھایہ اسکے اپنے ہی لوگ تھے جو مسلمان ہوچکے تھے اور مدینہ ہجرت کرچکے تھےاس کا دل ڈوب رھا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ھےاور یقیناً حضرت محمد ﷺ اپنے جانثاروں کیساتھ مکہّ آپہنچے تھے وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تل۔وار رکھ دیاسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھااور اب اسے بارگاہ محمّدﷺ میں لےجا رھے تھے اسکا ایک ایک قدم کئی کئی من کا ہو چکا تھاھر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرھے تھے جنگ بدّر ، احد ، خندق ، خیبر سب اسکی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھیں۔

اسے یاد آرھا تھا کہ اس کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا حضرت محمد ﷺ کو ق۔ت۔ل کرنے کیلئےنعوذ بااللہ کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ یہ مسلمان ہمارے غلام اور باغی ہیں انکو ہمیں واپس دو کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہؑ چاک کرکے انکا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ہار بنا کر ڈالے تھےاور اب اسے اسی حضرت محمد ﷺ کے سامنے پیش کیا جارھا تھا اسے یقین تھا کہاسکی روایات کے مطابق اُس جیسے دھشت گرد کو فوراً تہہ تیغ کردیا جائے گا ۔اُدھر بارگاہ رحمت للعالمین ﷺ میں اصحاب ؓ جمع تھے اور صبح کے اقدامات کےبارے میں مشاورت چل رھی تھی کہ کسی نے آکر ابوسفیان کی گرفتاری کی خبر دے دی اللہ اکبر خیمہؑ میں نعرہ تکبیر بلند ھواابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی خیمہ میں موجود عمر ابن الخطاب اٹھ کر کھڑے ہوئے اور تل۔وار کو میان سے نکال کر انتہائی جوش کے عالم میں بولے ۔ اس بدبخت کو ق۔ت۔ل کردینا چاھیئے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رہا ہے چہرہ مبارک رحمت للعالمین ﷺ پر تبسّم نمودار ہوا اور انکی دلوں میں اترتی ہوئی آواز گونجی بیٹھ جاؤ عمر ۔ اسے آنے دو عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گئے لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رھی تھی

کہ انکا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کر ڈالتے۔ اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ھاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ہوئے تھے. چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی اور اسکی آنکھوں میں موت کے سائے لہرا رھے تھےلب ہائے رسالت مآبﷺاور اصحاب ؓ نے ایک عجیب جملہ سنا اسکے ھاتھ کھول دو اور اسکو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ہارے ہوئے جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ہوا تو نظر اٹھا کر خیمہ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھاعمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھی ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اسکے لیئے افسوس کا تاثر تھاعثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ہمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھاعلی ابن ابوطالبؑ کا چہرہ سپاٹ تھااسی طرح باقی تمام اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظرحضرت محمد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھہر گئی جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کیساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراھٹ تھی کہو ابوسفیان کیسے آنا ہواابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ہی نہیں ہی تھی بہت ہمت کرکے بولا میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں عمر ابن خطاب ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے یارسول اللہ ﷺ یہ شخص مکّاری کررہا ہے ، جان بچانے کےلیئے اسلام قبول کرنا چاھتا ہے ، مجھے اجازت دیجئے ، میں آج اس دشمن ازلی کا خاتمہ کر ہی دوں انکے منہ سے کف جاری تھا بیٹھ جاؤ
عمر رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا بولو ابوسفیان ۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاہتے ہو۔ جی یا رسول اللہ ﷺ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں، میں سمجھ گیا ہوں کہ آپؐ اور آپکا دین بھی سچّا ہے اور آپ کا خدا بھی سچّا ہے ، اسکا وعدہ پورا ہوا ۔ میں جان گیاھوں کہ صبح مکہّ کو فتح ھونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا چہرہ رسالت مآبﷺ پر مسکراہٹ پھیلی ۔ ٹھیک ہے ابوسفیان تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ھوں جاؤ تم آزاد ھو ، صبح ہم مکہّ میں داخل ہونگے انشاء اللہ میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ہمارے خلاف سازشیں ہوتی رہیں ، جائے امن قرار دیتا ہوں، جو تمہارے گھر میں پناہ لےلے گا وہ محفوظ ہے ۔ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رہی تھیں اور مکہّ والوں سے کہنا جو بیت اللہ میں داخل ہو گیا اسکو امان ہے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ہے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رہا اسکو امان ہے ،جاؤ ابوسفیان جاؤ اور جاکر صبح ہماری آمد کا انتظار کرواور کہنا مکہّ والوں سے کہ ہماری کوئی تل۔وار میان سے باہر نہیں ہوگی ۔

ہمارا کوئی تیر ترکش سے باہر نہیں ہوگا. ہمارا کوئی نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ہوگا جب تک کہ کوئی ہمارے ساتھ لڑنا نہ چاہے ابوسفیان نے حیرت سےحضرت محمد ﷺ کی طرف دیکھا اور کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بولنا شروع اشھدان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمد عبدہ و رسولہ ۔سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑھے اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ہمارے دینی بھائی ہو گئے ، تمہاری جان ، مال ہمارے اوپر ویسے ہی حرام ہوگیا جیسا کہ ہر مسلمان کا دوسرے پر حرام ہے ، تم کو مبارک ہو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرمائے ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رہا تھا یہ وہی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کیلئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاہتا تھااب وہی اسکو گلے سے لگا کر بھائی بول رہا تھا یہ کیسا دین ہے یہ کیسے لوگ ہیں سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہؑ سے باہر نکل گیا وہ دہشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے

انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ہوا جارھا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ہر فرد ، ہر جنگجو ، ہر سپاہی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کےدشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کر رہے تھے ، اسے مبارکباد دے رہے تھے ، خوش آمدید کہہ رہے تھے ۔ اگلے دن مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا. مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ہوچکا تھاکسی ایک تل۔وار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھالشکر اسلام کو ہدایات مل چکی تھیں کسی کے گھر میں داخل مت ہونا کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا. کسی کا پیچھا مت کرنا۔ عورتوں اور بچوں پر ھاتھ نہ اٹھاناکسی کا مال نہ لوٹنا. بلال حبشئ آگے آگے اعلان کرتا جارھا تھا مکہّ والو رسول خدا ﷺ کی طرف سے آج تم سب کیلئے عام معافی کا اعلان ہے ۔کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جائے گی، جو اسلام قبول کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے جو نہ کرنا چاہے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ھے سب کو انکے مذہب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ہوگی

صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ہوگی کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جاۓ گا کسی کو اسکی اراضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جاۓ گا غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گےاے مکہّ کے لوگو ۔ھندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رہی تھی اسکا دل گواہی نہیں دے رہا تھا کہ حضرت حمزہ کا ق۔ت۔ل اسکو معاف کردیا جاۓ گالیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ اسلام قبول کرلو سب غلطیاں معاف ھوجائیں گی مکہّ فتح ہوچکا تھا. بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہائے ، بنا تیر و تل۔وار چلائے ،لوگ جوق در جوق اس آفاقی مذہب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ہورہے تھےاور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا اس ہجوم میں ہندہ بھی شامل تھی ۔یہ ہوا کرتا تھا اسلام یہ تھی اسکی تعلیمات یہ سکھایا تھا میرے رسول اللہ ﷺنے۔

Categories

Comments are closed.