موٹاپے کی وجہ سے بیماریوں میں مبتلا افراد

بڑھا ہوا وزن محض انسان کی شخصیت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ مختلف بیماریوں مثلا امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول وغیرہ کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے ۔ وزن کم کرنے کی بہت سی ادویات بازار میں دستیاب ہیں لیکن اگر آپ ادویات کے سائڈ افیکٹس کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تو گریلو ٹوٹکوں کی مدد سے باآسانی بڑھتے وزن پر قابو پا سکتے ہیں ۔کھانے کے کم سے کم 20 منٹ بعد ایک کپ سبز چائے پئیں۔ سبز چائے میں موجود اجزاءجسم سے اضافہ چربی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکے استعمال سے جسم میں سے موجود زہریلے مادے بھی خارج ہو جاتے ہیں۔لیموں کا رس بھی وزن کم کرنے کے لئے بہترین ہے۔

لیموں کے چند قطرے ایک چمچ شہد میں ملا کر ایک گلاس نیم گرم پانی میں مکس کر کے روزانہ صبح خالی پیٹ پی لیا جائے تو بڑھا ہوا وزن دیکھتے ہی دیکھتے کم ہو جائے گا۔کھانے میں دارچینی اور ادرک کا استعمال بڑھا دینے سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ گرام کالا زیرہ،50 گرام لاک دانہ، 50 گرام کلونجی، 50 گرام اجوائن کے پتے ان سب اجزا کو اچھی طرح پیس کے مکس کر لیں، ایک چائے کا چمچ ناشتے سے پہلے اور ایک چائے کا چمچ رات کے کھانے کے بعد 40دن تک استعمال کریں۔اگر آپ خصوصاًکمر کی چربی کم کرنا چاہتے ہیں تو پانی زیادہ سے زیادہ پیا کریں۔ پانی خون میں شامل ہوتا ہے اور چکنائی کے سالمات کوپگھلاتا ہے۔ایک برتن میں ایک چمچ شہد، چند کالی مرچیں اور پودینہ ڈال کر5 منٹ تک ابالیں اور پھر چھان کر یہ قہوہ پی لیں۔

پودینہ معدے کے جملہ امراض کو دورکرتا ہے جبکہ شہد اور کالی مرچ جسم کی زائد چربی کو ختم کرے گیوزن کم کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اگر انسان کڑی ورزش اور سخت ڈائٹنگ کے ذریعے وزن کم کر بھی لے تو اس کے سنگین مضراثرات بھی ساتھ آتے ہیں اور سالہا سال تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔تاہم اب ایک معروف ڈاکٹر نے وزن کم کرنے کا ایک ایسا بہترین طریقہ بتا دیا ہے جس پر عمل کرنے سے آپ کا وزن بھی کم ہو جائے گا اور آپ کی صحت پر اس کے کوئی مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوں گے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ڈاکٹر مائیکل گریگر ہیں جنہوں نے ڈائٹ اور موٹاپے پر کی جانے والی سینکڑوں تحقیقات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ طریقہ وضع کیا ہے۔ ڈاکٹر مائیکل کہتے ہیں کہ اگر آپ وزن کم کرنے جا رہے ہیں تو کبھی بھی ناشتہ کرنا مت چھوڑیں کیونکہ کئی تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے۔

کہ ناشتہ چھوڑ دینے سے موٹاپے پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور اس سے انسان نقاہت اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ وزن کم کرنے لیے یہ بات زیادہ معاملہ نہیں رکھتی کہ ’آپ کیا کھاتے ہیں‘ ۔ اس کی بجائے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ’آپ کب کھاتے ہیں‘۔ آپ صبح کے وزن جو کیلوریز لیتے ہیں وہ وزن بڑھانے یا کم کرنے پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس آپ شام کے وقت جو کیلوریز لیتے ہیں وہ اس حوالے سے بہت اہم ہوتی ہیں اور آپ کے وزن میں کمی یا زیادتی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے دن کا ایک بھرپور کھانا رات کی بجائے ناشتے کے وقت کھائیں تو سب سے زیادہ بہتر ہو گا۔ آپ دوپہر کے وقت بھی یہ بڑا کھانا کھا سکتے ہیں۔ شام کے وقت انتہائی کم کیلوریز لیں۔

Categories

Comments are closed.